🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. في مسير عائشة وعلي وطلحة والزبير ﵃
سیدہ عائشہ، سیدنا علی، سیدنا طلحہ، اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہم کے سفر کے بارے میں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 38986 ترقیم الشثری: -- 40635
٤٠٦٣٥ - حدثنا خالد بن مخلد قال: (حدثنا) (١) يعقوب عن جعفر بن ابي المغيرة عن ابن (ابزى) (٢) قال: انتهى عبد الله بن بديل إلى عائشة وهي في الهودج يوم الجمل، فقال: يا ام المؤمنين! انشدك بالله، اتعلمين اني اتيتك يوم قتل عثمان فقلت: إن عثمان قد قتل فما تامريني؟ فقلت لي: الزم عليا، فوالله ما غير ولا بدل، فسكتت ثم (اعاد) (٣) عليها ثلاث مرات، (فسكتت) (٤) ، فقال: اعقروا الجمل، فعقروه، ⦗٥١٣⦘ قال: فنزلت انا واخوها محمد بن ابي بكر (فاحتملنا) (٥) الهودج، حتى وضعناه بين يدي علي، فامر به علي فادخل في منزل عبد الله بن (بديل) (٦) (٧) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (أخبرنا).
(٢) في [ع]: (أبزا).
(٣) في [أ، ب]: (دعا)، وفي [س]: (عاد).
(٤) في [أ]: (فسكظيت).
(٥) في [هـ]: (واحتملنا).
(٦) في [أ، ب]: (وائل).
(٧) حسن؛ خالد صدوق، وانظر: فتح الباري ١٣/ ٥٧.

ابن ابزی سے منقول ہے کہ عبداللہ بن بدیل حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس پہنچے وہ ھودج میں تھیں جنگ جمل کے دن پھر عرض کیا اے ام المومنین آپ کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا آپ جانتی ہو کہ میں آپ کے پاس اس دن حاضر ہوا تھا جس دن حضرت عثمان کو شہید کیا گیا تھا۔ میں نے آپ سے عرض کیا تھا کہ حضرت عثمان شہید ہوگئے اب آپ مجھے کیا حکم دیتی ہیں تو آپ نے فرمایا تھا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو لازم پکڑو۔ اللہ کی قسم وہ بدلے نہیں پس حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا خاموش ہوگئیں پھر یہی بات عبداللہ بن بدیل نے تین دفعہ دہرائی پس وہ خاموش رہیں۔ عبداللہ بن بدیل نے اونٹنی کی کونچیں کاٹنے کا حکم دیا تو اونٹنی کی کانچیں کاٹ دی گئیں پس میں اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھائی محمد بن ابوبکر اترے اور ان کے ھودج کو اٹھا کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سامنے رکھ دیا۔ پھر ان کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حکم سے عبداللہ بن بدیل کے گھر میں داخل کردیا۔ جعفر بن ابو مغیرہ کہتے ہیں کہ میری پھوپھی عبداللہ بن بدیل کے ہاں تھیں۔ وہ بیان کرتی ہیں کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے فرمایا مجھے اندر داخل کردو پس میں نے انہیں اندر داخل کردیا اور میں نے ان کو ایک سفلچی (ہاتھ وغیرہ دھونے کا برتن) اور جگ ان کے پاس رکھ دیا اور دروازہ بند کردیا۔ کہتی ہیں کہ میں دروازے کی دراڑوں میں سے دیکھ رہی تھی کہ وہ اپنے سر کا علاج کر رہیں تھیں میں نہیں جانتی کہ ان کے سر میں کوئی زخم تھا یاتیر کا زخم۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40635]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40635، ترقيم محمد عوامة 38986)


Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 40635 in Urdu