🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

3. ما (ذكر) في الخوارج
خوارج کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 39036 ترقیم الشثری: -- 40689
٤٠٦٨٩ - (حدثنا ابو بكر قال) (١) : حدثنا ابن علية عن ايوب عن ابن سيرين عن عبيدة عن علي قال: ذكر الخوارج، قال: فيهم رجل مخدج اليد او (مودن) (٢) او (مثدن) (٣) اليد، لولا إن تبطروا لحدثتكم بما وعد الله الذين يقتلونهم على لسان محمد ﷺ (٤) ، قلت: انت سمعته من محمد ﷺ (٥) قال: اي ورب الكعبة -ثلاث مرات (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ].
(٢) أي: ناقص الخلق، وفي [ع]: (مؤذن).
(٣) في [أ، ب، جـ، ع]: (مثدى)، وفي [هـ]: (مشدون).
(٤) سقط من: [ع].
(٥) سقط من: [ع].
(٦) صحيح؛ أخرجه مسلم (١٠٦٦)، وأحمد (٦٢٦).

حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک مرتبہ خوارج کا ذکر آیا تو آپ نے فرمایا کہ ان میں ایک آدمی ہے جس کا ہاتھ مکمل نہیں ہے۔ اگر مجھے اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ تم میری بات کا انکارکرو گے تو میں تمہیں وہ بات ضرور بتاتا جس کا اللہ تعالیٰ نے اپنی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان پر ان لوگوں سے وعدہ کیا ہے جو خوارج سے قتال کریں گے۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ کیا آپ نے یہ بات خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رب کعبہ کی قسم! میں نے سنی ہے۔ یہ بات آپ نے تین مرتبہ فرمائی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40689]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40689، ترقيم محمد عوامة 39036)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 39037 ترقیم الشثری: -- 40690
٤٠٦٩٠ - حدثنا علي بن مسهر عن الشيباني عن (يسير) (١) بن عمرو قال: سالت سهل بن حنيف: هل سمعت النبي ﷺ يذكر هؤلاء الخوارج؟ قال: سمعته -واشار بيده نحو المشرق-:"يخرج منه قوم يقرؤون القرآن بالسنتهم لا يعدو تراقيهم، يمرقون من الدين كما يمرق السهم من الرمية" (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (بشر)، وفي [أجـ]: (بشير)، وفي [هـ]: (أسير).
(٢) صحيح؛ أخرجه البخاري (٦٩٣٤)، ومسلم (١٠٦٨).

حضرت یسیر بن عمرو کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سہل بن حنیف سے سوال کیا کہ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خوارج کا تذکرہ فرماتے سنا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سنا ہے۔ آپ نے اپنے دست مبارک سے مشرق کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا کہ یہاں سے ایک ایسی قوم کا خروج ہوگا جو زبانوں سے قرآن پڑھتے ہوں گے لیکن قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ وہ دین اسلام سے اس تیزی سے نکل جائیں گے جیسے تیر کمان سے نکلتا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40690]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40690، ترقيم محمد عوامة 39037)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 39038 ترقیم الشثری: -- 40691
٤٠٦٩١ - حدثنا ابو بكر (١) عن عاصم عن زر عن عبد الله قال: قال رسول الله ﷺ:"يخرج في آخر الزمان قوم احداث الاسنان سفهاء الاحلام، يقولون من خير قول الناس، يقراون القرآن لا يجاوز تراقيهم، (يمرقون) (٢) من الإسلام كما (يمرق) (٣) السهم من الرمية، فمن لقيهم فليقتلهم فإن قتلهم اجر عند الله" (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) هو: ابن عياش.
(٢) في [ع]: (يمزقون).
(٣) في [ع]: (يمزق).
(٤) ضعيف؛ لضعف عاصم في زر، أخرجه أحمد (٣٨٣١)، والترمذي (٢١٨٨)، وابن ماجه (١٦٨)، وأبو يعلى (٥٤٠٢)، والآجري في الشريعة ص ٣٥.

حضرت عبد اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ عنقریب ایک ایسی قوم کا ظہورہوگا جن کے افراد کم عمر کے ہوں گے، عقل کے اندھے ہوں گے، جب بات کریں گے تو لوگوں میں سب سے خوب بات کہیں گے۔ زبانوں سے قرآن پڑھتے ہوں گے لیکن قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ وہ دین اسلام سے اس تیزی سے نکل جائیں گے جیسے تیر کمان سے نکلتا ہے۔ جسے ان کا سامنا ہو ان سے قتال کرے کیونکہ ان سے قتال کرنا اللہ کے نزدیک بہت بڑے اجر کی بات ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40691]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40691، ترقيم محمد عوامة 39038)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 39039 ترقیم الشثری: -- 40692
٤٠٦٩٢ - حدثنا إسحاق الازرق عن الاعمش عن ابن ابي اوفى قال: قال رسول الله ﷺ:"الخوارج كلاب النار" (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) منقطع؛ الأعمش لا يروي عن ابن أبي أوفى، أخرجه أحمد (١٩١٣٠)، وابن ماجه (١٧٣)، والحاكم ٣/ ٥٧١، وأبو نعيم في الحلية ٥/ ٥٦، وابن أبي عاصم في السنة (٩٠٤)، واللالكائي (٢٣١١)، والخطيب ٦/ ٣١٩، وابن الجوزي في العلل المتناهية ١/ ١٦٨.
حضرت ابن ابی اوفی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ خوارج جہنم کے کتے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40692]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40692، ترقيم محمد عوامة 39039)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 39040 ترقیم الشثری: -- 40693
٤٠٦٩٣ - حدثنا ابو اسامة عن ابن عون عن عمير بن إسحاق قال: ذكروا الخوارج عند ابي هريرة قال: اولئك شرار الخلق (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) حسن؛ عمير صدوق.
حضرت ابوہریرہ کے سامنے خوارج کا تذکرہ آیا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ بدترین لوگ ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40693]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40693، ترقيم محمد عوامة 39040)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 39041 ترقیم الشثری: -- 40694
٤٠٦٩٤ - حدثنا وكيع عن عكرمة بن عمار عن (عاصم) (١) بن (شميخ) (٢) قال: سمعت ابا سعيد الخدري يقول ويداه (هكذا) (٣) -يعني ترتعشان من الكبر-: ⦗٥٣٧⦘ لقتال الخوارج احب إلي من قتال عدتهم من (٤) (الترك) (٥) (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (عامر).
(٢) في [أ، ب، هـ]: (شمخ).
(٣) في [جـ]: (كذا).
(٤) في [هـ]: زيادة (أهل).
(٥) في [أ، هـ]: (الشرك).
(٦) مجهول؛ لجهالة عاصم بن شميخ، أخرجه أحمد (١١٢٨٥)، وأبو داود (٣٢٦٤).

حضرت ابو سعید خدری نے بڑھاپے میں جبکہ ان کے ہاتھ بھی کانپ رہے تھے فرمایا کہ خوارج سے قتال کرنا میرے نزدیک مشرکین سے قتال کرنے سے زیادہ افضل ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40694]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40694، ترقيم محمد عوامة 39041)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 39042 ترقیم الشثری: -- 40695
٤٠٦٩٥ - حدثنا ابن نمير قال: (حدثنا) (١) عبيد الله بن عمر عن نافع قال: لما سمع ابن عمر (بنجدة) (٢) قد اقبل وانه يزيد المدينة وانه يسبي النساء ويقتل الولدان، قال: إذن لا ندعه و (ذاك) (٣) ، وهم بقتاله وحرض الناس، (فقيل) (٤) له: إن الناس لا يقاتلون معك، ونخاف ان (تترك) (٥) وحدك، فتركه (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (أخبرنا).
(٢) في [هـ]: (بنحدة).
(٣) في [هـ]: (ذلك).
(٤) في [ع]: (فقال).
(٥) في [أ، ب]: (تدرك).
(٦) صحيح؛ أخرجه عبد اللَّه بن أحمد في السنة (١٥٣٧).

حضرت نافع فرماتے ہیں کہ جب حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے نجدہ کے بارے میں سنا کہ وہ مدینہ آرہا ہے اور عورتوں کو قیدی بنا رہا ہے اور بچوں کو قتل کررہا ہے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا تو ہم اسے ایسا کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ پھر آپ نے اس کے قتال کا ارادہ کیا اور لوگوں کو اس کی ترغیب دی۔ ان سے کہا گیا کہ لوگ آپ کی معیت میں قتال کے لئے تیار نہیں ہوں گے اور ہمیں خوف ہے کہ آپ کو اکیلا چھوڑ دیا جائے گا۔ اس کے بعد حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس سے تعرض کرنے کا ارادہ ترک کردیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40695]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40695، ترقيم محمد عوامة 39042)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 39043 ترقیم الشثری: -- 40696
٤٠٦٩٦ - حدثنا عبدة عن الاعمش قال: سمعتهم يذكرون ان (عبد الرحمن) (١) بن يزيد غزا الخوارج.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ط، هـ]: (عبد اللَّه).
حضرت اعمش کہتے ہیں کہ میں نے اسلاف کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ عبد الرحمن بن یزید نے خوارج سے جنگ کی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40696]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40696، ترقيم محمد عوامة 39043)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 39044 ترقیم الشثری: -- 40697
٤٠٦٩٧ - حدثنا ابو اسامة عن سليمان بن المغيرة عن حميد بن هلال عن عبد الله ابن الصامت عن ابي ذر قال: قال رسول الله ﷺ:"إن بعدي او سيكون بعدي من امتي قوم يقرؤون القرآن لا يجاوز حلوقهم يخرجون من الدين كما يخرج السهم من الرمية لا يعودون فيه هم شرار الخلق والخليقة" (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح؛ أخرجه مسلم (١٠٦٧)، وأحمد (٢٠٣٤٢).
حضرت ابو ذر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میرے بعد ایک قوم ہوگی جو قرآن تو پڑھتے ہوں گے لیکن قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ وہ دین سے یوں نکل جائیں گے جیسے تیر کمان سے نکلتا ہے۔ وہ پھر دین میں واپس نہیں آئیں گے۔ وہ بدترین مخلوق اور بدترین اخلاق والے ہیں۔ حضرت عبد اللہ بن صامت فرماتے ہیں کہ میں نے اس روایت کا تذکرہ حضرت رافع بن عمرو سے کیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40697]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40697، ترقيم محمد عوامة 39044)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 40698
٤٠٦٩٨ - قال عبد الله بن الصامت: فذكرت ذلك لرافع بن عمرو (١) اخي الغفاري فقالوا: وانا ايضا قد سمعته من رسول الله ﷺ (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، ع]: زيادة (ابن).
(٢) صحيح؛ أخرجه مسلم (١٠٦٧)، وابن ماجه (١٧٠).

تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40698، ترقيم محمد عوامة ---)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں