🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
23. من كان يفطر من التطوع ولا يقضي
جو حضرات نفلی روزہ توڑنے پر قضاء کے قائل نہ تھے
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 9191 ترقیم الشثری: -- 9346
٩٣٤٦ - حدثنا ابو الاحوص عن سماك (عن إبراهيم) (١) عن (ابن ام هانيء عن) (٢) (ام) (٣) هانئ (قالت) (٤) : كنت قاعدة عند رسول الله ﷺ فاتي بشراب فشرب منه ثم ناولنيه فشربت، قالت: (فقلت) (٥) : يا رسول الله قد اذنبت فاستغفر لي قال:"وما ذاك؟" قالت: كنت صائمة فافطرت قال:"امن قضاء كنت تقضينه؟" قالت: لا، قال:"لا يضرك" (٦) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ].
(٢) سقط من: [ص، ز، هـ].
(٣) سقط من: [ص، هـ].
(٤) في [أ]: (قال).
(٥) سقط من: [أ، ص، ز، ك]، وفي [ط، هـ]: (قلت).
(٦) مجهول؛ لجهالة ابن أم هانئ، والحديث مضطرب، اضطرب سماك فيه كثيرًا، وأخرجه أحمد (٢٦٨٩٧)، وأبو داود (٢٤٥٦)، والترمذي (٧٣١)، والنسائي في الكبري (٣٣٠٦)، والدارمي (١٧٣٦)، وابن أبي عاصم في الآحاد (٣١٥٣)، وإسحاق (٢١٣٢)، والطيالسي (١٦١٦)، والبيهقي ٤/ ٢٧٦، والدارقطني ٢/ ١٧٤، والطبراني ٢٤/ (٩٩٢) والطحاوي ٢/ ١٠٧، والبغوي (١٨١٣)، وابن عدي ٢/ ٦٠١، والعقيلي ١/ ٢٠٦، والجصاص في أحكام القرآن (١/ ٢٩٦)، وابن عبد البر في التمهيد ١٢/ ٧٣، وابن الجوزي في التحقيق (١١٣٩)، والخطيب في الجامع (١١٤٩).

حدثنا ابو الاحوص ، عن سماك ، عن إبراهيم ، عن ابن ام هانئ عن ام هانئ ، قالت:" كنت قاعدة عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فاتي بشراب فشرب منه، ثم ناولنيه فشربت، قالت: قلت يا رسول الله , قد اذنبت فاستغفر لي، قال: وما ذاك؟، قالت: كنت صائمة فافطرت، قال: امن قضاء كنت تقضينه؟، قالت: لا، قال: لا يضرك"
حضرت ام ہانی فرماتی ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھی تھی۔ آپ کے پاس پینے کی کوئی چیز لائی گئی جو آپ نے پی لی۔ آپ نے وہ چیز مجھے دی میں نے بھی اس میں سے پی لیا۔ پھر میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! میں نے ایک گناہ کیا ہے، میرے لئے استغفار فرمادیجئے۔ آپ نے پوچھا تم نے ایسا کون سا گناہ کیا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ میں روزے سے تھی میں نے روزہ توڑ دیا۔ آپ نے فرمایا کہ کیا تم کسی روزے کی قضا کررہی تھیں؟ میں نے کہا نہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں اس کا کوئی نقصان نہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الصيام/حدیث: 9346]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 9346، ترقيم محمد عوامة 9191)


Musanif Ibn Abi Shaiba Hadith 9346 in Urdu