🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. باب ما ذكر في صفين
جنگ صفین کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 39028 ترقیم الشثری: -- 40681
٤٠٦٨١ - حدثنا يحيى بن آدم قال: حدثنا ابن عيينة عن عاصم بن كليب الجرمي عن ابيه قال: إني لخارج من المسجد إذ رايت ابن عباس حين جاء من عند معاوية في امر الحكمين فدخل دار سليمان بن ربيعة فدخلت معه. فما زال (يرمي) (١) إليه (برجل) (٢) ثم رجل بعد رجل: يا ابن عباس كفرت ⦗٥٣٠⦘ واشركت (ونددت) (٣) ، قال (الله) (٤) في كتابه كذا، و (قال الله) (٥) كذا وقال الله كذا حتى دخلني من ذلك، قال: ومن هم؟ هم والله السن الاول اصحاب محمد، هم والله اصحاب البرانس والسواري. قال: فقال ابن عباس: انظروا اخصمكم واجدلكم واعلمكم بحجتكم فليتكلم، فاختاروا رجلا اعور يقال له: (عتاب) (٦) من بني (تغلب) (٧) ، فقام فقال: قال الله كذا، (وقال الله كذا) (٨) ، كانما ينزع بحاجته من القرآن في سورة واحدة. قال: فقال ابن عباس: إني اراك قارئا للقرآن عالما بما قد فصلت ووصلت، انشدكم بالله الذي لا إله إلا هو، هل علمتم ان اهل الشام سالوا القضية فكرهناها (وابيناها) (٩) ؟ فلما اصابتكم (الجراح) (١٠) وعضكم الالم ومنعتم ماء الفرات (١١) انشاتم تطلبونها. ولقد اخبرني معاوية انه اتي بفرس بعيد البطن من الارض (ليهرب) (١٢) عليه (ثم) (١٣) اتاه آت منكم، فقال: إني تركت اهل العراق يموجون مثل الناس ليلة النفر بمكة، يقولون مختلفين في كل وجه مثل ليلة النفر بمكة. ⦗٥٣١⦘ قال: ثم قال ابن عباس: انشدكم بالله الذي لا إله إلا هو، اي رجل كان ابو بكر؟ فقالوا: (خيرا) (١٤) واثنوا، (فقال: عمر بن الخطاب؟ فقالوا: خيرا واثنوا) (١٥) ، فقال: افرايتم لو ان رجلا خرج حاجا او معتمرا فاصاب ظبيا او بعض هوام الارض فحكم فيه احدهما (وحده) (١٦) (١٧) اكان له والله يقول: ﴿يحكم به ذوا عدل﴾ [المائدة: ٩٥] فما اختلفتم فيه من امر (الامة اعظم) (١٨) ، يقول: فلا تنكروا حكمين في دماء الامة، وقد جعل الله في قتل طائر حكمين، وقد جعل بين اختلاف رجل وامراته حكمين لإقامة العدل والإنصاف بينهما فيما اختلفا (فيه) (١٩) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (يرما)
(٢) في [هـ]: (رجل).
(٣) في [ع]: (وترددت).
(٤) سقط من: [جـ].
(٥) سقط من: [أ، ب].
(٦) في [أ، ب]: (عتار).
(٧) في [ع]: (ثعلب).
(٨) في [ع]: تكررت.
(٩) في [ع]: (وأتيناها).
(١٠) في [هـ]: (الجروح).
(١١) في [هـ]: زيادة (و).
(١٢) في [ع]: (لهرب).
(١٣) في [ع]: (حتى).
(١٤) في [هـ]: (خير).
(١٥) سقط من: [هـ].
(١٦) في [س]: (وجده).
(١٧) في [س]: زيادة (الحال).
(١٨) في [ب]: (الأمر أعظم).
(١٩) حسن؛ كليب صدوق.

حضرت کلیب جرمی فرماتے ہیں کہ میں مسجد سے باہر تھا کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو دیکھا، وہ حاکموں کے معاملے میں حضرت معاویہ کے پاس سے واپس آرہے تھے۔ وہ حضرت سلیمان بن ربیعہ کے گھر میں داخل ہوئے اور میں بھی ان کے ساتھ داخل ہوا۔ انہیں ایک آدمی نے طعنہ دیا، پھر ایک اور آدمی نے طعنہ دیا، پھر ایک اور آدمی نے طعنہ دیا اور کہا کہ اے ابن عباس رضی اللہ عنہما! تم نے کفر کیا، تم نے شرک کیا اور تم نے اللہ کا ہم سر ٹھہرایا۔ اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں یہ فرماتا ہے، یہ فرماتا ہے اور یہ فرماتا ہے۔ راوی سے پوچھا گیا کہ وہ کون تھے؟ انہوں نے بتایا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جلیل القدر صحابہ تھے۔ (٢) حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ان کی بات سن کر فرمایا کہ تم اپنے میں سے سب سے زیادہ عالم اور سب سے بڑے مناظر کا انتخاب کرلو وہ مجھ سے بات کرے۔ انہوں نے ایک کانے شخص کا انتخاب کیا جن کا نام عتاب تھا اور وہ بنو تغلب سے تھے۔ انہوں نے کھڑے ہوکر کہا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ گویا وہ اپنی ضرورت کو قرآن کی ایک سورت سے ثابت کررہے تھے۔ (٣) ان کی بات سن کر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں آپ کو قرآن کا عالم سمجھتا ہوں، کیونکہ آپ نے بہت وضاحت سے اپنا موقف پیش کیا ہے۔ میں آپ کو اس ذات کی قسم دے کر پوچھتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ شام والوں نے فیصلے کا مطالبہ کیا اور ہم نے اسے ناپسند کیا اور انکار کیا۔ پھر جب تمہیں زخم پہنچے، الم پہنچے اور تمہیں فرات کے پانی سے محروم کیا گیا تو تم نے فیصلے کا مطالبہ کرنا شروع کردیا؟ مجھے حضرت معاویہ نے بتایا ہے کہ ان کے پاس ایک پتلی کمر والا گھوڑا لایا گیا تاکہ وہ اس پر سوار ہوکر بھاگ جائیں یہاں تک کہ تم میں سے کوئی آنے والا آئے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اہل عراق کو ان لوگوں کی طرح چھوڑ دیا ہے جو مکہ میں نفر کی رات ادھر ادھر بھاگ رہے تھے۔ (٤) پھر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ میں تمہیں اس ذات کی قسم دے کر پوچھتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں کہ ابوبکر کیسے آدمی تھے؟ سب نے کہا کہ بھلے آدمی تھے اور ان کی تعریف کی۔ پھر پوچھا کہ عمر بن خطاب کیسے آدمی تھے؟ سب نے کہا کہ بھلے آدمی تھے اور ان کی تعریف کی۔ پھر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ تمہارے خیال میں اگر کوئی شخص حج یا عمرے کے لئے جائے اور کسی ہرن یا وہاں کے حشرات میں سے کسی کو مار ڈالے اور خود فیصلہ کرلے تو کیا اس کا فیصلہ معتبر ہوگا جبکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ (یَحْکُمُ بِہِ ذَوَا عَدْلٍ) جبکہ تمہارا جس معاملے میں اختلاف ہے وہ اس سے بہت بڑا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے عدل و انصاف کے لئے پرندے کے معاملے میں دو حاکم بنائے ہیں، آدمی اور اس کی بیوی کے معاملے میں دو حاکم بنائے ہیں تو تمہارے اختلاف میں جو ان سے بڑا ہے دو حاکم کیوں نہیں ہوسکتے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40681]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40681، ترقيم محمد عوامة 39028)
 
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 40681 in Urdu