سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
13. باب استقراض الوصي من مال اليتيم
باب یتیم کے مال میں سے وصی کا قرض کے طورپر کچھ لینا
ترقیم العلمیہ : 1951 ترقیم الرسالہ : -- 1976
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، ثنا ابْنُ أَبِي عَوْنٍ ، وَصَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ " كَانَ عِنْدَهُ مَالُ يَتِيمٍ فَكَانَ يَسْتَقْرِضُ مِنْهُ، وَرُبَّمَا ضَمِنَهُ، وَكَانَ يُزَكِّي مَالَ الْيَتِيمِ إِذَا وَلِيَهُ" .
نافع بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس ایک یتیم کا مال موجود تھا، وہ اس میں سے قرض کے طور پر کچھ لے لیتے تھے، بعض اوقات وہ اس کے ضامن بن جاتے تھے، اور جب وہ یتیم کے مال کے سرپرست بنتے تھے، تو اس کی زکوٰۃ بھی ادا کیا کرتے تھے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب زكاة/حدیث: 1976]
ترقیم العلمیہ: 1951
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 7441، 7716، 11098، 11099، 11722، 12800، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1976، 1978، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 6992»
الرواة الحديث:
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي