مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
2. باب ما ذكر في صفين
جنگ صفین کا بیان
ترقیم عوامۃ: 38992 ترقیم الشثری: -- 40643
٤٠٦٤٣ - حدثنا يحيى بن آدم قال: حدثنا (يزيد) (١) بن عبد العزيز عن ابيه عن ⦗٥١٧⦘ حبيب بن ابي ثابت قال: رايت -او: كانت- شك (يحيى) (٢) - راية على يوم صفين مع هاشم بن عتبة، وكان رجلا اعور (فجعل) (٣) عمار يقول: اقدم يا اعور، لا خير في اعور، لا ياتي الفزع فيستحي فيتقدم، قال: يقول عمرو بن (العاص) (٤) : إني لارى لصاحب الراية السوداء عملا لئن دام على ما ارى لتفانن العرب اليوم، قال: فما زال ابو اليقظان (حتى كف بينهم) (٥) ، قال: وهو يقول: كل الماء (ورد) (٦) ، (والمياه رود) (٧) ، صبرا عباد الله الجنة، تحت ظلال السيوف (٨) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (زيد).
(٢) سقط من [ع].
(٣) في [هـ]: (فحمل عليه)
(٤) في [أ، ب، جـ، س، ع]: (العاصي).
(٥) في [ب، س]: (حتى ألف بينهم)، وفي [هـ]: (يتألف فيهم).
(٦) في [ع]: (وارد).
(٧) في [أ، ب، جـ، س، ع]: (والماء رود).
(٨) منقطع؛ حبيب لم يدرك صفين.
حضرت حبیب ابی ثابت فرماتے ہیں کہ جنگ صفین میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا جھنڈا ہاشم بن عتبہ کے ہاتھ میں تھا۔ ان کی ایک آنکھ کانی تھی۔ حضرت عمار کہنے لگے اے کانے! آگے آؤ، اس کانے میں کوئی خیر نہیں جو گھبراہٹ کا سامنا نہ کرے۔ وہ شرمائے اور آگے آئے۔ حضرت عمرو بن عاص نے کہا کہ میں کالے جھنڈے والے میں ایک عمل دیکھ رہاہوں، اگر وہ ایسا ہی رہا تو آج عرب کچھ کرکے رہیں گے۔ وہ کہہ رہے تھے کہ ہر پانی کا گھاٹ ہوتا ہے اور پانی کے پاس آیا جاتا ہے، اللہ کے بندو! صبر کرو، جنت تلواروں کے سائے کے نیچے ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40643]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40643، ترقيم محمد عوامة 38992)
ترقیم عوامۃ: 38993 ترقیم الشثری: -- 40644
٤٠٦٤٤ - حدثنا إسحاق بن منصور عن محمد بن راشد عن جعفر بن عمرو بن امية عن مسلم بن الاجدع الليثي وكان ممن شهد صفين قال: كان عمار يخرج بين (الصفين) (١) وقد اخرجت الرايات، فينادي حتى يسمعهم باعلى صوته: روحوا إلى الجنة، قد تزينت الحور العين (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، س]: (صفين).
(٢) مجهول؛ لجهالة مسلم بن الأجدع، وأخرجه ابن عساكر ٤٣/ ٤٦٤.
مسلم بن اجدع لیثی کہتے ہیں کہ حضرت عمار صفون کے درمیان نکلے اور اس وقت جھنڈے بلند تھے، انہوں نے بلند آواز سے اعلان کیا کہ جنت کی طرف چلو، جنت کی حور تیار ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40644]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40644، ترقيم محمد عوامة 38993)
ترقیم عوامۃ: 38994 ترقیم الشثری: -- 40645
٤٠٦٤٥ - حدثنا غندر عن شعبة عن ابي مسلمة قال: سمعت (الوضي يقول: سمعت) (١) عمار بن ياسر يقول: من سره ان (تكتنفه) (٢) الحور العين فليتقدم بين ⦗٥١٨⦘ الصفين محتسبا، فإني لارى صفا ليضربنكم ضربا يرتاب منه المبطلون، والذي نفسي بيده لو ضربونا حتى يبلغوا بنا سعفات هجر لعرفت انا على الحق وانهم على (الضلالة) (٣) (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [س، هـ].
(٢) في [أ، ب]: (يكتنفه).
(٣) في [ب، جـ]: (الباطل).
