سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
4. باب صفة من تجوز الصلاة معه والصلاة عليه
باب اس شخص کا تذکرہ جس کی اقتداء میں نماز پڑھناجائز ہے اور جس کی نماز جنازہ اداکرناجائز ہے
ترقیم العلمیہ : 1745 ترقیم الرسالہ : -- 1769
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَسَدٍ الْهَرَوِيُّ ، ثنا أَبُو الأَحْوَصِ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الْمُخَرِّمِيُّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْحَرَّانِيُّ ، ثنا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ صُبْحٍ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، وَالأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" ثَلاثٌ مِنَ السُّنَّةِ: الصَّفُّ خَلْفَ كُلِّ إِمَامٍ لَكَ صَلاتُكَ وَعَلَيْهِ إِثْمُهُ، وَالْجِهَادُ مَعَ كُلِّ أَمِيرٍ لَكَ جِهَادُكَ وَعَلَيْهِ شَرُّهُ، وَالصَّلاةُ عَلَى كُلِّ مَيِّتٍ مِنْ أَهْلِ التَّوْحِيدِ وَإِنْ كَانَ قَاتِلَ نَفْسِهِ" . عُمَرُ بْنُ صُبْحٍ مَتْرُوكٌ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”تین چیزیں سنت ہیں: ہر امام کے پیچھے صف بنا کر (باجماعت نماز ادا کرنا)، تمہیں تمہاری نماز کا ثواب مل جائے گا، اور اس کے گناہ کا بوجھ اس کے ذمے ہو گا اور ہر امیر ہمراہ جہاد میں حصہ لینا، تمہیں تمہارے جہاد کا ثواب ملے گا اور اس کا شر اس کے ذمے ہو گا، اور اہل توحید میں سے ہر مرحوم کی نماز جنازہ ادا کرنا، اگرچہ اس نے خودکشی کی ہو۔“ اس روایت کا راوی عمر بن صبح متروک ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب العيدين/حدیث: 1769]
ترقیم العلمیہ: 1745
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1769، انفرد به المصنف من هذا الطريق، وقال الدارقطني: عمر بن صبح متروك انتهى وفي تحقيق ابن الجوزي قال ابن حبان كان يضع الحديث، نصب الراية لأحاديث الهداية: 26/2»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
الرواة الحديث:
الأسود بن يزيد النخعي ← عبد الله بن مسعود