سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
88. باب من كان يصلي الصبح وحده ثم أدرك الجماعة فليصل معها
باب: جو شخص صبح کی نماز تنہا ادا کر چکاہو، پھر وہ جماعت کو بھی پالے تو وہ جماعت کے ساتھ بھی نماز ادا کرے۔
ترقیم العلمیہ : 1515 ترقیم الرسالہ : -- 1532
ثنا الْقَاضِي الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، وعَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالا: نا هُشَيْمٌ ، ثنا يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ، نا جَابِرُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّتَهُ، فَصَلَّيْتُ مَعَهُ صَلاةَ الصُّبْحِ فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ، فَلَمَّا قَضَى صَلاتَهُ وَانْصَرَفَ فَإِذَا هُوَ بِرَجُلَيْنِ فِي آخِرِ الْقَوْمِ لَمْ يُصَلِّيَا مَعَهُ، فَقَالَ:" عَلَيَّ بِهِمَا"، فَأُتِيَ بِهِمَا تَرْعَدُ فَرَائِصُهُمَا، فَقَالَ:" مَا مَنَعَكُمَا أَنْ تُصَلِّيَا مَعَنَا؟"، قَالا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كُنَّا قَدْ صَلَّيْنَا فِي رِحَالِنَا، قَالَ:" لا تَفْعَلا، إِذَا صَلَّيْتُمَا فِي رِحَالِكُمَا ثُمَّ أَتَيْتُمَا مَسْجِدَ جَمَاعَةٍ فَصَلَّيَا مَعَهُمْ فَإِنَّهَا لَكُمْ نَافِلَةٌ".
جابر بن یزید اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے حج میں شریک ہوا، میں نے آپ کی اقتداء میں صبح کی نماز مسجد خیف میں ادا کی، جب آپ نے اپنی نماز کو مکمل کر لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ کر فارغ ہوئے، تو وہاں لوگوں کے پیچھے دو آدمی موجود تھے، جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز ادا نہیں کی تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا: ”ان کو میرے پاس لاؤ۔“ ان دونوں کو لایا گیا، تو دونوں کانپ رہے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”تم دونوں نے ہمارے ساتھ نماز ادا کیوں نہیں کی؟“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم اپنی رہائش گاہ میں نماز ادا کر چکے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا نہ کرو، جب تم اپنی رہائش گاہ میں نماز ادا کر چکے ہو، تو پھر تم مسجد میں آؤ، جہاں جماعت کے ساتھ نماز ادا ہو رہی ہو، تو لوگوں کے ساتھ بھی نماز ادا کرو، یہ تمہارے لیے نفل نماز بن جائے گی۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب الصلاة/حدیث: 1532]
ترقیم العلمیہ: 1515
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه ابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 1279، 1638، 1713، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1564، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 899، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 857، 1333، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 933، 1258، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 575، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 219، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1407، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 3048، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1532، 1533، 1534، 1535، 1536، 1538، 1539، 1540، والطبراني فى ((الصغير)) برقم: 603، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 17746»
«قال الشافعی: إسناده مجهول، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (2 / 62)»
«قال الشافعی: إسناده مجهول، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (2 / 62)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
الرواة الحديث:
جابر بن يزيد السوائي ← يزيد بن الأسود السوائي