🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

189. من رخص في الركعتين بعد العصر
جن حضرات نے عصر کے بعد دورکعت پڑھنے کی اجازت دی ہے
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 7423 ترقیم الشثری: -- 7543
٧٥٤٣ - حدثنا ابو بكر قال: نا وكيع عن هشام بن عروة عن ابيه عن عائشة قالت: ما ترك النبي ﷺ ركعتين بعد العصر في (بيتي) (١) قط (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (شيء).
(٢) صحيح، أخرجه البخاري (٥٩١)، ومسلم (٨٣٥).

حدثنا ابو بكر، قال: نا وكيع ، عن هشام بن عروة ، عن ابيه ، عن عائشة ، قالت: " ما ترك النبي صلى الله عليه وسلم ركعتين بعد العصر في بيتي قط"
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے حجرے میں عصر کے بعد کی دو رکعتوں کو کبھی نہیں چھوڑا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب صلاة التطوع والإمامة/حدیث: 7543]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7543، ترقيم محمد عوامة 7423)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 7424 ترقیم الشثری: -- 7544
٧٥٤٤ - حدثنا ابن إدريس عن يزيد (عن) (١) عبد الله بن الحارث قال: دخلت مع ابن عباس على معاوية فاجلسه معاوية على السرير ثم قال له: ما ركعتان يصليهما الناس بعد العصر لم نر رسول الله ﷺ (صلاهما) (٢) ولا امر بهما، قال: ذلك ما يفتي به الناس ابن الزبير، فارسل (إلى) (٣) ابن الزبير فساله (فقال) (٤) : (اخبرتني) (٥) ذلك عائشة فارسل إلى عائشة فقالت: اخبرتني ذلك ام سلمة، (فارسل إلى ام سلمة فانطلقت مع الرسول، فسال ام سلمة) (٦) فقالت يرحمها الله: ما ارادت إلى هذا، فقد (اخبرتها) (٧) إن رسول الله ﷺ نهى عنهما، ان رسول الله ﷺ بينما هو في بيتي يتوضا (للظهر) (٨) وكان قد بعث ساعيا وكثر عنده المهاجرون وكان قد اهمه شانهم إذ ضرب الباب، فخرج إليه فصلى الظهر ثم جلس يقسم ما جاء به، فلم يزل كذلك حتى صلى العصر، فلما فرغ (رآه بلالا) (٩) فاقام الصلاة فصلى العصر (ثم) (١٠) دخل منزلي فصلى ركعتين فلما فرغ قلت: ما الركعتان رايتك تصليهما بعد العصر؟ لم ارك تصليهما، فقال:"شغلني امر الساعي لم اكن صليتهما بعد الظهر فصليتهما"، فقال ابن الزبير: قد صلاهما رسول الله ﷺ ⦗٧٤⦘ فانا اصليهما (١١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (ابن).
(٢) سقط من: [ب].
(٣) في [أ، ب]: (ابن).
(٤) سقط من: [أ].
(٥) في [أ]: (فأخبرتني).
(٦) سقط من: [أ].
(٧) في [ز]: (أجزتها).
(٨) في [أ، ط، هـ]: (الظهر).
(٩) في [هـ]: (رأى بلالًا).
(١٠) في [أ، ب، ك] زيادة: (ثم).
(١١) ضعيف؛ لضعف يزيد، أخرجه أحمد (٢٦٥٨٦)، وابن ماجه (١١٥٩)، والطبراني ٢٣/ (٩٢٩).

