سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
19. بَابُ اسْتِقْبَالِ الْقِبْلَةِ فِي الْخَلَاءِ
باب: بیت الخلاء میں قبلہ کی طرف رخ کرنا
ترقیم العلمیہ : 162 ترقیم الرسالہ : -- 166
نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، نا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ فِي خِلافَتِهِ، وَعِنْدَهُ عِرَاكُ بْنُ مَالِكٍ، فَقَالَ عُمَرُ: مَا اسْتَقْبَلْتُ الْقِبْلَةَ وَلا اسْتَدْبَرْتُهَا بِبَوْلٍ وَلا غَائِطٍ مُذْ كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ عِرَاكٌ : حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ ، قَالَتْ: لَمَّا بَلَغَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْلُ النَّاسِ فِي ذَلِكَ أَمَرَ بِمَقْعَدَتِهِ فَاسْتَقْبَلَ بِهَا الْقِبْلَةَ" . هَذَا أَضْبَطُ إِسْنَادٍ، وَزَادَ فِيهِ خَالِدُ بْنُ أَبِي الصَّلْتِ، وَهُوَ الصَّوَابُ.
خالد بن ابوصلت بیان کرتے ہیں: میں عمر بن عبدالعزیز کے پاس ان کے زمانہ خلافت میں بیٹھا ہوا تھا، ان کے پاس عراک بن مالک بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ عمر بن عبدالعزیز نے یہ فرمایا: ”میں نے اتنے عرصے سے کبھی بھی پیشاب یا پاخانہ کرتے ہوئے قبلہ کی طرف رخ نہیں کیا اور پیٹھ نہیں کی۔“ تو عراک نے کہا: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے یہ حدیث سنائی تھی، وہ فرماتی ہیں: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بعض لوگوں کی اس رائے کے بارے میں پتہ چلا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت ان کے پاخانے کی جگہ کا رخ قبلہ کی طرف کر دیا گیا۔ اس روایت کی سند میں زیادہ ضبط پایا جاتا ہے اور اس میں خالد بن ابوصلت نامی راوی کا اضافہ ہے اور یہ درست ہے۔ [سنن الدارقطني/كتاب الطهارة/حدیث: 166]
ترقیم العلمیہ: 162
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه ابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 324، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 445، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 163، 164، 165، 166، 167، 168، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 25703»
«قال البخاري: خالد بن أبى الصلت عن عراك مرسل تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي:17/1»
«قال البخاري: خالد بن أبى الصلت عن عراك مرسل تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي:17/1»
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
الرواة الحديث:
Sunan al-Daraqutni Hadith 166 in Urdu
عراك بن مالك الغفاري ← عائشة بنت أبي بكر الصديق