مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
341. من كان يكره إذا أكل بصلا أو ثوما أن يحضر المسجد
جن حضرات کے نزدیک پیاز یا تھوم کھا کر مسجد میں آنا مکروہ ہے
ترقیم عوامۃ: 8747 ترقیم الشثری: -- 8894
٨٨٩٤ - حدثنا وكيع قال: ثنا سليمان بن المغيرة عن حميد بن هلال العدوي عن ابي بردة عن الغيرة بن شعبة قال: اكلت ثوما ثم اتيت مصلى النبي ﷺ فوجدته ⦗٣٩٨⦘ قد سبقني بركعة، فلما قمت اقضي وجد ريح الثوم فقال:"من اكل من هذه البقلة فلا يقربن مسجدنا (١) حتى يذهب ريحها"، قال: مغيرة فلما قضيت الصلاة اتيته، فقلت: يا رسول الله (إن لي عذرا فناولني) (٢) يدك، قال: فوجدته والله سهلا فناولني يده (فادخلتها) (٣) (في كمي) (٤) إلى صدري فوجده (معصوبا) (٥) فقال:"إن لك عذرا" (٦) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ك] زيادة: (هذا).
(٢) في [هـ]: (هل لك أن تعطي).
(٣) في [ز]: (فأدخلها).
(٤) سقط من: [هـ].
(٥) في [ب]: (مغصوبًا).
(٦) صحيح، أخرجه أحمد (١٨٢٠٥)، وأبو داود (٣٨٢٦)، وابن خزيمة (١٦٧٢)، وابن حبان (٢٠٩٥)، والطحاوي (٤/ ٢٣٨)، والطبراني ٢٠/ (١٠٠٣)، والبيهقي ٣/ ٧٧، وسيأتي ٨/ ١١٤.
حدثنا وكيع ، قال: ثنا سليمان بن المغيرة ، عن حميد بن هلال العدوي ، عن ابي بردة ، عن المغيرة بن شعبة ، قال: اكلت ثوما، ثم اتيت مصلى النبي صلى الله عليه وسلم، فوجدته قد سبقني بركعة، فلما قمت اقضي وجد ريح الثوم، فقال: " من اكل من هذه البقلة، فلا يقربن مسجدنا حتى يذهب ريحها، قال مغيرة: فلما قضيت الصلاة، اتيته فقلت: يا رسول الله , إن لي عذرا، فناولني يدك، قال: فوجدته، والله سهلا، فناولني يده، فادخلتها في كمي إلى صدري، فوجده معصوبا، فقال: إن لك عذرا"
حضرت مغیرہ بن شعبہ فرماتے ہیں کہ ایک دن میں نے تھوم کھایا اور پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مسجد میں آگیا۔ جب میں مسجد میں پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک رکعت پڑھا چکے تھے۔ جب میں اپنی رکعت پوری کرنے کے لئے کھڑا ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تھوم کی بدبو محسوس ہوئی۔ آپ نے فرمایا کہ جو یہ سبزی کھائے وہ اس وقت تک مسجد میں نہ آئے جب تک اس کی بدبو ختم نہ ہوجائے۔ حضرت مغیرہ کہتے ہیں کہ جب میں نے نماز پوری کرلی تو میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! میرا ایک عذر ہے، آپ اپنا ہاتھ مجھے دیجئے۔ خدا کی قسم! میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بہت نرم مزاج پایا۔ آپ نے اپنا ہاتھ مجھے دیا تو میں نے آپ کے دست مبارک کو اپنے سینے پر پھیرا۔ آپ نے اسے بندھا ہوا پایا تو فرمایا کہ تمہیں واقعی عذر ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب صلاة التطوع والإمامة/حدیث: 8894]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 8894، ترقيم محمد عوامة 8747)
Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 8894 in Urdu