حدثنا ابن إدريس ، عن يزيد ، عن عبد الله بن الحارث ، قال:" دخلت مع ابن عباس على معاوية فاجلسه معاوية على السرير، ثم قال له: ما ركعتان يصليهما الناس بعد العصر لم نر رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاهما ولا امر بهما؟ قال: ذلك ما يفتي به الناس ابن الزبير، فارسل إلى ابن الزبير فساله، فقال: اخبرتني ذلك عائشة، فارسل إلى عائشة، فقالت: اخبرتني ذلك ام سلمة، فارسل إلى ام سلمة فانطلقت مع الرسول، فسال ام سلمة ، فقالت: يرحمها الله ما ارادت إلى هذا؟ فقد اخبرتها ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عنهما ؛ إن رسول الله صلى الله عليه وسلم بينما هو في بيتي يتوضا الظهر، وكان قد بعث ساعيا، وكثر عنده المهاجرون، وكان قد اهمه شانهم إذ ضرب الباب، فخرج إليه فصلى الظهر، ثم جلس يقسم ما جاء به، فلم يزل كذلك حتى صلى العصر، فلما فرغ رآه بلال، فاقام الصلاة فصلى العصر، ثم دخل منزلي، فصلى ركعتين، فلما فرغ، قلت: ما الركعتان رايتك تصليهما بعد العصر لم ارك تصليهما؟ فقال: شغلني امر الساعي لم اكن صليتهما بعد الظهر، فصليتهما، فقال ابن الزبير: قد صلاهما رسول الله صلى الله عليه وسلم فانا اصليهما"
حضرت عبد اللہ بن حارث فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ حضرت معاویہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ حضرت معاویہ نے ان کو تخت پر بٹھایا، پھر ان سے فرمایا کہ یہ دو رکعتیں جو لوگ عصر کے بعد پڑھتے ہیں، ان کی کیا حقیقت ہے، ہم نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ نماز پڑھتے نہیں دیکھا اور نہ ہی اس کا حکم دیا ہے؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ حضرت ابن زبیر لوگوں کو اس نماز کا حکم دیتے ہیں۔ حضرت معاویہ نے حضرت ابن زبیر کو بلا کر اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ مجھے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کے بارے میں بتایا ہے۔ حضرت معاویہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس پیغام بھجوایا تو انہوں نے فرمایا کہ مجھے ام سلمہ نے اس بارے میں بتایا ہے۔ حضرت معاویہ نے حضرت ام سلمہ کے پاس آدمی بھیجا تو میں بھی ان کے ساتھ گیا۔ اس نے حضرت ام سلمہ سے سوال کیا تو حضرت ام سلمہ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر رحم فرمائے، انہوں نے یہ مراد کیسے لے لی؟ میں نے انہیں بتایا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دو رکعتوں سے منع فرمایا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے گھر میں تھے اور آپ نے ظہر کے لئے وضو فرمایا۔ آپ نے ایک آدمی کو زکوٰۃ جمع کرنے کے لیے بھیجا ہوا تھا وہ واپس آیا اور اس کے پاس بہت سے مہاجرین جمع ہوگئے۔ اس نے دروازہ کھٹکھٹایا، آپ باہر تشریف لے گئے اور ظہر کی نماز ادا فرمائی۔ پھر بیٹھ کر اس مال کو لوگوں میں تقسیم فرمانے لگے یہاں تک کہ عصر کی نماز کا وقت ہوگیا۔ جب آپ فارغ ہوئے تو حضرت بلال نے آپ کو دیکھ کر عصر کی اقامت کہی اور آپ نے نماز پڑھائی۔ پھر آپ میرے حجرے میں تشریف لائے اور دو رکعتیں ادا فرمائیں۔ جب آپ نماز پڑھ چکے تو میں نے عرض کیا کہ یہ دورکعتیں جو آپ نے ابھی ادا کی ہں م یہ کون سی ہیں؟ میں نے تو پہلے آپ کو یہ نماز ادا کرتے نہیں دیکھا۔ آپ نے فرمایا کہ زکوٰۃ وصول کرنے والے کی مشغولیت نے مجھے ظہر کے بعد کی دو رکعتیں ادا کرنے سے روکے رکھا، میں نے انہیں اب ادا کیا ہے۔ حضرت ابن زبیر نے فرمایا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں ادا کیا ہے تو میں انہیں ضرور پڑھوں گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب صلاة التطوع والإمامة/حدیث: 7544]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7544، ترقيم محمد عوامة 7424)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 7425 ترقیم الشثری: -- 7545
٧٥٤٥ - حدثنا معاذ بن معاذ عن ابن عون قال: رايت ابا بردة بن ابي موسى يصلي بعد العصر ركعتين.
حدثنا حدثنا معاذ بن معاذ، عن ابن عون، قال:" رايت ابا بردة بن ابي موسى يصلي بعد العصر ركعتين"
حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو بردہ بن ابی موسیٰ کو عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھتے دیکھا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب صلاة التطوع والإمامة/حدیث: 7545]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7545، ترقيم محمد عوامة 7425)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 7426 ترقیم الشثری: -- 7546
٧٥٤٦ - حدثنا ابو داود عن شعبة عن اشعث بن ابي الشعثاء قال: خرجت مع ابي وعمرو بن ميمون والاسود بن يزيد وابي وائل فكانوا يصلون بعد العصر ركعتين.
حدثنا ابو داود، عن شعبة، عن اشعث بن ابي الشعثاء، قال:" خرجت مع ابي، وعمرو بن ميمون، والاسود بن يزيد، وابي وائل، فكانوا يصلون بعد العصر ركعتين"
حضرت اشعث بن ابی الشعثاء فرماتے ہیں کہ میں اپنے والد، حضرت عمرو بن میمون، حضرت اسود بن یزید اور حضرت ابو وائل کے ساتھ نکلا پس یہ لوگ عصر کے بعددو رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب صلاة التطوع والإمامة/حدیث: 7546]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7546، ترقيم محمد عوامة 7426)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 7427 ترقیم الشثری: -- 7547
٧٥٤٧ - حدثنا عفان قال: نا ابو عوانة قال: (ثنا) (١) إبراهيم (بن) (٢) محمد بن المنتشر عن ابيه انه كان يصلي بعد العصر ركعتين فقيل له فقال: لو لم اصلهما إلا اني رايت مسروقا يصليهما لكان ثقة ولكني سالت عائشة فقالت: كان رسول الله ﷺ لا يدع ركعتين قبل الفجر وركعتين بعد العصر (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ك]: (نا).
(٢) في [أ]: (عن).
(٣) صحيح؛ وبنحوه أخرجه البخاري (٥٩٠)، ومسلم (٨٣٥).

