سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
77. باب الصلاة فى القوس والقرن والنعل وطرح الشيء فى الصلاة إذا كان فيه نجاسة
باب: کمان، سینگ، جوتا پہن کر نماز پڑھنا، جب کسی چیز میں نجاست لگی ہوئی تو اسے نماز کے دوران اتار دینا
ترقیم العلمیہ : 1470 ترقیم الرسالہ : -- 1487
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي سَمِينَةَ ، ثنا صَالِحُ بْنُ بَيَانٍ ، ثنا فُرَاتُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ سورة الأعراف آية 31، قَالَ: الصَّلاةُ فِي النَّعْلَيْنِ، وَقَدْ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَعْلَيْهِ فَخَلَعَهُمَا فَخَلَعَ النَّاسُ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلاةَ، قَالَ:" لِمَ خَلَعْتُمْ نِعَالَكُمْ؟"، قَالُوا: رَأَيْنَاكَ خَلَعْتَ فَخَلَعْنَا، قَالَ:" إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلامُ أَتَانِي، فَقَالَ: إِنَّ فِيهِمَا دَمُ حَلَمَةٍ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: (ارشاد باری تعالیٰ ہے): ”ہر نماز کے وقت زینت اختیار کرو۔“ وہ یہ فرماتے ہیں: اس سے مراد جوتے پہن کر نماز ادا کرنا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جوتے پہن کر نماز ادا کی، پھر آپ نے انہیں اتارا، تو لوگوں نے بھی اپنے جوتے اتار دیے۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کر لی، تو آپ نے دریافت کیا: ”تم لوگوں نے اپنے جوتے کیوں اتارے ہیں؟“ لوگوں نے عرض کیا: ہم نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے جوتے اتار دیے ہیں، تو ہم نے بھی اتار دیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آئے تھے اور انہوں نے یہ بتایا تھا کہ ان پر خون لگا ہوا ہے۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب الصلاة/حدیث: 1487]
ترقیم العلمیہ: 1470
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1487، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 11654، 12097، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 4022»
«قال ابن حجر: وإسناد كل منهما ضعيف، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (1 / 502)»
«قال ابن حجر: وإسناد كل منهما ضعيف، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (1 / 502)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
الرواة الحديث:
ميمون بن مهران الجزري ← عبد الله بن العباس القرشي