(٤) مجهول؛ الوضي ذكره البخاري في التاريخ، والحديث ورد من طريق شعبة عن عمرو بن مرة عن عبد اللَّه بن سلمة كما سيأتي ١٥/ ٢٩٩ برقم [٤٠٦٨٠]، وانظر: ما بعده.
عمار بن یاسر جنگ صفین میں فرما رہے تھے کہ جو یہ چاہتا ہے کہ اسے موٹی آنکھوں والی حور ملے وہ ثواب کی نیت سے دونوں صفوں کے درمیان چلے۔ میں ایک ایسی صف کو دیکھ رہا ہوں جو تمہیں ایسی ضرب لگائے گی جس کے بارے میں جھوٹے شک کا شکار ہیں۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے اگر وہ ہمیں تہس نہس کرکے رکھ دیں پھر بھی مجھے یقین ہوگا کہ میں حق پر اور وہ باطل پر ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40645]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40645، ترقيم محمد عوامة 38994)
ترقیم عوامۃ: 38995 ترقیم الشثری: -- 40646
٤٠٦٤٦ - [حدثنا وكيع عن الاعمش عن عمرو بن مرة عن عبد الله بن سلمة -او عن (ابي) (١) البختري- عن عمار قال: (لو) (٢) ضربونا حتى يبلغونا سعفات هجر لعلمنا انا على الحق وانهم على الباطل] (٣) (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب، س].
(٢) سقط من: [أ، ب].
(٣) سقط الخبر من: [جـ].
(٤) سماع عمرو بن مرة من عبد اللَّه بن سلمة بعد اختلاطه، وأبو البختري لا يروي عن عمار، والخبر أخرجه أحمد (١٨٨٨٤)، وابن حبان (٧٠٨٠)، والحاكم ٣/ ٣٨٤، وابن سعد ٣/ ٢٥٨، وأبو يعلى (١٦١٠)، والطيالسي (٦٤٣)، والبزار (١٤١٠).
حضرت عمار فرماتے ہیں کہ اگر وہ ہمیں تلواروں سے ماریں یہاں تک کہ ہمیں تہس نہس کردیں پھر بھی مجھے یقین ہوگا کہ ہم حق پر اور وہ باطل پر ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40646]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40646، ترقيم محمد عوامة 38995)
ترقیم عوامۃ: 38996 ترقیم الشثری: -- 40647
٤٠٦٤٧ - حدثنا يزيد بن هارون عن الحسن بن الحكم عن (زياد) (١) بن الحارث قال: كنت إلى جانب عمار بن ياسر بصفين، وركبتي تمس ركبته، فقال رجل: كفر اهل الشام، فقال عمار: لا تقولوا ذلك، نبينا ونبيهم واحد، وقبلتنا وقبلتهم واحدة، ولكنهم قوم مفتونون (جاروا) (٢) عن الحق، فحق علينا (ان) (٣) نقاتلهم حتى يرجعوا إليه (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) كذا في النسخ، وصوابه: (رياح) كما في كتب التراجم والتخريج، وكما في الأثرين بعده.
(٢) في [س]: (جازوا).
(٣) سقط من: [ع].
(٤) صحيح؛ أخرجه الدولابي ٢/ ٤٨٠، والمروزي في تعظيم قدر الصلاة (٥٩٩)، وابن عساكر ١/ ٣٤٨، وابن أبي جردة في بغية الطلب ١/ ٣٠٣.
حضرت ریاح بن حارث فرماتے ہیں کہ میں جنگ صفین میں حضرت عمار بن یاسر کے ساتھ تھا، میرے گھٹنے ان کے گھٹنوں کو چھو رہے تھے، ایک آدمی نے کہا کہ اہل شام نے کفر کیا۔ حضرت عمار نے فرمایا کہ یوں نہ کہو، ان کے اور ہمارے نبی ایک ہیں، ان کا اور ہمارا قبلہ ایک ہے۔ وہ فتنے میں مبتلا ہیں، انہوں نے حق سے اعراض کیا ہے۔ ہم پر لازم ہے کہ ہم ان سے قتال کریں تاکہ وہ حق پر واپس آجائیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40647]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40647، ترقيم محمد عوامة 38996)
ترقیم عوامۃ: 38997 ترقیم الشثری: -- 40648
٤٠٦٤٨ - حدثنا وكيع عن (حنش) (١) بن الحارث عن شيخ له (يقال له) (٢) : (رياح) (٣) قال: قال عمار: لا تقولوا: كفر اهل الشام، ولكن قولوا: فسقوا (ظلموا) (٤) (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، هـ]: (حسن).