حدثنا عفان ، قال: نا ابو عوانة ، قال: ثنا إبراهيم بن محمد بن المنتشر ، عن ابيه :" انه كان يصلي بعد العصر ركعتين فقيل له؟، فقال: لو لم اصلهما إلا اني رايت مسروقا يصليهما لكان ثقة، ولكني سالت عائشة ، فقالت: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يدع ركعتين قبل الفجر، وركعتين بعد العصر"
حضرت ابراہیم بن محمد بن منتشر فرماتے ہیں کہ ان کے والد عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔ ان سے اس پر اعتراض کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں یہ دو رکعتیں نہ پڑھتاتو اچھا ہوتا لیکن میں نے حضرت مسروق کو یہ دو رکعتیں پڑھتے دیکھا۔ پھر میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فجر سے پہلے اور عصر کے بعد کی دو رکعتیں کبھی نہ چھوڑتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب صلاة التطوع والإمامة/حدیث: 7547]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7547، ترقيم محمد عوامة 7427)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 7428 ترقیم الشثری: -- 7548
٧٥٤٨ - حدثنا عفان قال: نا ابو عوانة قال: نا إبراهيم بن محمد بن المنتشر عن ابي طلحة (مولى) (١) شريح قال: كان شريح يصلي ركعتين بعد العصر اخذهما عن مسروق.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (وابن).
حدثنا عفان، قال: نا ابو عوانة، قال: نا إبراهيم بن محمد بن المنتشر، عن ابي طلحة، مولى شريح، قال:" كان شريح يصلي ركعتين بعد العصر" اخذهما عن مسروق
حضرت ابو طلحہ مولی شریح فرماتے ہیں کہ حضرت شریح عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے اور انہوں نے یہ عمل حضرت مسروق سے لیا تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب صلاة التطوع والإمامة/حدیث: 7548]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7548، ترقيم محمد عوامة 7428)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 7429 ترقیم الشثری: -- 7549
٧٥٤٩ - حدثنا عفان قال: نا حماد بن سلمة عن هشام بن عروة عن ابيه ان الزبير وعبد الله ابن الزبير كانا يصليان بعد العصر ركعتين (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) صحيح.
حدثنا حدثنا عفان، قال: نا حماد بن سلمة، عن هشام بن عروة، عن ابيه:" ان الزبير ، وعبد الله بن الزبير كانا يصليان بعد العصر ركعتين"
حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ حضرت زبیر اور حضرت عبد اللہ بن زبیر عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب صلاة التطوع والإمامة/حدیث: 7549]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7549، ترقيم محمد عوامة 7429)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 7430 ترقیم الشثری: -- 7550
٧٥٥٠ - حدثنا وكيع عن (إسرائيل عن ابي) (١) إسحاق عن عاصم بن ضمرة عن علي انه صلى بفسطاطه بصفين ركعتين بعدالعصر (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ب، ك].
(٢) حسن؛ عاصم صدوق.

