مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
36. الرجل يرفع رأسه قبل الإمام من قال: يعود فيسجد
بیٹھ کر نماز پڑھنے کا ثواب کھڑے ہو کر نماز پڑھنے سے نصف ہے
ترقیم عوامۃ: 4664 ترقیم الشثری: -- 4702
٤٧٠٢ - حدثنا علي بن مسهر عن داود عن ابي عثمان عن مطرف بن عبد الله بن الشخير قال: اتيت الشام فإذا انا برجل يصلي ويركع ويسجد ولا يفصل فقلت: لو قعدت حتى ارشد هذا الشيخ قال: فجلست فلما قضى الصلاة قلت له: يا عبد الله اعلى شفع انصرفت ام على وتر؟ قال: قد كفيت ذلك قلت: ومن يكفيك؟ قال: الكرام (الكاتبون) (١) ما سجدت سجدة إلا رفعني الله بها درجة وحط عني بها خطيئة (٢) ، قلت: من انت يا عبد الله قال: ابو ذر، قلت: ثكلت مطرفا امه يعلم ابا ذر السنة، فلما اتيت منزل كعب قيل لي: قد سال عنك فلما لقيته ذكرت له ⦗٥١٩⦘ امر ابي ذر وما قال لي فقال لي مثل قوله (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ]: (الكاتبين).
(٢) في [أ] زيادة: (حدثنا علي).
(٣) صحيح، أخرجه عبد الرزاق (٣٥٦٢) وورد نحوه مرفوعًا عند الدارمي (١٤٦١) والبزار (٣٩٠٣) وابن قانع (١/ ١٣٥) والبيهقي (٢/ ٤٨٩).
حدثنا حدثنا علي بن مسهر، عن داود، عن ابي عثمان، عن مطرف بن عبد الله بن الشخير، قال: اتيت الشام فإذا انا برجل يصلي، يركع ويسجد ولا يفصل، فقلت: لو قعدت حتى ارشد هذا الشيخ، قال: فجلست، فلما قضى الصلاة، قلت له: يا عبد الله , اعلى شفع انصرفت ام على وتر؟ قال: قد كفيت ذلك، قلت: ومن يكفيك؟ قال:" الكرام الكاتبون ما سجدت سجدة إلا رفعني الله بها درجة وحط عني بها خطيئة" , قلت: من انت يا عبد الله , قال: ابو ذر , قلت: ثكلت مطرفا امه يعلم ابا ذر السنة , فلما اتيت منزل كعب، قيل لي: قد سال عنك فلما لقيته ذكرت له امر ابي ذر وما قال لي: فقال لي مثل قوله
حضرت مطرف بن عبدا للہ بن شخیر فرماتے ہیں کہ میں ملک شام حاضر ہوا تو میں نے دیکھا کہ ایک آدمی نماز پڑھ رہا تھا اور بغیر فصل کے رکوع و سجود کررہا تھا۔ میں نے سوچا کہ مجھے بیٹھ کر ان بزرگ کا کھوج لگانا چاہئے کہ یہ کون ہیں؟ چناچہ میں بیٹھ گیا۔ جب انہوں نے نماز مکمل کرلی تو میں نے کہا اے اللہ کے بندے! آپ نے طاق رکعتیں پڑھ کر سلام پھیرا ہے یا جفت؟ انہوں نے کہا میں اس سے بےنیاز ہوں۔ میں نے پوچھا کہ آپ کو کس نے بےنیاز کیا ہے؟ انہوں نے کہا اعمال لکھنے والے معزز فرشتوں نے۔ کیونکہ میں نے جب بھی سجدہ کیا اللہ تعالیٰ نے میرا ایک درجہ بلند کیا اور مجھ سے ایک گناہ کو ختم کردیا۔ میں نے کہا کہ اے اللہ کے بندے! آپ کون ہیں؟ انہوں نے کہا میں ابو ذر ہوں۔ میں فوراً بولا مطرف کی ماں اسے کھو دے، وہ حضرت ابو ذر کو سنت سکھاتا ہے! جب میں حضرت کعب کے مکان پر حاضر ہوا تو مجھ سے کہا گیا کہ وہ تمہارے بارے میں پوچھ رہے تھے۔ جب میں ان سے ملا تو میں نے ان سے حضرت ابو ذر کی بات کا تذکرہ کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ وہ ٹھیک کہتے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/سجود السهو والعمل في الصلاة/حدیث: 4702]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4702، ترقيم محمد عوامة 4664)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 4702 in Urdu