یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
17. باب الاستنجاء
باب: استنجاء کا بیان
ترقیم العلمیہ : 149 ترقیم الرسالہ : -- 153
نا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْهَيْثَمِ الْعَسْكَرِيُّ ، نا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ ، نا عَتِيقُ بْنُ يَعْقُوبَ الزُّبَيْرِيُّ ، نا أُبَيُّ بْنُ الْعَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الاسْتِطَابَةِ، فَقَالَ:" أَوَلا يَجِدُ أَحَدُكُمْ ثَلاثَةَ أَحْجَارٍ، حَجَرَيْنِ لِلصَّفْحَتَيْنِ وَحَجَرٌ لِلْمَسْرُبَةِ" . إِسْنَادٌ حَسَنٌ.
ابی بن عباس اپنے والد کے حوالے سے، اپنے دادا سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے استنجا کرنے کے طریقہ کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا: ”کیا تمہیں تین پتھر نہیں ملتے ہیں؟ دو پتھر مخرج کے کناروں (کو صاف کرنے کے لیے) اور ایک پتھر مخرج (کو صاف کرنے) کے لیے۔“ اس کی سند ”حسن“ ہے۔ [سنن الدارقطني/كتاب الطهارة/حدیث: 153]
ترقیم العلمیہ: 149
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 559، 560، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 153، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 5697، وقال الدارقطني: إسناده حسن،البدر المنير فى تخريج الأحاديث والآثار الواقعة فى الشرح الكبير: 368/2»
الحكم على الحديث: إسناده حسن
الرواة الحديث:
Sunan al-Daraqutni Hadith 153 in Urdu
العباس بن سهل الأنصاري ← سهل بن سعد الساعدي