حدثنا حدثنا وكيع، عن إسرائيل، عن ابي إسحاق، عن عاصم بن ضمرة، عن علي :" انه صلى بفسطاطه بصفين ركعتين بعد العصر"
حضرت عاصم بن ضمرہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے خیمے میں عصر کے بعد دو رکعتیں ادا فرمائیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب صلاة التطوع والإمامة/حدیث: 7550]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7550، ترقيم محمد عوامة 7430)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 7431 ترقیم الشثری: -- 7551
٧٥٥١ - حدثنا (١) وكيع (نا) (٢) طلحة بن يحيى قال: سمعت (عبيد الله) (٣) بن عبد الله بن عتبة عن ام سلمة (قالت) (٤) : شغل النبي ﷺ عن الركعتين بعد الظهر فصلاهما بعد العصر (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ك]: (نا).
(٢) في [أ]: (حدثني).
(٣) في [ب]: (عبد اللَّه).
(٤) في [ك]: (قال).
(٥) حسن؛ طلحة صدوق، والحديث أخرجه البخاري (١٢٣٣)، ومسلم (٨٣٤).

حدثنا وكيع ، قال: نا طلحة بن يحيى ، قال: سمعت عبيد الله بن عبد الله بن عتبة ، عن ام سلمة ، قالت: " شغل النبي صلى الله عليه وسلم عن الركعتين بعد الظهر، فصلاهما بعد العصر"
حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ظہر کے بعد ایک مصروفیت کی وجہ سے ظہر کے بعد کی دو سنتیں نہ ادا کرسکے تو آپ نے انہیں عصر کے بعد ادا فرمایا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب صلاة التطوع والإمامة/حدیث: 7551]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7551، ترقيم محمد عوامة 7431)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 7432 ترقیم الشثری: -- 7552
٧٥٥٢ - حدثنا جعفر بن عون عن مسعر عن حبيب بن (ابي) (١) ثابت عن ابي الضحى عن مسروق قال: حدثتني الصديقة بنت الصديق ان رسول الله ﷺ ما دخل عليها بعد العصر إلا صلى ركعتين (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ب، هـ].
(٢) صحيح؛ أعل برواية مسعر له عن عمرو بن مرة عن أبي الضحى، ولا مانع من كون الوجهين محفوظين، وأخرجه من طريق مسعر البيهقي ٢/ ٤٥٨، وأحمد (٢٦٠٤٤)، وأصل الحديث عند البخاري (٥٩١)، ومسلم (٨٣٥).

حدثنا جعفر بن عون ، عن مسعر ، عن حبيب بن ابي ثابت ، عن ابي الضحى ، عن مسروق ، قال: حدثتني الصديقة بنت الصديق:" ان رسول الله صلى الله عليه وسلم ما دخل عليها بعد العصر إلا صلى ركعتين"
حضرت مسروق فرماتے ہیں کہ مجھ سے صدیقہ بنت صدیق (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا) نے بیان فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بھی ان کے گھر عصر کے بعد تشریف لائے آپ نے دو رکعتیں ادا فرمائیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب صلاة التطوع والإمامة/حدیث: 7552]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 7552، ترقيم محمد عوامة 7432)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں