الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
32. باب ذكر التكبير ورفع اليدين عند الافتتاح والركوع والرفع منه وقدر ذلك واختلاف الروايات
باب: تکبیر تحریمہ، نماز کے آغاز میں، رکوع میں جاتے ہوئے، رکوع سے اٹھتے ہوئے، رفع یدین کرنا، اس کی مقدار اور اس بارے میں روایات کا اختلاف
ترقیم العلمیہ : 1096 ترقیم الرسالہ : -- 1111
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمَحَامِلِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْبَاهِلِيُّ ، قَالا: نا أَبُو عُتْبَةَ أَحْمَدُ بْنُ الْفَرَجِ ثنا بَقِيَّةُ ، ثنا الزُّبَيْدِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى إِذَا كَانَتَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ كَبَّرَ، ثُمَّ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ رَفَعَهُمَا حَتَّى يَكُونَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ وَهُمَا كَذَلِكَ، ثُمَّ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْفَعَ صُلْبَهُ رَفَعَهُمَا حَتَّى يَكُونَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ قَالَ:" سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ"، ثُمَّ سَجَدَ فَلا يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي السُّجُودِ وَيَرْفَعُهُمَا فِي كُلِّ تَكْبِيرَةٍ يُكَبِّرُهَا قَبْلَ الرُّكُوعِ حَتَّى تَنْقَضِيَ صَلاتُهُ .
سالم رحمہ اللہ اپنے والد سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھ بلند کرتے، یہاں تک کہ وہ کندھوں کے مقابل آ جاتے، پھر تکبیر کہتے۔ جب رکوع میں جانے لگتے تو دونوں ہاتھ بلند کرتے، یہاں تک کہ وہ کندھوں کے مقابل آ جاتے، پھر رکوع میں چلے جاتے۔ جب رکوع سے اٹھتے تو دونوں ہاتھ بلند کرتے، یہاں تک کہ وہ کندھوں کے مقابل آ جاتے، پھر ”سمع اللہ لمن حمدہ“ پڑھتے، پھر سجدے میں چلے جاتے۔ سجدوں کے درمیان آپ رفع یدین نہیں کرتے تھے۔ پوری نماز کے دوران جب بھی رکوع میں جاتے ہوئے تکبیر کہتے تو رفع یدین کرتے تھے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الصلاة/حدیث: 1111]
ترقیم العلمیہ: 1096
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 735، 736، 738، 739، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 390، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 245، 250، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 456، 583، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 875، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 721، 722، 741، 742، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 255، 256، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 858، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1110، 1111، 1112، 1113، 1114، 1115، 1116، 1117، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 626، والطبراني فى ((الصغير)) برقم: 1168، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 4628»
الحكم على الحديث: صحيح
الرواة الحديث:
سالم بن عبد الله العدوي ← عبد الله بن عمر العدوي