🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

17. بَابُ الِاسْتِنْجَاءِ
باب: استنجاء کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 140 ترقیم الرسالہ : -- 144
نا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْحَسَّانِيُّ ، ثنا وَكِيعٌ ، نا الأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ سَلْمَانَ، قَالَ: قَالَ لَهُ بَعْضُ الْمُشْرِكِينَ وَهُوَ يَسْتهْزِئُ بِهِ: إِنِّي لأَرَى صَاحِبَكُمْ يُعَلِّمُكُمْ كُلَّ شَيْءٍ حَتَّى الْخِرَاءَةَ، قَالَ: أَجَلْ أَمَرَنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنْ لا نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ وَلا نَسْتَدْبِرَهَا، وَلا نَسْتَنْجِيَ بِأَيْمَانِنَا، وَلا نَسْتَكْفِيَ بِدُونِ ثَلاثِ أَحْجَارٍ لَيْسَ فِيهَا عَظْمٌ وَلا رَجِيعٌ" .
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے: کسی مشرک نے ان کا مذاق اڑاتے ہوئے ان سے یہ کہا: میں نے یہ بات نوٹ کی ہے، آپ کے آقا نے آپ کو ہر چیز کی تعلیم دی ہے یہاں تک کہ رفع حاجت کے طریقے کی بھی تعلیم دی ہے، تو سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: جی ہاں! اللہ کے رسول نے ہمیں یہ ہدایت کی ہے، ہم استنجا کرتے ہوئے قبلہ کی طرف رخ یا پیٹھ نہ کریں اور دائیں ہاتھ کے ذریعے استنجا نہ کریں اور تین پتھروں سے کم کے ذریعہ استنجا نہ کریں، ان پتھروں میں کوئی ہڈی یا مینگنی نہیں ہونی چاہیے۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 144]
ترقیم العلمیہ: 140
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 262، 262، وابن الجارود فى "المنتقى"، 32، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 74، 81، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 41، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 40، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 7، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 16، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 316، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 144، 145، 146، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 24199»

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 141 ترقیم الرسالہ : -- 145
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 145]
ترقیم العلمیہ: 141
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 262، 262، وابن الجارود فى "المنتقى"، 32، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 74، 81، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 41، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 40، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 7، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 16، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 316، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 144، 145، 146، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 24199»

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 142 ترقیم الرسالہ : -- 146
نا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ . ح وَنا عَلِيُّ بْنُ مُبَشِّرٍ ، نا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، قَالا: أنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، وَالأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ سَلْمَانَ ، قَالَ: قَالَ الْمُشْرِكُونَ: إِنَّا نَرَى صَاحِبَكُمْ يُعَلِّمُكُمْ حَتَّى يُعَلِّمَكُمُ الْخِرَاءَةَ، قَالَ: أَجَلْ إِنَّهُ لَيَنْهَانَا أَنْ يَسْتَنْجِيَ أَحَدُنَا بِيَمِينِهِ أَوْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ وَيَنْهَانَا عَنِ الرَّوْثِ وَالْعِظَامِ، وَقَالَ:" لا يَسْتَنْجِي أَحَدُكُمْ بِدُونِ ثَلاثَةِ أَحْجَارٍ" . إِسْنَادٌ صَحِيحٌ.
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے: کچھ مشرکین نے ان سے یہ کہا: ہم نے یہ بات نوٹ کی ہے، آپ کے آقا نے آپ کو ہر طرح کی بات کی تعلیم دی ہے، یہاں تک کہ آپ کو استنجا کرنے کے طریقے کی بھی تعلیم دی ہے، تو سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: جی ہاں! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس بات سے منع کیا ہے، ہم میں سے کوئی شخص اپنے دائیں ہاتھ کے ذریعے استنجا کرے یا قبلہ کی طرف رخ کر کے استنجا کرے، اور آپ نے ہمیں مینگنی اور ہڈی سے استنجا کرنے سے بھی منع کیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: کوئی شخص تین پتھروں سے کم (پتھروں کے ذریعے) استنجا نہ کرے۔ اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 146]
ترقیم العلمیہ: 142
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 262، 262، وابن الجارود فى "المنتقى"، 32، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 74، 81، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 41، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 40، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 7، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 16، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 316، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 144، 145، 146، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 24199»

