سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
59. باب صفة السهو فى الصلاة وأحكامه واختلاف الروايات فى ذلك وأنه لا يقطع الصلاة شيء يمر بين يديه
باب: نماز کے دوران سہو کی صورت میں اور اس کے احکام، اس بارے میں منقول روایات میں اختلاف کسی بھی چیز کے آگے سے گزرنے کی وجہ سے نماز نہیں ٹوٹتی۔
ترقیم العلمیہ : 1376 ترقیم الرسالہ : -- 1393
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَعِيدٍ الرَّهَاوِيُّ ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، ثنا عَمَّارُ بْنُ مَطَرٍ ، ثنا ابْنُ ثَوْبَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا سَهَى أَحَدُكُمْ فِي الثِّنْتَيْنِ أَوِ الْوَاحِدَةِ فَلْيَجْعَلْهَا وَاحِدَةً، وَإِذَا شَكَّ فِي الثِّنْتَيْنِ أَوِ الثَّلاثِ فَلْيَجْعَلْهَا اثْنَتَيْنِ، وَإِذَا شَكَّ فِي الثَّلاثِ أَوِ الأَرْبَعِ فَلْيَجْعَلْهَا ثَلاثًا، ثُمَّ لِيُتِمَّ مَا بَقِيَ حَتَّى يَكُونَ الْوَهْمُ فِي الزِّيَادَةِ، وَلا يَكُونَ فِي النُّقْصَانِ، ثُمَّ يَسْجُدُ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب کسی شخص کو دو یا ایک رکعت کے بارے میں غلطی لگ جائے، تو وہ اسے ایک سمجھے اور جب اسے دو یا تین کے بارے میں شک ہو، تو وہ انہیں دو سمجھے اور جب اسے تین یا چار کے بارے میں شک ہو، تو وہ انہیں تین سمجھے اور پھر باقی رہ جانے والی نماز کو مکمل کر لے، یہاں تک کہ اسے وہم زیادہ ہو جانے کے بارے میں ہو، کمی کے بارے میں نہ ہو، اس کے بعد جب وہ بیٹھا ہوا ہو (یعنی تشہد پڑھ رہا ہو) اس وقت دو سجدے کرے (یعنی سجدہ سہو کرے)۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب الصلاة/حدیث: 1393]
ترقیم العلمیہ: 1376
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 899، 900، 901، 902، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1215، 1217، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 398، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1209، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 3875، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1389، 1390، 1391، 1392، 1393، 1415، 1416، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 1678»
«قال الذھبی: فيه عمار بن مطر الرهاوي وقد تركوه، عمدة القاري شرح صحيح البخاري: (7 / 312)»
«قال الذھبی: فيه عمار بن مطر الرهاوي وقد تركوه، عمدة القاري شرح صحيح البخاري: (7 / 312)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
الرواة الحديث:
Sunan al-Daraqutni Hadith 1393 in Urdu
عبد الله بن العباس القرشي ← عبد الرحمن بن عوف الزهري