مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
189. من رخص في الركعتين بعد العصر
جن حضرات نے عصر کے بعد دورکعت پڑھنے کی اجازت دی ہے
ترقیم عوامۃ: 7424 ترقیم الشثری: -- 7544
٧٥٤٤ - حدثنا ابن إدريس عن يزيد (عن) (١) عبد الله بن الحارث قال: دخلت مع ابن عباس على معاوية فاجلسه معاوية على السرير ثم قال له: ما ركعتان يصليهما الناس بعد العصر لم نر رسول الله ﷺ (صلاهما) (٢) ولا امر بهما، قال: ذلك ما يفتي به الناس ابن الزبير، فارسل (إلى) (٣) ابن الزبير فساله (فقال) (٤) : (اخبرتني) (٥) ذلك عائشة فارسل إلى عائشة فقالت: اخبرتني ذلك ام سلمة، (فارسل إلى ام سلمة فانطلقت مع الرسول، فسال ام سلمة) (٦) فقالت يرحمها الله: ما ارادت إلى هذا، فقد (اخبرتها) (٧) إن رسول الله ﷺ نهى عنهما، ان رسول الله ﷺ بينما هو في بيتي يتوضا (للظهر) (٨) وكان قد بعث ساعيا وكثر عنده المهاجرون وكان قد اهمه شانهم إذ ضرب الباب، فخرج إليه فصلى الظهر ثم جلس يقسم ما جاء به، فلم يزل كذلك حتى صلى العصر، فلما فرغ (رآه بلالا) (٩) فاقام الصلاة فصلى العصر (ثم) (١٠) دخل منزلي فصلى ركعتين فلما فرغ قلت: ما الركعتان رايتك تصليهما بعد العصر؟ لم ارك تصليهما، فقال:"شغلني امر الساعي لم اكن صليتهما بعد الظهر فصليتهما"، فقال ابن الزبير: قد صلاهما رسول الله ﷺ ⦗٧٤⦘ فانا اصليهما (١١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (ابن).
(٢) سقط من: [ب].
(٣) في [أ، ب]: (ابن).
(٤) سقط من: [أ].
(٥) في [أ]: (فأخبرتني).
(٦) سقط من: [أ].
(٧) في [ز]: (أجزتها).
(٨) في [أ، ط، هـ]: (الظهر).
(٩) في [هـ]: (رأى بلالًا).
(١٠) في [أ، ب، ك] زيادة: (ثم).
(١١) ضعيف؛ لضعف يزيد، أخرجه أحمد (٢٦٥٨٦)، وابن ماجه (١١٥٩)، والطبراني ٢٣/ (٩٢٩).
حدثنا ابن إدريس ، عن يزيد ، عن عبد الله بن الحارث ، قال:" دخلت مع ابن عباس على معاوية فاجلسه معاوية على السرير، ثم قال له: ما ركعتان يصليهما الناس بعد العصر لم نر رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاهما ولا امر بهما؟ قال: ذلك ما يفتي به الناس ابن الزبير، فارسل إلى ابن الزبير فساله، فقال: اخبرتني ذلك عائشة، فارسل إلى عائشة، فقالت: اخبرتني ذلك ام سلمة، فارسل إلى ام سلمة فانطلقت مع الرسول، فسال ام سلمة ، فقالت: يرحمها الله ما ارادت إلى هذا؟ فقد اخبرتها ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عنهما ؛ إن رسول الله صلى الله عليه وسلم بينما هو في بيتي يتوضا الظهر، وكان قد بعث ساعيا، وكثر عنده المهاجرون، وكان قد اهمه شانهم إذ ضرب الباب، فخرج إليه فصلى الظهر، ثم جلس يقسم ما جاء به، فلم يزل كذلك حتى صلى العصر، فلما فرغ رآه بلال، فاقام الصلاة فصلى العصر، ثم دخل منزلي، فصلى ركعتين، فلما فرغ، قلت: ما الركعتان رايتك تصليهما بعد العصر لم ارك تصليهما؟ فقال: شغلني امر الساعي لم اكن صليتهما بعد الظهر، فصليتهما، فقال ابن الزبير: قد صلاهما رسول الله صلى الله عليه وسلم فانا اصليهما"
حضرت عبد اللہ بن حارث فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ حضرت معاویہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ حضرت معاویہ نے ان کو تخت پر بٹھایا، پھر ان سے فرمایا کہ یہ دو رکعتیں جو لوگ عصر کے بعد پڑھتے ہیں، ان کی کیا حقیقت ہے، ہم نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ نماز پڑھتے نہیں دیکھا اور نہ ہی اس کا حکم دیا ہے؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ حضرت ابن زبیر لوگوں کو اس نماز کا حکم دیتے ہیں۔ حضرت معاویہ نے حضرت ابن زبیر کو بلا کر اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ مجھے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کے بارے میں بتایا ہے۔ حضرت معاویہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس پیغام بھجوایا تو انہوں نے فرمایا کہ مجھے ام سلمہ نے اس بارے میں بتایا ہے۔ حضرت معاویہ نے حضرت ام سلمہ کے پاس آدمی بھیجا تو میں بھی ان کے ساتھ گیا۔ اس نے حضرت ام سلمہ سے سوال کیا تو حضرت ام سلمہ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر رحم فرمائے، انہوں نے یہ مراد کیسے لے لی؟ میں نے انہیں بتایا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دو رکعتوں سے منع فرمایا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے گھر میں تھے اور آپ نے ظہر کے لئے وضو فرمایا۔ آپ نے ایک آدمی کو زکوٰۃ جمع کرنے کے لیے بھیجا ہوا تھا وہ واپس آیا اور اس کے پاس بہت سے مہاجرین جمع ہوگئے۔ اس نے دروازہ کھٹکھٹایا، آپ باہر تشریف لے گئے اور ظہر کی نماز ادا فرمائی۔ پھر بیٹھ کر اس مال کو لوگوں میں تقسیم فرمانے لگے یہاں تک کہ عصر کی نماز کا وقت ہوگیا۔ جب آپ فارغ ہوئے تو حضرت بلال نے آپ کو دیکھ کر عصر کی اقامت کہی اور آپ نے نماز پڑھائی۔ پھر آپ میرے حجرے میں تشریف لائے اور دو رکعتیں ادا فرمائیں۔ جب آپ نماز پڑھ چکے تو میں نے عرض کیا کہ یہ دورکعتیں جو آپ نے ابھی ادا کی ہں م یہ کون سی ہیں؟ میں نے تو پہلے آپ کو یہ نماز ادا کرتے نہیں دیکھا۔ آپ نے فرمایا کہ زکوٰۃ وصول کرنے والے کی مشغولیت نے مجھے ظہر کے بعد کی دو رکعتیں ادا کرنے سے روکے رکھا، میں نے انہیں اب ادا کیا ہے۔ حضرت ابن زبیر نے فرمایا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں ادا کیا ہے تو میں انہیں ضرور پڑھوں گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب صلاة التطوع والإمامة/حدیث: 7544]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7544، ترقيم محمد عوامة 7424)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 7544 in Urdu