مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
287. من كان يقصر الصلاة
جو حضرات سفر میں قصر نماز پڑھا کرتے تھے
ترقیم عوامۃ: 8258 ترقیم الشثری: -- 8392
٨٣٩٢ - حدثنا ابن علية عن علي بن زيد عن ابي نضرة قال: مر عمران بن حصين في مجلسنا فقام إليه فتى من القوم فساله عن صلاة رسول الله ﷺ في الحج والغزو والعمرة، فجاء فوقف علينا فقال: (إن) (١) هذا سالني عن امر فاردت ان تسمعوه او كما قال: (قال) (٢) غزوت مع رسول الله ﷺ فلم يصل إلا ركعتين حتى رجع إلى المدينة، وحججت معه فلم يصل إلا ركعتين حتى رجع إلى المدينة، وشهدت معه الفتح فاقام بمكة ثماني (عشرة) (٣) ليلة لا يصلي إلا ركعتين (٤) يقول (لاهل) (٥) البلد:"صلوا اربعا فإنا سفر"، واعتمرت معه ثلاث عمر لا يصلي إلا ركعتين، وحججت مع ابي بكر وغزوت فلم يصل إلا ركعتين حتى رجع إلى المدينة، (وحججت مع عمر حجات فلم يصل إلا ركعتين حتى رجع إلى المدينة) (٦) ، ⦗٢٧٤⦘ وحججت مع عثمان سبع سنين من إمارته لا يصلي إلا ركعتين ثم (صلى) (٧) بمنى اربعا (٨) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (أما).
(٢) سقط من: [أ، ك].
(٣) في [ك، ب]: (عشر).
(٤) زيادة في [أ]: (وحججت مع أبي بكر).
(٥) في [هـ]: (لأهلي).
(٦) سقط من: [أ].
(٧) في [ك]: (صلاها).
(٨) ضعيف؛ لضعف علي بن زيد بن جدعان، أخرجه أحمد (١٩٨٧)، وأبو داود (١٢٢٩)، والترمذي (٥٤٥)، وابن خزيمة (١٦٤٣)، والشافعي في السنن (١٢)، والطيالسي (٨٤٠)، والبزار (٣٦٠٨)، والطبراني ١٨/ (٥١٥)، والدولابي ٢/ ٧، وابن المنذر في الأوسط (٢٢٤٣)، والطحاوي ١/ ٤١٧، والبيهقي ٣/ ١٣٥.
حدثنا ابن علية ، عن علي بن زيد ، عن ابي نضرة ، قال:" مر عمران بن حصين في مجلسنا، فقام إليه فتى من القوم، فساله عن صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم في الحج والغزو والعمرة، فجاء، فوقف علينا، فقال: إن هذا سالني عن امر فاردت ان تسمعوه، او كما قال: قال: غزوت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم، فلم يصل إلا ركعتين حتى رجع إلى المدينة، وحججت معه، فلم يصل إلا ركعتين حتى رجع إلى المدينة، وشهدت معه الفتح، فاقام بمكة ثمان عشرة ليلة لا يصلي إلا ركعتين، يقول لاهل البلد: صلوا اربعا، فإنا سفر، واعتمرت معه ثلاث عمر، لا يصلي إلا ركعتين، وحججت مع ابي بكر، وغزوت، فلم يصل إلا ركعتين، حتى رجع إلى المدينة، وحججت مع عمر حجات، فلم يصل إلا ركعتين، حتى رجع إلى المدينة، وحججت مع عثمان سبع سنين من إمارته، لا يصلي إلا ركعتين، ثم صلى بمنى اربعا"
حضرت ابو نضرہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمران بن حصین ہماری مجلس کے پاس سے گذرے تو ایک نوجوان نے کھڑے ہو کر ان سے کہا کہ آپ ہمیں یہ بتائیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حج، جہاد اور عمرے میں کیسی نماز ادا فرماتے تھے؟ وہ آئے اور ہمارے پاس کھڑے ہوگئے اور فرمایا: اس نے مجھ سے ایسی بات کے بارے میں سوال کیا ہے جو میں تمہیں بھی سنانا چاہتا ہوں۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جہاد میں حصہ لیا ہے۔ آپ مدینہ واپس آنے تک دو رکعتیں پڑھتے تھے۔ میں نے آپ کے ساتھ حج کیا ہے آپ مدینہ آنے تک دو رکعتیں پڑھتے تھے۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ فتح مکہ والے سال مکہ میں قیام پذیر رہا، آپ نے اٹھارہ راتیں وہاں قیام فرمایا۔ اس دوران آپ دو رکعات نماز پڑھاتے اور پھر سلام پیرمکر مکہ والوں سے کہتے تھے کہ اپنی چار رکعات پوری کرلو ہم مسافر لوگ ہیں۔ میں نے حضر ت ابوبکر کے ساتھ حج اور جہاد کیا وہ مدینہ آنے تک دو رکعتیں ہی پڑھتے تھے۔ میں نے حضرت عمر کے ساتھ کئی حج کئے وہ مدینہ آنے تک دو رکعتیں ہی پڑھتے تھے۔ میں نے حضرت عثمان کی امارت میں سات سال حج کیا وہ بھی دو رکعتیں ہی پڑھتے تھے۔ پھر انہوں نے منی میں چار رکعتیں ادا فرمائیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب صلاة التطوع والإمامة/حدیث: 8392]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 8392، ترقيم محمد عوامة 8258)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 8392 in Urdu