(٢) سقط من [ب].
(٣) في [أ، هـ]: (رباح).
(٤) في [س]: (أو ظلموا)، وفي [جـ]: (وظلموا).
(٥) صحيح؛ أخرجه ابن عساكر ١/ ٣٤٦، وابن جرداة ١/ ٣٠٣، وانظر: ما قبله.
حضرت ریاح فرماتے ہیں کہ حضرت عمار نے فرمایا کہ یوں نہ کہو کہ اہل شام نے کفر کیا بلکہ یوں کہو کہ انہوں نے فسق کیا اور ظلم کیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40648]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40648، ترقيم محمد عوامة 38997)
ترقیم عوامۃ: 38998 ترقیم الشثری: -- 40649
٤٠٦٤٩ - [حدثنا وكيع عن مسعر عن عبد الله عن (رياح) (١) عن عمار قال: لا تقولوا: كفر اهل الشام، ولكن قولوا: فسقوا، (ظلموا) (٢) ] (٣) (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، هـ]: (رباح).
(٢) في [س]: (أو ظلموا)، وفي [جـ]: (وظلموا).
(٣) سقط الخبر من: [أ، ب، جـ، س، ع].
(٤) مجهول؛ لجهالة عبد اللَّه بن رياح، وأخرجه البيهقي ٨/ ١٧٤، وابن عساكر ١/ ٣٤٦، والمروزي في تعظيم الصلاة (٦٠٠)، وانظر: ما قبله.
حضرت ریاح فرماتے ہیں کہ حضرت عمار نے فرمایا کہ یوں نہ کہو کہ اہل شام نے کفر کیا بلکہ یوں کہو کہ انہوں نے فسق کیا اور ظلم کیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40649]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40649، ترقيم محمد عوامة 38998)
ترقیم عوامۃ: 38999 ترقیم الشثری: -- 40650
٤٠٦٥٠ - حدثنا يزيد بن هارون عن العوام عن عمرو (بن مرة) (١) عن ابي وائل قال: راى في المنام ابو (ميسرة) (٢) عمرو بن شرحبيل، وكان من افضل (اصحاب) (٣) عبد الله، قال: رايت كاني ادخلت الجنة، فرايت قبابا مضروبة، فقلت: لمن هذه؟ فقيل: هذه لذي الكلاع وحوشب، (وكانا) (٤) ممن (قتل) (٥) مع معاوية يوم صفين، ⦗٥٢٠⦘ قال: قلت: (فاين) (٦) عمار واصحابه؟ (قالوا) (٧) : امامك، قلت: وكيف وقد قتل بعضهم بعضا؟ قال: (قيل) (٨) : إنهم لقوا الله فوجدوه واسع المغفرة، قال: (فقلت) (٩) : فما فعل اهل (النهر؟) (١٠) قال: فقيل (١١) : لقوا برحا.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ع].
(٢) في [أ، ب، جـ، س، ع]: (أبو مرة)، وفي [ط]: (أبو قيس).
(٣) في [ع]: (أصخاب).
(٤) في [ع]: (وكانوا).
(٥) في [جـ]: (قتلا).
(٦) في [أ، ب]: (وأين).
(٧) في [أ، ب، جـ]: (قال).
(٨) في [أ، ب]: (فقيل).
(٩) في [ع]: (قلت).
(١٠) في [س]: (النهروان).
(١١) في [ع]: زيادة (لي).
ابو وائل کہتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ کے ایک قریبی ساتھی ابو میسرہ عمرو بن شرحبیل نے خواب دیکھا کہ میں جنت میں داخل ہوا اور میں نے دیکھا کہ ایک بہت خوبصورت گنبد والا محل ہے۔ میں نے پوچھا کہ یہ کس کا ہے؟ مجھے بتایا گیا کہ یہ ذوالکلاع اور حوشب کا ہے۔ یہ دونوں جنگ صفین میں حضرت معاویہ کی معیت میں تھے اور شہید ہوئے تھے۔ میں نے کہا عمار اور ان کے ساتھی کہاں ہیں؟ مجھے بتایا گیا کہ وہ آپ کے سامنے ہیں۔ میں نے کہا کہ ان لوگوں نے تو ایک دوسرے کو قتل کیا تھا پھر سب جنت میں کیسے آگئے۔ مجھے بتایا گیا کہ جب وہ اللہ سے ملے تو اللہ کو انہوں نے وسیع رحمت والا پایا۔ میں نے کہا کہ اہل نہرکا کیا بنا؟ مجھے بتایا گیا کہ انہیں شدت کا سامنا ہوا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40650]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40650، ترقيم محمد عوامة 38999)
ترقیم عوامۃ: 39000 ترقیم الشثری: -- 40651
٤٠٦٥١ - حدثنا يزيد بن هارون قال: (اخبرنا) (١) العوام بن حوشب قال: حدثني اسود بن مسعود عن حنظلة بن خويلد (العنزي) (٢) قال: إني لجالس عند معاوية إذ اتاه رجلان يختصمان في راس عمار، كل واحد منهما يقول: انا قتلته، قال عبد الله بن عمرو: (ليطب) (٣) به احدكما نفسا لصاحبه، فإني سمعت رسول الله ﷺ يقول:"تقتله الفئة الباغية"، فقال معاوية: الا تغني عنا مجنونك يا عمرو، فما بالك معنا؟ قال: إني معكم ولست اقاتل، إن ابي شكاني إلى رسول الله ﷺ، فقال رسول الله ﷺ:"اطع اباك ما دام حيا ولا تعصه"، فانا معكم، ولست اقاتل (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (أنبأنا).
(٢) في [أ، ب، جـ، س، ع]: (العصري)، والمثبت موافق لما في التاريخ الكبير ٣/ ٣٩، وسنن سعيد بن منصور ق ٢/ (١٤١)، وتهذيب التهذيب ٣/ ٥٢، وتهذيب الكمال ٧/ ٤٣٦، وتاريخ دمشق ٤٣/ ٤٢٤، وطبقات ابن سعد ٣/ ٢٥٣، وفي بعض المراجع: (العنبري والغنوي).
(٣) في [جـ، ع]: (ليطيب).
(٤) صحيح؛ أخرجه أحمد (٦٥٣٨)، والنسائي (٨٥٤٩)، وابن سعد ٣/ ٢٥٣، والبخاري في التاريخ ٣/ ٣٩، والمزي ٧/ ٤٣٧، وأبو نعيم في الحلية ٧/ ١٩٨، والطبراني ١٩/ (٧٥٩)، والبزار (٣٢٨١).
حضرت حنظلہ بن خویلد عنزی کہتے ہیں کہ میں حضرت معاویہ کے پاس بیٹھا تھا کہ ان کے پاس دو آدمی حضرت عمار کی شہادت کا دعویٰ کرتے ہوئے آئے۔ ایک کہتا تھا کہ انہیں میں نے مارا اور دوسرا کہتا تھا کہ انہیں میں نے مارا ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تم میں سے ہر ایک کو دوسرے کے لئے دستبردار ہونا پڑے گاکیون کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عمار کو ایک باغی جماعت شہید کرے گی۔ یہ سن کر حضرت معاویہ نے فرمایا کہ اے عمرو! تمہارا ہمارے بارے میں کیا خیال ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں لکن میں قتال نہیں کروں گا۔ میرے والد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے میری شکایت کی تھی تو آپ نے مجھے فرمایا تھا کہ اپنے باپ کی اطاعت کرو اور جب تک زندہ ہو ان کی نافرمانی نہ کرنا۔ لہٰذا میں تمہارے ساتھ ہوں لیکن قتال نہیں کروں گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40651]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40651، ترقيم محمد عوامة 39000)
ترقیم عوامۃ: 39001 ترقیم الشثری: -- 40652
٤٠٦٥٢ - حدثنا وكيع عن محمد بن قيس عن سعد بن إبراهيم قال: بينما علي آخذ بيد عدي بن حاتم وهو يطوف في القتلى إذ مر برجل عرفته فقلت: يا امير المؤمنين عهدي (بهذا) (١) وهو مؤمن، قال: والآن (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (هذا).
(٢) منقطع؛ سعد بن إبراهيم لم يدرك عليًّا.
حضرت سعد بن ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت عدی بن حاتم کا ہاتھ پکڑے مقتولین کے درمیان سے گزر رہے تھے کہ ایک آدمی کے پاس سے گزرے میں نے اسے پہچان لیا اور کہا کہ اے امیر المومنین میں اس آدمی کے بارے میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ مومن ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ اب اس کا کیا حکم ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40652]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40652، ترقيم محمد عوامة 39001)