سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
20. باب فى قدر الصدقة فيما أخرجت الأرض وخرص الثمار
زمین سے ہونے والی پیداوار میں صدقے کی مقدار کیا ہوگی؟ نیز پھلوں کا اندازہ لگانا
ترقیم العلمیہ : 2025 ترقیم الرسالہ : -- 2050
قُرِئَ عَلَى ابْنِ مَنِيعٍ وَأَنَا أَسْمَعُ، حَدَّثَكُمْ أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ:" أَفَاءَ اللَّهُ خَيْبَرَ عَلَى رَسُولِهِ، فَأَقَرَّهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَعَلَهَا بَيْنَهُ وَبَيْنَهُمْ، فَبَعَثَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَوَاحَةَ فَخَرَصَهَا عَلَيْهِمْ، ثُمَّ قَالَ: يَا مَعْشَرَ يَهُودَ، أَنْتُمْ أَبْغَضُ الْخَلْقِ إِلَيَّ، قَتَلْتُمْ أَنْبِيَاءَ اللَّهِ وَكَذَبْتُمْ عَلَى اللَّهِ، وَلَيْسَ يَحْمِلُنِي بُغْضِي إِيَّاكُمْ أَنْ أَحِيفَ عَلَيْكُمْ، قَدْ خَرَصْتُ عِشْرِينَ أَلْفَ وَسْقٍ مِنْ تَمْرٍ، فَإِنْ شِئْتُمْ فَلَكُمْ وَإِنْ أَبَيْتُمْ فَلِي، قَالُوا: بِهَذَا قَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالأَرْضُ قَدْ أَخَذْنَاهَا، قَالَ: فَاخْرُجُوا عَنَّا" .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب اللہ تعالیٰ نے خیبر کا علاقہ اپنے رسول کو مال فے کے طور پر عطا کیا، تو ان کے رسول نے ان (یہودیوں) کو وہیں رہنے دیا اور یہ معاہدہ کیا کہ وہاں کی پیداوار ان یہودیوں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان (برابر کی بنیاد پر تقسیم ہو گی)، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو بھیجا، انہوں نے وہاں پیداوار کا اندازہ لگایا اور پھر فرمایا: ”اے یہودیو! تم میرے نزدیک اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے ناپسندیدہ ترین مخلوق ہو، تم نے اللہ تعالیٰ کے انبیاء کو قتل کیا، تم نے اللہ تعالیٰ کی طرف جھوٹی بات منسوب کی، لیکن تمہارے بارے میں میری ناپسندیدگی مجھے اس بات پر آمادہ نہیں کرے گی کہ میں تمہارے ساتھ کوئی زیادتی کروں، میں نے یہ اندازہ لگایا ہے، یہ کھجور کی پیداوار بیس ہزار وسق ہے، اگر تم چاہو، تو اس حساب سے تمہیں مل جائے گا اور اگر تم نہیں مانتے، تو میں اتنا وصول کروں گا۔“ تو انہوں نے کہا: ”اسی (انصاف اور عدل پروری) کی وجہ سے آسمان اور زمین قائم ہیں، ہم اس حساب سے وصولی کر لیتے ہیں۔“ تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تو اتنی پیداوار مجھے نکال کر دے دو (یعنی ادائیگی کر دو)۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب زكاة/حدیث: 2050]
ترقیم العلمیہ: 2025
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وأخرجه أبو داود فى ((سننه)) برقم: 3414، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 7533، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2050، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 14378»
«قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره»
«قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
الرواة الحديث:
محمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري