سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
32. باب ذكر التكبير ورفع اليدين عند الافتتاح والركوع والرفع منه وقدر ذلك واختلاف الروايات
باب: تکبیر تحریمہ، نماز کے آغاز میں، رکوع میں جاتے ہوئے، رکوع سے اٹھتے ہوئے، رفع یدین کرنا، اس کی مقدار اور اس بارے میں روایات کا اختلاف
ترقیم العلمیہ : 1103 ترقیم الرسالہ : -- 1118
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا عِيسَى بْنُ أَبِي عِمْرَانَ ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ:" كَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا رَأَى رَجُلا يُصَلِّي لا يَرْفَعُ يَدَيْهِ كُلَّمَا خَفَضَ وَرَفَعَ حَصَبَهُ حَتَّى يَرْفَعَ" .
نافع بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب کسی ایسے شخص کو دیکھتے جو نماز ادا کرتے ہوئے جھکتے ہوئے رفع یدین نہیں کرتا تو وہ اسے کنکریاں مارنے کے لیے اٹھا لیتے تھے یہاں تک کہ وہ شخص رفع یدین کرنے لگتا تھا۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الصلاة/حدیث: 1118]
ترقیم العلمیہ: 1103
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1118، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 627،»
الحكم على الحديث: صحيح
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥عيسى بن أبي عمران البزار، أبو عمرو عيسى بن أبي عمران البزار ← عبد الله بن عمر العدوي | مقبول |
عيسى بن أبي عمران البزار ← عبد الله بن عمر العدوي