یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
57. باب صلاة الإمام وهو جنب أو محدث
باب: امام جب جنابت یا بےوضو حالت میں ہو، اس وقت اس کا نماز ادا کرنا
ترقیم العلمیہ : 1354 ترقیم الرسالہ : -- 1370
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، ثنا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، ثنا أَبُو حَفْصٍ الأَبَّارُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ ،" أَنَّهُ صَلَّى بِالْقَوْمِ وَهُوَ جُنُبٌ فَأَعَادَ ثُمَّ أَمَرَهُمْ فَأَعَادُوا" . عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ هُوَ أَبُو خَالِدٍ الْوَاسِطِيُّ. وَهُوَ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ رَمَاهُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ بِالْكَذِبِ.
عاصم بن ضمرہ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں: ایک مرتبہ انہوں نے (بھولے سے) جنابت کی حالت میں لوگوں کو نماز پڑھا دی، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے دوبارہ نماز ادا کی اور لوگوں کو بھی یہ ہدایت کی کہ وہ نماز کو دہرائیں۔ اس روایت کا راوی عمرو بن خالد، یہ شخص ابوخالد واسطی ہے (جس نے امام زید کے حوالے سے مسند امام زید نقل کی ہے)، یہ شخص متروک الحدیث ہے، امام احمد بن حنبل نے اسے جھوٹا قرار دیا ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الصلاة/حدیث: 1370]
ترقیم العلمیہ: 1354
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 4148، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1370، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 3661، 3662، 3663، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 4605»
«قال الدارقطني: عمرو بن خالد أبو خالد الواسطي متروك الحديث رماه أحمد بن حنبل بالكذب، نصب الراية لأحاديث الهداية: (2 / 58)»
«قال الدارقطني: عمرو بن خالد أبو خالد الواسطي متروك الحديث رماه أحمد بن حنبل بالكذب، نصب الراية لأحاديث الهداية: (2 / 58)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
الرواة الحديث:
Sunan al-Daraqutni Hadith 1370 in Urdu
عاصم بن ضمرة السلولي ← علي بن أبي طالب الهاشمي