🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. ما (ذكر) في الخوارج
خوارج کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 39048 ترقیم الشثری: -- 40703
٤٠٧٠٣ - حدثنا يزيد بن هارون الواسطي قال: (حدثنا) (١) سليمان التيمي عن ⦗٥٤١⦘ ابي مجلز قال: نهى علي اصحابه ان (يبسطوا) (٢) على الخوارج حتى يحدثوا حدثا فمروا بعبد الله بن خباب فاخذوه. فمر بعضهم على تمرة ساقطة من نخلة فاخذها فالقاها في فيه، فقال بعضهم: تمرة معاهد، فبم استحللتها؟ فالقاها من فيه. ثم مروا على خنزير (فنفحه) (٣) بعضهم بسيفه، فقال بعضهم: خنزير معاهد، فبم استحللته؟ فقال عبد الله: الا ادلكم على ما هو اعظم عليكم حرمة من هذا؟ قالوا: نعم، قال: انا، فقدموه فضربوا عنقه. فارسل إليهم علي ان اقيدونا (بعبد الله) (٤) بن خباب، فارسلوا إليه: وكيف نقيدك وكلنا قتله، قال: اوكلكم قتله؟ قالوا: نعم، (فقال) (٥) : الله اكبر. ثم امر اصحابه ان (يبسطوا) (٦) عليهم، قال: والله لا يقتل منكم عشرة ولا (يفلت) (٧) منهم عشرة، قال: فقتلوهم. فقال: اطلبوا فيهم ذا الثدية، فطلبوه (فاتي) (٨) به، فقال: من يعرفه؟ فلم يجدوا احدا يعرفه إلا رجلا، قال: انا رايته (بالحيرة) (٩) ، فقلت له: اين تريد؟ (قال) (١٠) : هذه، واشار إلى الكوفة، (ومالي) (١١) بها معرفة، قال: فقال علي: ⦗٥٤٢⦘ صدق هو من الجان (١٢)

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (أخبرنا).
(٢) في [س]: (بسطوا)، وفي [هـ]: (يسطوا).
(٣) في [هـ]: (فنفخه).
(٤) في [ع]: (لعبد اللَّه).
(٥) في [ع]: (قال).
(٦) في [هـ]: (يسطوا).
(٧) في [أ، ب، س]: (يغلب).
(٨) في [ع]: (فأتوا).
(٩) في [هـ]: (بالحيوة).
(١٠) في [ع]: (فقال).
(١١) في [جـ]: (مال).
(١٢) منقطع؛ أبو مجلز لا يروي عن علي، أخرجه الدارقطني ٣/ ١٣١، وأبو عبيد في الأموال (٤٧٥)، والبيهقي ٨/ ١٨٤، ومسدد كما في المطالب العالية (٤٤٤٠)، وفيه: (عن أبي مجلز أراه عن قيس بن عباد)، وسيأتي بنحوه برقم [٤٠٧٠٦].

حضرت ابو مجلز فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کو خوارج کے ساتھ معرکہ آرائی سے اس وقت تک منع کیا جب تک وہ خود چھیڑ خانی نہ کریں۔ چناچہ خوارج حضرت عبد اللہ بن خباب کے پاس سے گزرے اور انہیں پکڑ لیا۔ پھر ان میں سے ایک شخص ایک کھجور کے درخت سے گری ہوئی کھجور کو اٹھا کر کھانے لگا تو ایک شخص اسے ٹوکتے ہوئے بولا کہ یہ ایک ذمی کی کھجور ہے تم اسے کیسے حلال سمجھتے ہو؟ چناچہ اس نے کھجور منہ سے پھینک دی۔ پھر وہ ایک خنزیر کے پاس سے گزرے تو ایک آدمی نے اسے اپنی تلوار ماری۔ ایک شخص اسے ٹوکتے ہوئے بولا کہ یہ ایک ذمی کا خنزیر ہے تم اسے اپنے لئے کیسے حلال سمجھتے ہو؟ حضرت عبد اللہ بن خباب نے فرمایا کہ کیا میں نے تمہیں ان چیزوں سے زیادہ قابل احترام چیز کا نہ بتاؤں؟ انہوں نے کہا بتائیے، حضرت عبد اللہ بن خباب نے فرمایا کہ میں ہوں۔ وہ آگے بڑھے اور حضرت عبد اللہ بن خباب کی گردن کاٹ ڈالی۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف پیغام بھیجا کہ حضرت عبد اللہ بن خباب کے قاتل کو میری طرف بھیج دو۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہم ان کے قاتل آپ کو کیسے بھیجیں، ہم سب نے انہیں قتل کیا ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ کیا تم سب نے انہیں قتل کیا ہے؟ انہوں نے کہا جی ہاں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اللہ اکبر کہا اور پھر اپنے ساتھیوں کو ان پر چڑھائی کا حکم دے دیا۔ اور فرمایا خدا کی قسم! تم میں سے دس آدمی قتل نہیں ہوں گے اور ان میں سے دس آدمی باقی نہیں بچیں گے۔ پس لوگوں نے ان سے قتال کیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے انہیں حکم دیا کہ ان میں ذوالثدیہ کو تلاش کرو۔ لوگوں نے اسے تلاش کیا اور اسے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس لایا گیا انہوں نے پوچھا کہ اسے کون جانتا ہے۔ پھر صرف ایک آدمی ملا جو اسے جانتا تھا۔ اس نے کہا کہ میں نے اسے حیرہ میں دیکھا تھا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ تم کہاں جارہے ہو؟ اس نے کہا کہ اس طرف، اور پھر اس نے کوفہ کی طرف اشارہ کیا جبکہ مجھے اس کا علم نہ تھا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ جنوں میں سے ہے، اس نے سچ کہا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40703]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40703، ترقيم محمد عوامة 39048)


Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 40703 in Urdu