🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. باب صفة القنوت وبيان موضعه
باب دعائے قنوت کا طریقہ اور اس کا مقام
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1687 ترقیم الرسالہ : -- 1705
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ مَالِكٍ الأَسْكَافِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَلَمَةَ ، فَلَقِيتُ عَمْرًا فَحَدَّثَنِي هَذَا الْحَدِيثَ، قَالَ: كُنَّا بِحَضْرَةِ مَاءٍ مَمَرَّ النَّاسِ، وَكَانَ تَمُرُّ بِنَا الرُّكْبَانُ فَنَسْأَلُهُمْ مَا هَذَا الأَمْرُ مَا لِلنَّاسِ؟ فَيَقُولُونَ: نَبِيُّ يَزْعُمُ أَنَّ اللَّهَ أَرْسَلَهُ وَأَنَّ اللَّهَ أَوْحَى إِلَيْهِ كَذَا وَكَذَا، فَجَعَلْتُ أَتَلَقَّى ذَلِكَ الْكَلامَ فَكَأَنَّمَا يُغْرِي فِي صَدْرِي بِغِرَاءٍ، يَقُولُ: أَحْفَظُهُ كَانَتِ الْعَرَبُ تَلَوَّمُ بِإِسْلامِهَا الْفَتْحَ، وَيَقُولُونَ: أَبْصَرُوهُ وَقَوْمَهُ، فَإِنْ ظَهْرَ عَلَيْهِمْ فَهُوَ نَبِيُّ صَادِقٌ، فَلَمَّا جَاءَنَا وَقْعَةُ الْفَتْحِ بَادَرَ كُلُّ قَوْمٍ بِإِسْلامِهِمْ، فَانْطَلَقَ أَبِي بِإِسْلامِ أَهْلِ حِوَائِنَا ذَلِكَ فَقَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقَامَ عِنْدَهُ، فَلَمَّا أَقْبَلَ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَلَقَّيْنَاهُ، فَلَمَّا رَآنَا قَالَ:" جِئْتُكُمْ وَاللَّهِ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَقًّا، فَإِنَّهُ يَأْمُرُكُمْ بِكَذَا وَكَذَا، وَقَالَ: صَلُّوا صَلاةَ كَذَا فِي حِينِ كَذَا، وَصَلاةَ كَذَا فِي حِينِ كَذَا، وَصَلاةَ كَذَا فِي حِينِ كَذَا، فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلاةُ فَلْيُؤَذِّنْ لَكُمْ أَحَدُكُمْ وَلْيَؤُمَّكُمْ أَكْثَرُكُمْ قُرْآنًا"، فَنَظَرُوا فِي أَهْلِ حِوَائِنَا ذَلِكَ، فَمَا وَجَدُوا أَحَدًا أَكْثَرَ مِنِّي قُرْآنًا مِمَّا كُنْتُ أَتَلَقَّى مِنَ الرُّكْبَانِ، فَقَدَّمُونِي بَيْنَ أَيْدِيهِمْ، وَأَنَا ابْنُ سَبْعِ سِنِينَ أَوْ سِتِّ سِنِينَ، فَكَانَتْ عَلَيَّ بُرْدَةٌ فِيهَا صِغَرٌ، فَإِذَا سَجَدْتُ تَقَلَّصَتْ عَنِّي، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الْحَيِّ: أَلا تُغَطُّوا عَنَّا اسْتَ قَارِئِكُمْ، فَكَسَوْنِي قَمِيصًا مِنْ مَعْقَدِ الْبَحْرَيْنِ فَمَا فَرِحْتُ بِشَيْءٍ كَفَرَحِي بِذَلِكَ الْقَمِيصِ .
ابوقلابہ کہتے ہیں: میری ملاقات سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ سے ہوئی، تو انہوں نے مجھے یہ حدیث سنائی: ہم لوگ ایسی جگہ رہتے تھے جہاں پانی موجود تھا اور وہ لوگوں کی گزرگاہ تھی، ہمارے وہاں سے سوار گزرا کرتے تھے، تو ہم ان سے اس بارے میں سوال کرتے تھے اور لوگوں کے رویے کے بارے میں پوچھا کرتے تھے، تو وہ بتاتے تھے کہ ایک صاحب ہیں جو یہ کہتے ہیں، وہ نبی ہیں اور اللہ تعالیٰ نے انہیں مبعوث کیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف یہ یہ کلام وحی کیا ہے، سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں وہ کلام یاد کرتا رہا اور وہ میرے سینے میں پختہ ہوتا رہا، عام عربوں نے اسلام قبول کرنے کو فتح مکہ کے ساتھ معلق کر دیا، وہ یہ کہتے تھے کہ ان نبی اور ان کی قوم کا جائزہ لو، اگر یہ اپنی قوم پر غالب آ گئے، تو یہ سچے نبی ہوں گے، جب فتح مکہ کی اطلاع ہمیں ملی، تو ہر قوم نے اسلام قبول کرنے میں جلدی کی، میرے والد بھی اسلام قبول کرنے کے لیے اپنے قبیلے کے ساتھ تھے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، کچھ عرصہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مقیم رہے، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت سے واپس آئے، تو ہم ان سے ملنے کے لیے گئے، جب انہوں نے ہمیں دیکھا، تو بولے: اللہ کی قسم! میں تمہارے پاس اللہ کے سچے رسول کی طرف سے آ رہا ہوں، انہوں نے تمہیں اس بات کا حکم دیا ہے، انہوں نے ارشاد فرمایا ہے: تم نے اس طرح اس وقت میں نماز ادا کرنی ہے، اس طرح اس وقت میں نماز ادا کرنی ہے، اس طرح اس وقت میں نماز ادا کرنی ہے، جب نماز کا وقت ہو جائے، تو تم میں سے کوئی ایک شخص اذان دے اور جس کو سب سے زیادہ قرآن آتا ہو، وہ تمہاری امامت کرے۔ جب لوگوں نے ہمارے قبیلے میں تحقیق کی، تو کسی بھی شخص کو مجھ سے زیادہ قرآن نہیں آتا تھا، تو ان لوگوں نے مجھے آگے کھڑا کر دیا، میری عمر اس وقت ۶ سال یا ۷ سال تھی، میری ایک چادر تھی جو چھوٹی تھی، میں سجدے میں جاتا تھا، تو وہ ہٹ جاتی تھی، تو قبیلے کی ایک خاتون نے کہا: آپ لوگ اپنے قاری کے پیچھے والے حصے کو ڈھانپتے کیوں نہیں ہیں؟ پھر قبیلے والوں نے مجھے ایک قمیض سلوا کر دی جو بحرین کے کپڑے کی بنی ہوئی تھی، اس قمیض کے ملنے پر مجھے جتنی خوشی ہوئی، اتنی کسی اور بات پر نہیں ہوئی تھی۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الوتر/حدیث: 1705]
ترقیم العلمیہ: 1687
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 4302، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 1512، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 4389، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 635، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 845، 866، 1612، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 585، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1705، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 16147»

الحكم على الحديث: صحيح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمر بن الخطاب العدوي، أبو حفصصحابي
👤←👥عمرو بن سلمة الجرمي، أبو يزيد، أبو بريد
Newعمرو بن سلمة الجرمي ← عمر بن الخطاب العدوي
صحابي صغير
👤←👥عبد الله بن زيد الجرمي، أبو كلابة، أبو قلابة
Newعبد الله بن زيد الجرمي ← عمرو بن سلمة الجرمي
ثقة
👤←👥أيوب السختياني، أبو عثمان، أبو بكر
Newأيوب السختياني ← عبد الله بن زيد الجرمي
ثقة ثبتت حجة
👤←👥حماد بن زيد الأزدي، أبو إسماعيل
Newحماد بن زيد الأزدي ← أيوب السختياني
ثقة ثبت فقيه إمام كبير مشهور
👤←👥سليمان بن حرب الواشحي، أبو أيوب
Newسليمان بن حرب الواشحي ← حماد بن زيد الأزدي
ثقة إمام حافظ
👤←👥إسماعيل بن إسحاق القاضي، أبو إسحاق
Newإسماعيل بن إسحاق القاضي ← سليمان بن حرب الواشحي
ثقة حافظ
👤←👥محمد بن محمد الإسكافي، أبو بكر
Newمحمد بن محمد الإسكافي ← إسماعيل بن إسحاق القاضي
ثقة