سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
59. باب صفة السهو فى الصلاة وأحكامه واختلاف الروايات فى ذلك وأنه لا يقطع الصلاة شيء يمر بين يديه
باب: نماز کے دوران سہو کی صورت میں اور اس کے احکام، اس بارے میں منقول روایات میں اختلاف کسی بھی چیز کے آگے سے گزرنے کی وجہ سے نماز نہیں ٹوٹتی۔
ترقیم العلمیہ : 1373 ترقیم الرسالہ : -- 1389
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، ثنا سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ الأَبْرَشُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، ذَكَرَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ شَيْئًا مِنْ أَمْرِ الصَّلاةِ فَأَتَى عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ ، فَقَالَ: أَلا أُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي النُّقْصَانِ فَلْيُصَلِّ حَتَّى يَكُونَ الشَّكُّ فِي الزِّيَادَةِ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ نماز کے کسی مسئلے پر گفتگو کر رہا تھا، اسی دوران سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بھی ہمارے پاس تشریف لائے، انہوں نے فرمایا: کیا میں آپ لوگوں کو وہ حدیث سناؤں جو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہے؟ ہم نے کہا: جی ہاں، تو انہوں نے بتایا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جب کسی شخص کو نماز میں کسی کمی کے بارے میں شک ہو، تو وہ اتنی نماز ادا کرے کہ وہ شک اضافے کے بارے میں ہو جائے۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب الصلاة/حدیث: 1389]
ترقیم العلمیہ: 1373
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 899، 900، 901، 902، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1215، 1217، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 398، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1209، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 3875، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1389، 1390، 1391، 1392، 1393، 1415، 1416، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 1678»
«قال ابن حجر: في إسناده إسماعيل بن مسلم المكي وهو ضعيف، تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: (1 / 306)»
«قال ابن حجر: في إسناده إسماعيل بن مسلم المكي وهو ضعيف، تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: (1 / 306)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
الرواة الحديث:
عبد الله بن العباس القرشي ← عبد الرحمن بن عوف الزهري