سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
5. الوتر ثلاث كثلاث المغرب
باب وتر کی بھی تین رکعت ہوں گی جیسے مغرب کی تین رکعت ہوتی ہیں
ترقیم العلمیہ : 1637 ترقیم الرسالہ : -- 1655
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، ثنا يُونُسُ ، أنا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، قَالَ: نزلت فَأَوْتَرْتُ، فَقَالَ لِي ابْنُ عُمَرَ : أَلَيْسَ لَكَ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ؟"، قُلْتُ: بَلَى، قَالَ:" فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُوتِرُ عَلَى الْبَعِيرِ" .
سعید بن یسار بیان کرتے ہیں: میں نے سواری سے اتر کر وتر ادا کیے، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے مجھ سے فرمایا: ”کیا تمہارے لیے اللہ کے رسول کا اسوہ حسنہ کافی نہیں ہے؟“ میں نے عرض کی: ”جی ہاں!۔“ تو انہوں نے فرمایا: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سواری کے اوپر ہی وتر ادا کیا کرتے تھے۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب الوتر/حدیث: 1655]
ترقیم العلمیہ: 1637
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 999، 1095، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 700، 700، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 401، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1704، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 1685، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 1399، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 472، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1631، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1200، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1654، 1655، 1680، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 4607»
الحكم على الحديث: صحيح
الرواة الحديث:
سعيد بن يسار ← عبد الله بن عمر العدوي