سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
3. باب التشديد فى ترك الصلاة وكفر من تركها والنهي عن قتل فاعلها
باب نماز ترک کرنے کی شدید مذمت ‘ جو شخص اسے ترک کردے وہ کفر (کا مرتکب ہوتا) ہے تاہم ایسا کرنے والے کو قتل کرنا منع ہے
ترقیم العلمیہ : 1734 ترقیم الرسالہ : -- 1758
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الرَّبِيعِ ، ثنا حُمَيْدُ بْنُ الرَّبِيعِ ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ ، ح وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الْمَجِيدِ الْمُقْرِئُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْوَرَّاقُ ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ ، ثنا مُفَضَّلُ بْنُ يُونُسَ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ أَبِي يَسَارٍ الْقُرَشِيِّ ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ مَخْضُوبِ الْيَدَيْنِ وَالرِّجْلَيْنِ، فَقَالَ:" مَا هَذَا؟"، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، يَتَشَبَّهُ بِالنِّسَاءِ، فَأَمَرَ بِهِ فَنُحِّيَ عَنِ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَانٍ يُقَالُ لَهُ: النَّقِيعُ وَلَيْسَ بِالْبَقِيعِ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلا نَقْتُلُهُ، فَقَالَ:" لا، إِنِّي نُهِيتُ عَنْ قَتْلِ الْمُصَلِّينَ" . وَقَالَ حُمَيْدُ بْنُ الرَّبِيعِ: أُتِيَ بِمُخَنَّثٍ قَدْ خَضَبَ يَدَيْهِ وَرِجْلَيْهِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص کو لایا گیا، جس کے دونوں ہاتھوں اور دونوں پاؤں پر مہندی لگی ہوئی تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”اس کا کیا معاملہ ہے؟“ لوگوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! یہ عورتوں کے ساتھ مشابہت اختیار کرتا ہے۔“ تو اس کے بارے میں یہ حکم دیا گیا کہ اسے مدینہ منورہ سے نکال کر نقیع نامی جگہ پر بھیج دیا جائے، عرض کی گئی: ”یا رسول اللہ! کیا ہم اسے قتل نہ کر دیں؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مجھے نمازیوں کو قتل کرنے سے منع کیا گیا ہے۔“ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: ایک ہیجڑے کو لایا گیا، جس نے اپنے دونوں ہاتھوں اور دونوں پاؤں میں مہندی لگائی ہوئی تھی۔ [سنن الدارقطني/ كتاب العيدين/حدیث: 1758]
ترقیم العلمیہ: 1734
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه أبو داود فى ((سننه)) برقم: 4928، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 17085، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1758، وأبو يعلى فى ((مسنده)) برقم: 6126»
«قال الدارقطني: قال الدار قطني: ”أبو ھاشم و أبو يسار مجهولان ولا يثبت الحديث“ (55/2) وقال الذھبي: ’’إسناد مظلم لمتن منكر“ (ميزان الإعتدال 4/ 588)»
«قال الدارقطني: قال الدار قطني: ”أبو ھاشم و أبو يسار مجهولان ولا يثبت الحديث“ (55/2) وقال الذھبي: ’’إسناد مظلم لمتن منكر“ (ميزان الإعتدال 4/ 588)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
الرواة الحديث:
أبو هاشم الدوسي ← أبو هريرة الدوسي