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 143 ترقیم الرسالہ : -- 147
نا ابْنُ صَاعِدٍ ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالا: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، نا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، نا أَبِي ، عَنْ مُسْلِمٍ وَهُوَ ابْنُ قُرْطٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا ذَهَبَ أَحَدُكُمْ لِحَاجَةٍ فَلْيَسْتَطِبْ بِثَلاثِ أَحْجَارٍ فَإِنَّهَا تُجْزِيهِ" . إِسْنَادٌ صَحِيحٌ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: جب کوئی شخص قضائے حاجت کے لیے جائے تو وہ تین پتھروں کے ذریعے پاکیزگی حاصل کرے، ایسا کرنا اس کے لیے کافی ہو گا۔ اس روایت کی سند حسن ہے۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 147]
ترقیم العلمیہ: 143
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، وأخرجه النسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 44، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 42، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 40، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 697، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 505، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 147، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 25410، 25652، وأبو يعلى فى ((مسنده)) برقم: 4376، والطحاوي فى ((شرح معاني الآثار)) برقم: 734»
«‏‏‏‏قال الدارقطني: إسناده حسن وقال إسناد متصل صحيح، البدر المنير فى تخريج الأحاديث والآثار الواقعة فى الشرح الكبير: 333/2»

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 144 ترقیم الرسالہ : -- 148
نا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ الزَّيَّاتُ ، نا الْحَسَنُ بْنُ أَبِي الرَّبِيعِ الْجُرْجَانِيُّ . ح وَنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا أَبُو بَكْرِ بْنُ زَنْجُوَيْهِ ، ح وَنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الصَّنْعَانِيُّ ، قَالُوا: أنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، نا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَهَبَ لِحَاجَتِهِ فَأَمَرَ ابْنَ مَسْعُودٍ أَنْ يَأْتِيَهُ بِثَلاثَةِ أَحْجَارٍ فَجَاءَهُ بِحَجَرَيْنِ وَرَوْثَةٍ فَأَلْقَى الرَّوْثَةَ، وَقَالَ:" إِنَّهَا رِكْسٌ ائْتِنِي بِحَجَرٍ" تَابَعَهُ أَبُو شَيْبَةَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُثْمَانَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ۔.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے، آپ نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ ہدایت کی: وہ آپ کے لیے تین پتھر لے کر آئیں۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ دو پتھر اور ایک مینگنی لے آئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مینگنی کو پھینک دیا اور فرمایا: یہ گندگی ہے، تم پتھر لے کر آؤ۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے، جس کے مطابق سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کہیں جا رہا تھا۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ ہدایت کی: میں آپ کے لیے تین پتھر لے کر آؤں۔ راوی بیان کرتے ہیں: میں آپ کے پاس دو پتھر اور ایک مینگنی لے کر آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مینگنی کو ایک طرف ڈال دیا اور ارشاد فرمایا: یہ گندگی ہے، تم اس کی بجائے دوسری چیز (پتھر) میرے پاس لے کر آؤ۔ اس روایت میں ابواسحاق نامی راوی پر اختلاف کیا گیا ہے، (امام دارقطنی کہتے ہیں:) میں نے کسی دوسرے مقام پر اس اختلاف کی وضاحت کر دی ہے۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 148]
ترقیم العلمیہ: 144
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 156، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 70، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم:، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 43، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 17، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 314، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 508، 531، 4210، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 148، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 3760»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 145 ترقیم الرسالہ : -- 149
نا تَابَعَهُ أَبُو شَيْبَةَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُثْمَانَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ نا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ بُهْلُولٍ ، نا جَدِّي ، نا أَبِي ، عَنْ أَبِي شَيْبَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: خَرَجْتُ يَوْمًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَأَمَرَنِي أَنْ آتِيَهُ بِثَلاثَةِ أَحْجَارٍ، فَأَتَيْتُهُ بِحَجَرَيْنِ وَرَوْثَةٍ، قَالَ: فَأَلْقَى الرَّوْثَةَ، وَقَالَ:" إِنَّهَا رِكْسٌ فَأْتِنِي بِغَيْرِهَا" . اخْتُلِفَ عَلَى أَبِي إِسْحَاقَ فِي إِسْنَادِ هَذَا الْحَدِيثِ، وَقَدْ بَيَّنْتُ الاخْتِلافَ فِي مَوَاضِعِ أُخَرَ۔ نا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نُصَيْرٍ ، نا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شَبِيبٍ ، نا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، نا يَحْيَى بْنُ أَبِي عَمْرٍو السَّيْبَانِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ فَيْرُوزَ الدَّيْلَمِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ:" نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَسْتَجْمِرَ بِعَظْمٍ أَوْ رَوْثٍ أَوْ حُمَمَةٍ" . إِسْنَادٌ شَامِيُّ لَيْسَ بِثَابِتٍ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس بات سے منع کیا ہے، ہم ہڈی، مینگنی یا کوئلے کے ذریعے استنجا کریں۔ اس روایت کی سند شامی ہے اور یہ مستند نہیں ہے۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 149]
ترقیم العلمیہ: 145
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 450، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 82، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1432،، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 3879، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 39، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 39، 84، 85، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 18، 88، 2861، 3258، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 12، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 384، 385، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 149، 150، 243، 244، 245، 246، 247، 248، 249، 250، 251، 252، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 3858»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 146 ترقیم الرسالہ : -- 150
نا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ ، نا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، نا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى أَنْ نَسْتَنْجِيَ بِعَظْمٍ حَائِلٍ أَوْ رَوْثَةٍ أَوْ حُمَمَةٍ" . عَلِيُّ بْنُ رَبَاحٍ لا يُثْبَتُ سَمَاعُهُ مِنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَلا يَصِحُّ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے، ہم بوسیدہ ہڈی، مینگنی یا کوئلے کے ذریعہ استنجا کریں۔ اس روایت کے راوی علی بن رباح کا سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت نہیں ہے۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 150]
ترقیم العلمیہ: 146
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 450، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 82، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1432،، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 3879، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 39، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 39، 84، 85، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 18، 88، 2861، 3258، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 12، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 384، 385، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 149، 150، 243، 244، 245، 246، 247، 248، 249، 250، 251، 252، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 3858»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 147 ترقیم الرسالہ : -- 151
حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نُصَيْرٍ ، نا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، نا أَبُو طَاهِرٍ ، وعَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ ، قَالا: نا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الأَنْصَارِ أَخْبَرَهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ" نَهَى أَنْ يَسْتَطِيبَ أَحَدٌ بِعَظْمٍ أَوْ رَوْثٍ أَوْ جِلْدٍ" . هَذَا إِسْنَادٌ غَيْرُ ثَابِتٍ أَيْضًا. عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَجْهُولٌ.
عبداللہ بن عبدالرحمن، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی، جو انصاری تھے، کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات بیان کی ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے: کوئی شخص ہڈی، مینگنی یا چمڑے کے ذریعے استنجا کرے۔ اس روایت کی سند ثابت نہیں ہے۔ اس روایت کا راوی عبداللہ بن عبدالرحمن مجہول ہے۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 151]
ترقیم العلمیہ: 147
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 541، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 151، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 24202، والطيالسي فى ((مسنده)) برقم: 689، والطحاوي فى ((شرح معاني الآثار)) برقم: 748، 6578»
«وقال الدارقطني: إسناده غير ثابت، البدر المنير فى تخريج الأحاديث والآثار الواقعة فى الشرح الكبير: 348/2»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 148 ترقیم الرسالہ : -- 152
نا أبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، وَأَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ ، قَالا: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ الْحَرْبِيُّ ، حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ كَاسِبٍ . ح وَحَدَّثَنَا أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ ، نا الْحُسَيْنُ بْنُ الْعَبَّاسِ الرَّازِيُّ ، نا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، نا سَلَمَةُ بْنُ رَجَاءٍ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ فُرَاتٍ الْقَزَّازِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ الأَشْجَعِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى أَنْ يُسْتَنْجَى بِرَوْثٍ أَوْ عَظْمٍ"، وَقَالَ:" إِنَّهُمَا لا تُطَهِّرَانِ" . إِسْنَادٌ صَحِيحٌ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے، مینگنی یا ہڈی کے ذریعے استنجا کیا جائے۔ آپ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: یہ دونوں چیزیں پاک نہیں کرتی ہیں۔ اس روایت کی سند صحیح ہے۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 152]
ترقیم العلمیہ: 148
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 265، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 80، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1431، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 40، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 8، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 701، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 312، 313، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 152، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 7485، 7527، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 1018، والبزار فى ((مسنده)) برقم: 8930»

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 149 ترقیم الرسالہ : -- 153
نا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْهَيْثَمِ الْعَسْكَرِيُّ ، نا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ ، نا عَتِيقُ بْنُ يَعْقُوبَ الزُّبَيْرِيُّ ، نا أُبَيُّ بْنُ الْعَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الاسْتِطَابَةِ، فَقَالَ:" أَوَلا يَجِدُ أَحَدُكُمْ ثَلاثَةَ أَحْجَارٍ، حَجَرَيْنِ لِلصَّفْحَتَيْنِ وَحَجَرٌ لِلْمَسْرُبَةِ" . إِسْنَادٌ حَسَنٌ.
ابی بن عباس اپنے والد کے حوالے سے، اپنے دادا سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے استنجا کرنے کے طریقہ کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا: کیا تمہیں تین پتھر نہیں ملتے ہیں؟ دو پتھر مخرج کے کناروں (کو صاف کرنے کے لیے) اور ایک پتھر مخرج (کو صاف کرنے) کے لیے۔ اس کی سند حسن ہے۔ [سنن الدارقطني/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 153]
ترقیم العلمیہ: 149
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 559، 560، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 153، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 5697، وقال الدارقطني: إسناده حسن،البدر المنير فى تخريج الأحاديث والآثار الواقعة فى الشرح الكبير: 368/2»

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں