علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
19. باب زكاة مال التجارة وسقوطها عن الخيل والرقيق
باب تجارت کے مال کی زکوۃ اداکرنانیز گھوڑے اور غلام کی زکوۃ معاف کرنا
ترقیم العلمیہ : 2001 ترقیم الرسالہ : -- 2026
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْحَنَّاطُ ، ثنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، أَخْبَرَنِي مَكْحُولٌ ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَيْسَ عَلَى الْمَرْءِ الْمُسْلِمِ صَدَقَةٌ فِي فَرَسِهِ وَلا فِي عَبْدِهِ وَلا فِي وَلِيدَتِهِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”مسلمان شخص کے گھوڑے اور اس کے غلام اور اس کی کنیز میں زکوٰۃ لازم نہیں ہوتی۔“ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب زكاة/حدیث: 2026]
ترقیم العلمیہ: 2001
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 1463، 1464، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 982، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 563، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2285، 2286، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 3271، والنسائي في ((المجتبى)) 2466، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1594، 1595، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 628، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1672، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1812، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2023، 2024، 2025، 2026، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 1104، 1105، 1106،وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 7415»
«قال الشيخ زبير على زئي: صحيح، وللحديث شاھد قوي عند الدارقطني (2/127) وله طرق أخريٰ عند مسلم (982)»
«قال الشيخ زبير على زئي: صحيح، وللحديث شاھد قوي عند الدارقطني (2/127) وله طرق أخريٰ عند مسلم (982)»
الحكم على الحديث: صحيح
الرواة الحديث:
ترقیم العلمیہ : 2002 ترقیم الرسالہ : -- 2026/1
قَالَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ : وَثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے: انہوں نے یہ (تحریر کیا): ”اللہ تعالیٰ کے نام سے آغاز کرتے ہوئے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔ یہ سمرہ بن جندب کی جانب سے ان کے بیٹوں کے لیے ہے۔ تم سب کو سلام ہو۔ اما بعد! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ہمارے غلاموں کے بارے میں یہ حکم دیا تھا: وہ غلام جو آدمی کے کام کاج کے لیے استعمال ہوتے ہیں، آدمی نے انہیں فروخت نہیں کرنا ہوتا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا تھا: ہم ان میں سے کوئی زکوٰۃ ادا نہیں کریں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ حکم دیا تھا کہ جس غلام کو فروخت کرنے کے لیے تیار کیا جاتا ہے، اس کی زکوٰۃ ہم ادا کریں گے۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب زكاة/حدیث: 2026/1]
ترقیم العلمیہ: 2002
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 1463، 1464، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 982، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 563، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2285، 2286، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 3271، والنسائي في ((المجتبى)) 2466، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1594، 1595، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 628، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 1672، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1812، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2023، 2024، 2025، 2026، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 1104، 1105، 1106،وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 7415»
«قال الشيخ زبير على زئي: صحيح، وللحديث شاھد قوي عند الدارقطني (2/127) وله طرق أخريٰ عند مسلم (982)»
«قال الشيخ زبير على زئي: صحيح، وللحديث شاھد قوي عند الدارقطني (2/127) وله طرق أخريٰ عند مسلم (982)»
الحكم على الحديث: صحيح
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥سعيد بن أبي سعيد المقبري، أبو سعيد، أبو سعد سعيد بن أبي سعيد المقبري ← أبو هريرة الدوسي | ثقة | |
👤←👥أسامة بن زيد الليثي، أبو زيد أسامة بن زيد الليثي ← سعيد بن أبي سعيد المقبري | صدوق يهم كثيرا |
Sunan al-Daraqutni Hadith 2026 in Urdu
عراك بن مالك الغفاري ← أبو هريرة الدوسي