سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
1. باب صفة الوتر وأنه ليس بفرض , وأنه صلى الله عليه وسلم كان يوتر على البعير
باب: وترکاطریقہ ‘ یہ فرض نہیں ہیں ‘ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اونٹ پر بھی وتراداکیے ہیں
ترقیم العلمیہ : 1617 ترقیم الرسالہ : -- 1635
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، ثنا نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ،" أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ وَيُوتِرُ عَلَيْهَا، وَيُذْكَرُ ذَلِكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ وہ اپنی سواری کے اوپر ہی وتر کی نماز ادا کر لیتے تھے، اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اس بات کا تذکرہ کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایسا ہی کر لیا کرتے تھے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الوتر/حدیث: 1635]
ترقیم العلمیہ: 1617
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 999، 1095، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 700، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 401، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1704، 2412، 2413، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 1685، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 472، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1631، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1200، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1633، 1635، 1636، 1654، 1655، 1680، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 4607»
الحكم على الحديث: صحيح
الرواة الحديث:
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي