مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
3. ما (ذكر) في الخوارج
خوارج کا بیان
ترقیم عوامۃ: 39069 ترقیم الشثری: -- 40724
٤٠٧٢٤ - حدثنا ابن نمير قال: حدثنا عبد العزيز بن (سياه) (١) قال: حدثنا حبيب ابن ابي ثابت عن ابي وائل قال: اتيته فسالته عن هؤلاء القوم الذين قتلهم علي، قال: قلت: (فيم) (٢) فارقوه؟ و (فيم) (٣) (استحلوه؟) (٤) و (فيم) (٥) دعاهم؟ (وفيم) (٦) فارقوه؟ ثم (استحل) (٧) دماءهم؟ ⦗٥٥٢⦘ قال: إنه لما (استحر) (٨) القتل في اهل الشام بصفين اعتصم معاوية واصحابه (بجبل) (٩) ، فقال عمرو بن (العاص) (١٠) : ارسل إلى علي بالمصحف، فلا والله لا يرده عليك، قال: فجاء به رجل يحمله (ينادي) (١١) : بيننا وبينكم كتاب الله: ﴿الم تر إلى الذين اوتوا نصيبا من الكتاب يدعون إلى كتاب الله ليحكم بينهم ثم يتولى فريق منهم وهم معرضون﴾ [آل عمران: ٢٣] ، قال: فقال علي: نعم، بيننا وبينكم كتاب الله، انا اولى به منكم. قال: فجاءت الخوارج وكنا ( (نسميهم) (١٢) يومئذ) (١٣) القراء، قال: فجاءوا (باسيافهم) (١٤) على (١٥) عواتقهم، فقالوا: يا امير المؤمنين (لا) (١٦) نمشي إلى هؤلاء القوم حتى يحكم الله بيننا وبينهم. فقام سهل بن حنيف فقال: ايها الناس اتهموا انفسكم، (لقد) (١٧) كنا مع رسول الله ﷺ يوم الحديبية ولو نرى قتالا لقاتلنا، وذلك في الصلح الذي كان بين رسول الله ﷺ (١٨) [ (وبين المشركين فجاء عمر فاتى رسول الله ﷺ فقال: يا رسول الله السنا على) (١٩) حق وهم على باطل؟ قال:"بلى"، قال: اليس قتلانا في الجنة ⦗٥٥٣⦘ وقتلاهم في النار؟ قال:"بلى"، قال: ففيم نعطي (الدنية) (٢٠) في ديننا ونرجع ولما يحكم الله بيننا وبينهم؟ فقال:" (يا) (٢١) ابن الخطاب إني رسول الله ولن يضيعني الله ابدا". [قال: فانطلق عمر ولم يصبر متغيظا حتى اتى ابا بكر فقال: يا ابا بكر السنا على حق وهم على باطل؟ فقال: بلى، قال: (اليس) (٢٢) قتلانا في الجنة وقتلاهم في النار؟ قال: بلى، قال: فعلام نعطي الدنية في ديننا ونرجع ولما يحكم الله بيننا وبينهم؟ فقال: يا ابن الخطاب! إنه رسول الله ولن يضيعه الله ابدا] (٢٣) ، قال: فنزل القرآن على محمد ﷺ (٢٤) بالفتح، فارسل إلى عمر فاقراه إياه، فقال: يا رسول الله او فتح هو؟ قال: نعم، فطابت نفسه ورجع. فقال علي: ايها الناس! ان هذا فتح، فقبل علي القضية ورجع ورجع الناس. ثم انهم خرجوا بحروراء اولئك العصابة من الخوارج بضعة عشر الفا، فارسل إليهم يناشدهم الله، فابوا عليه فاتاهم صعصعة بن صوحان فناشدهم الله وقال: علام تقاتلون خليفتكم؟ قالوا: نخاف الفتنة، قال: فلا تعجلوا ضلالة العام مخافة فتنة (عام) (٢٥) قابل، (٢٦) فرجعوا (فقالوا) (٢٧) : نسير على ناحيتنا، فإن (عليا) (٢٨) قبل ⦗٥٥٤⦘ القضية (٢٩) قاتلناهم يوم صفين، وإن نقضها قاتلنا معه. فساروا حتى بلغوا النهروان، فافترقت منهم فرقة فجعلوا يهدون الناس قتلا، فقال اصحابهم: ويلكم (ما على هذا) (٣٠) فارقنا (عليا) (٣١) . فبلغ (عليا) (٣٢) امرهم فقام فخطب الناس فقال: (اما) (٣٣) ترون، اتسيرون إلى اهل الشام ام ترجعون إلى هؤلاء الذين خلفوا إلى ذراريكم، فقالوا: لا، بل نرجع إليهم، فذكر امرهم فحدث عنهم (ما) (٣٤) قال فيهم رسول الله ﷺ:"إن فرقة تخرج عند اختلاف (٣٥) الناس تقتلهم اقرب الطائفتين بالحق، علامتهم رجل فيهم يده كثدي المراة". فساروا حتى التقوا بالنهروان فاقتتلوا قتالا شديدا، فجعلت خيل علي لا (تقوم) (٣٦) لهم؛ فقام علي فقال: ايها الناس! إن كنتم إنما تقاتلون لي، فوالله ما عندي ما اجزيكم به، وإن كنتم إنما تقاتلون لله فلا يكن هذا قتالكم، فحمل الناس حملة واحدة، فانجلت الخيل عنهم وهم مكبون على وجوههم. فقال علي: اطلبوا الرجل فيهم، قال: فطلب الناس فلم يجدوه حتى قال بعضهم: غرنا ابن ابي طالب من إخواننا حتى (قتلناهم) (٣٧) ، فدمعت عين علي، ⦗٥٥٥⦘ قال: فدعا بدابته فركبها فانطلق حتى اتى وهدة فيها قتلى بعضهم على بعض فجعل يجر بارجلهم حتى وجد الرجل تحتهم، (فاجتروه) (٣٨) فقال علي: الله اكبر، وفرح الناس ورجعوا. وقال علي: لا اغزو العام، ورجع إلى الكوفة وقتل، واستخلف (حسن) (٣٩) (فسار) (٤٠) بسيرة ابيه، ثم (بعث) (٤١) بالبيعة إلى معاوية (٤٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (ساه).
(٢) في [أ، ب]: (نعم).
(٣) في [ب، هـ]: (فيما).
(٤) في [أ، ب]: (استحللوه له)، وفي [جـ، ع]: (استحالوا له)، وفي [س]: (استحلوا الدم)، وفي [هـ]: (استجابوا له).
(٥) في [ب، هـ]: (فيما).
(٦) في [ع]: (فيما).
(٧) في [س]: (استحق).
(٨) في [ب]: (استجر)، وفي [ع]: (استحق).
(٩) في [س]: (بحمل).
(١٠) في [أ، ب، س، ع]: (العاصي).
(١١) سقط من: [س].
(١٢) في [س]: بياض.
(١٣) في [ع]: (يومئذ نسميهم).
(١٤) في [س]: (بأشيانهم).
(١٥) في [ع]: زيادة (أعناقهم).
(١٦) في [ع]: (الأ).
(١٧) في [ع]: (لو).
(١٨) سقط من: [ع].
(١٩) سقط من: [أ، ب].
(٢٠) في [ع]: (الدية).
(٢١) سقط من: [جـ].
(٢٢) في [ع]: (ليس).
(٢٣) سقط ما بين المعكوفين من: [أ، ب].
(٢٤) سقط من: [ع].
(٢٥) في [ع]: (غام).
(٢٦) في [ع]: زيادة (قال).
(٢٧) في [هـ]: (فقاتلوا).
(٢٨) في [ع]: (علي).
(٢٩) في [أ، ب، جـ، ع]: زيادة (قاتلنا على ما).
(٣٠) في [ع]: (على ما هذا).
(٣١) في [ع]: (علي).
(٣٢) في [ع]: (علي).
(٣٣) في [ع]: (ما).
(٣٤) في [ع]: (لما).
(٣٥) في [ع]: زيادة (من).
(٣٦) في [أ، ب]: (يقوم).
(٣٧) في [ع]: (قاتلناهم).
(٣٨) في [أ، ب، ط، هـ]: (فأخبروه).
(٣٩) في [ع]: (حسنًا).
(٤٠) في [أ، ب، هـ]: (فساروا).
(٤١) سقط من: [هـ].
(٤٢) صحيح؛ أخرجه البخاري (٣١٨٢، ٤٨٤٤)، ومسلم (١٧٨٥)، وأحمد ٣/ ٤٨٥ (١٥٩٧٥)، والنسائي (١١٥٠٤)، وأبو يعلى (٤٧٤)، وإسحاق كما في المطالب العالية (٤٤٣٩).
حضرت حبیب بن ابی ثابت فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابو وائل کے پاس آیا اور میں نے ان سے اس قوم کے بارے میں سوال کیا جن سے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے قتال کیا تھا۔ میں نے کہا کہ انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو کیوں چھوڑا؟ ان کے خون کو حلال کیوں سمجھا؟ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے انہیں کس چیز کی دعوت دی تھی؟ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کے خون کو کس بنا پر حلال قرار دیا؟ انہوں نے فرمایا کہ جب صفین کے مقام پر اہل شام میں قتل زور پکڑ گیا تو حضرت معاویہ اور ان کے ساتھیوں نے ایک پہاڑ کو ٹھکانہ بنایا۔ حضرت عمرو بن عاص نے فرمایا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف مصحف بھیجو، خدا کی قسم! وہ اس کا انکار نہیں کریں گے۔ پس ایک آدمی مصحف لایا اور وہ یہ اعلان کررہا تھا کہ ہمارے اور تمہارے درمیان اللہ کی کتاب ہے { أَلَمْ تَرَ إِلَی الَّذِینَ أُوتُوا نَصِیبًا مِنَ الْکِتَابِ یُدْعَوْنَ إِلَی کِتَابِ اللہِ لِیَحْکُمَ بَیْنَہُمْ ثُمَّ یَتَوَلَّی فَرِیقٌ مِنْہُمْ وَہُمْ مُعْرِضُونَ } اس پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہاں، ہمارے اور تمہارے درمیان اللہ کی کتاب ہے اور میں اس پر عمل کرنے کا تم سے زیادہ پابند ہوں۔ (٢) پھر خوارج آئے اور ان دنوں ہم انہیں ”قرائ“ کہا کرتے تھے۔ وہ اپنی تلواروں کو کندھے پر لٹکا کر لائے اور کہنے لگے اے امیر المؤمنین! کیا ہم ان لوگوں کی طرف پیش قدمی نہ کریں کہ اللہ ان کے اور ہمارے درمیان فیصلہ فرما دے۔ اس پر حضرت سہل بن حنیف نے فرمایا کہ اے لوگو! اپنے نفوس کی مذمت کرو، ہم حدیبیہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے۔ اگر ہم قتال کو مستحسن سمجھتے تو قتال کرتے۔ یہ وہ صلح کا معاہدہ تھا جو مشرکین اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے درمیان ہوا تھا۔ اس موقع پر حضرت عمر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ کیا ہم حق پر اور ہمارا دشمن باطل پر نہیں ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کیوں نہیں۔ ایسا ہی ہے۔ حضرت عمر نے عرض کیا کہ کیا ہمارے مقتول جنت میں اور ان کے مقتول جہنم میں نہیں جائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ایسا ہی ہے۔ حضرت عمر نے عرض کیا کہ پھر ہم اپنے دین میں ذلت کو کیوں قبول کریں، اور واپس لوٹ جائیں جبکہ اللہ نے ان کے اور ہمارے درمیان فیصلہ نہیں فرمایا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اے ابن خطاب! میں اللہ کا رسول ہوں، اللہ مجھے ہرگز ضائع نہیں کرے گا۔ (٣) پھر حضرت عمر غصے کی حالت میں حضرت ابوبکر کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ اے ابوبکر! کیا ہم حق پر اور ہمارا دشمن باطل پر نہیں ہے؟ حضرت ابوبکر نے فرمایا کیوں نہیں۔ ایسا ہی ہے۔ حضرت عمر نے عرض کیا کہ کیا ہمارے مقتول جنت میں اور ان کے مقتول جہنم میں نہیں جائیں گے؟ حضرت ابوبکر نے فرمایا کہ ایسا ہی ہے۔ حضرت عمر نے عرض کیا کہ پھر ہم اپنے دین میں ذلت کو کیوں قبول کریں، اور واپس لوٹ جائیں جبکہ اللہ نے ان کے اور ہمارے درمیان فیصلہ نہیں فرمایا ہے۔ حضرت ابوبکر نے فرمایا کہ اے ابن خطاب! وہ اللہ کے رسول ہوں، اللہ انہیں ہرگز ضائع نہیں کرے گا۔ (٤) پھر اللہ تعالیٰ نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سورة الفتح کو نازل کیا، آپ نے کسی کو بھیج کو حضرت عمر کو بلایا اور ان کے سامنے اس سورت کی تلاوت فرمائی۔ حضرت عمر نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! کیا یہ فتح ہے؟ آپ نے فرمایا جی ہاں۔ پھر وہ خوش ہوگئے اور واپس چلے گئے۔ (٥) اس کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اے لوگو! یہ فتح ہے۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس فیصلے کو قبول فرمالیا اور واپس چلے گئے اور لوگ بھی واپس چلے گئے۔ (٦) حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اس فیصلے کو قبول کرنے کے بعد خوارج کے دس ہزار سے زیادہ لوگ حروراء چلے گئے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے انہیں اللہ کا واسطہ دے کر واپس آنے کو کہا لیکن انہوں نے انکار کردیا۔ پھر ان کے پاس صعصعہ بن صوحان آئے اور اللہ کا واسطہ دیا اور ان سے پوچھا کہ تم کس بنیاد پر اپنے خلیفہ سے قتال کرو گے؟ انہوں نے کہا کہ ہمیں فتنہ کا خوف ہے۔ اس نے کہا کہ آنے والے سال کے فتنے سے عوام کو ابھی سے گمراہ مت کرو۔ وہ واپس چلے گئے اور انہوں نے کہا کہ ہم اپنے علاقے میں جارہے ہیں کیونکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فیصلے کو قبول کرلیا ہے۔ ہم نے اسی وجہ سے قتال کیا جس وجہ سے صفین کی جنگ میں قتال کیا تھا اور اگر وہ فیصلے کو قبول کرنے سے انکار کردیں تو ہم ان کے ساتھ قتال کریں گے۔ (٧) پھر وہ لوگ چلے اور جب وہ نہروان پہنچے تو ایک جماعت ان سے الگ ہوگئی اور لوگوں کو قتل کی دھمکی دینے لگی۔ ان کے ساتھیوں نے کہا کہ تمہارا ناس ہو کیا ہم نے اس بات پر حضرت علی رضی اللہ عنہ سے علیحدگی اختیار کی تھی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ان کی یہ خبر پہنچی تو آپ نے لوگوں میں کھڑے ہوکر خطبہ ارشاد فرمایا اور اس میں فرمایا کہ تم کیا دیکھتے ہو؟ کیا تم شام کی طرف جارہے ہو یا تم ا [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجمل وصلى الله على سيدنا محمد النبي وآله/حدیث: 40724]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 40724، ترقيم محمد عوامة 39069)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 40724 in Urdu