🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. ما (ذكر) في الخوارج
خوارج کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 39055 ترقیم الشثری: -- 40710
٤٠٧١٠ - حدثنا يحيى بن آدم قال: حدثنا ابن إدريس عن إسماعيل بن سميع الحنفي عن ابي رزين قال: لما كانت الحكومة بصفين وباين الخوارج (عليا) (١) رجعوا مباينين له، وهم في عسكر، وعلي في عسكر، [حتى دخل (علي الكوفة) (٢) (مع الناس بعسكره) (٣) ، ومضوا هم إلى حروراء بعسكرهم] (٤) ، فبعث علي إليهم ابن عباس فكلمهم فلم يقع منهم موقعا، فخرج (علي) (٥) إليهم (فكلمهم) (٦) حتى ⦗٥٤٦⦘ اجمعوا هم وهو على الرضا، فرجعوا حتى دخلوا الكوفة على الرضا منه ومنهم، فاقاموا يومين او نحو ذلك، قال: فدخل الاشعث بن قيس وكان يدخل على علي فقال: إن الناس يتحدثون انك رجعت لهم عن كفره، فلما ان كان الغد (او) (٧) الجمعة صعد (علي) (٨) المنبر فحمد الله واثنى عليه فخطب فذكرهم ومباينتهم الناس وامرهم الذي فارقوه فيه، فعابهم وعاب امرهم، قال: فلما نزل عن المنبر (تنادوا) (٩) من نواحي المسجد:"لا حكم إلا لله"، فقال علي: حكم الله انتظر فيكم، ثم قال بيده هكذا يسكتهم بالإشارة، وهو على المنبر حتى (اتاه) (١٠) رجل منهم واضعا إصبعيه في (اذنيه) (١١) وهو يقول: ﴿لئن اشركت ليحبطن عملك ولتكونن من الخاسرين﴾ [الزمر: ٦٥] (١٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (علي).
(٢) في [س]: (الكوفة على).
(٣) في [ع]: (بعسكره مع الناس).
(٤) سقط ما بين المعكوفين من: [أ، ب].
(٥) سقط من: [جـ].
(٦) سقط من: [جـ].
(٧) في [جـ، ط]: (و)، وسقط من: [أ، هـ].
(٨) سقط من: [أ، هـ].
(٩) في [ع]: (حتى تنادوا).
(١٠) في [هـ]: (أتى).
(١١) في [هـ]: (دابته).
(١٢) صحيح؛ أخرجه ابن جرير في التاريخ ٣/ ١١٤.

حضرت ابو رزین فرماتے ہیں کہ جب حکومت صفین میں تھی، اور خوارج نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو چھوڑ دیا اور انہیں چھوڑ کر چلے گئے۔ توخوارج ایک لشکر میں تھے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ دوسرے لشکر میں تھے۔ جب حضرت علی رضی اللہ عنہاپنے لشکر کے ساتھ کوفہ واپس آگئے اور وہ اپنے لشکر میں حروراء چلے گئے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کو بھیجا لیکن انہوں نے کوئی گنجائش نہ پائی۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہان سے گفتگو کے لئے تشریف لئے گئے اور ان سے بات چیت ہوئی اور سب آپس میں راضی ہوگئے۔ اور کوفہ واپس آگئے۔ یہ رضامندی دو یا تین دن قائم رہی۔ پھر اشعث بن قیس آئے جو کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس اکثر آیا کرتے تھے اور انہوں نے کہا کہ لوگ کہہ رہے کہ آپ نے ان سے ان کے کفر کے باوجود رجوع کرلیا۔ اگلے دن یا جمعہ کے دن حضرت علی رضی اللہ عنہ منبر پر جلوہ افروز ہوئے، اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی اور خطبہ میں انہیں نصیحت فرمائی۔ لوگوں سے ان کے الگ ہونے کا تذکرہ کیا، جس چیز میں انہوں نے مفارقت کی اس کا انہیں حکم دیا، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کی اور ان کے طریقہ کار کی مذمت فرمائی۔ جب وہ منبر سے نیچے تشریف لائے تو مسجد کے کونوں سے آوازیں آنے لگیں کہ اللہ کے سوا کسی کا حکم نہیں! حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں تمہارے بارے میں اللہ کے حکم کا انتظار کررہا ہوں۔ پھر منبر پر انہیں ہاتھ سے خاموش رہنے کا اشارہ فرمایا۔ اتنے میں خارجیوں کا ایک آدمی اپنی انگلیاں کانوں پر رکھ کر یہ آیت پڑھتے ہوئے آیا { لَئِنْ أَشْرَکْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُک وَلَتَکُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِینَ }۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40710]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40710، ترقيم محمد عوامة 39055)
 
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 40710 in Urdu