🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. بَابُ مَا جَاءَ فِي صِيَامِ التَّطَوُّعِ وَالْخُرُوجِ مِنْهُ قَبْلَ تَمَامِهِ
باب: نفلی روزہ رکھنے اور مکمل ہونے سے پہلے چھوڑ دینے کے بارے میں کیا کہا گیا؟
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2206 ترقیم الرسالہ : -- 2235
حَدَّثَنَا أَبُو طَالِبٍ الْكَاتِبُ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْجَهْمِ ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ الطُّوسِيُّ . ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، نا أَبُو الْعُمَيْسِ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَنْ أَبِيهِ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آخَى بَيْنَ سَلْمَانَ وَبَيْنَ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: فَجَاءَ سَلْمَانُ يَزُورُ أَبَا الدَّرْدَاءِ، فَإِذَا أُمُّ الدَّرْدَاءِ مُتَبَذِّلَةً، قَالَ: مَا شَأْنُكِ؟ قَالَتْ: إِنَّ أَخَاكَ يَقُومُ اللَّيْلَ وَيَصُومُ النَّهَارَ، وَلَيْسَ لَهُ حَاجَةٌ فِي نِسَاءِ الدُّنْيَا، فَجَاءَ أَبُو الدَّرْدَاءِ فَرَحَّبَ بِهِ سَلْمَانُ وَقَرَّبَ إِلَيْهِ طَعَامًا، فَقَالَ لَهُ سَلْمَانُ: أَطْعِمْ، فَقَالَ: إِنِّي صَائِمٌ، فَقَالَ: أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ لَتُفْطِرَنَّهُ، قَالَ: مَا أَنَا بِآكِلٍ حَتَّى تَأْكُلَ فَأَكَلَ مَعَهُ، ثُمَّ بَاتَ عِنْدَهُ حَتَّى إِذَا كَانَ اللَّيْلُ أَرَادَ أَبُو الدَّرْدَاءِ أَنْ يَقُومَ فَمَنَعَهُ سَلْمَانُ، وَقَالَ لَهُ:" إِنَّ لِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَلِرَبِّكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَلأَهْلِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، صُمْ وَأَفْطِرْ، وَصَلِّ وَنَمْ، وَائْتِ أَهْلَكَ وَأَعْطِ كُلَّ ذِي حَقِّ حَقَّهُ"، فَلَمَّا كَانَ فِي وَجْهِ الصُّبْحِ، قَالَ: قُمِ الآنَ إِنْ شِئْتَ، فَقَامَا فَتَوَضَّيَا ثُمَّ رَكَعَا ثُمَّ خَرَجَا إِلَى الصَّلاةِ، فَدَنَا أَبُو الدَّرْدَاءِ لِيُخْبِرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالَّذِي أَمَرَهُ سَلْمَانُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أَبَا الدَّرْدَاءِ، إِنَّ لِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا"، مثل مَا قَالَ سَلْمَانُ . لَفْظُ أَبِي طَالِبٍ.
عون بن ابوحجیفہ اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا سلیمان فارسی اور سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہما کو ایک دوسرے کا (منہ بولا بھائی) بنا دیا۔ راوی بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ سیدنا سلیمان، سیدنا ابودرداء سے ملنے کے لیے آئے، تو سیدہ ام درداء کو خراب حالت میں دیکھا، تو دریافت کیا: آپ کو کیا ہوا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: آپ کے بھائی رات بھر نفل پڑھتے رہتے ہیں، دن کے وقت روزہ رکھتے ہیں، انہیں دنیا کی اور بیوی کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ پھر سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے، انہوں نے سیدنا سلیمان رضی اللہ عنہ کو خوش آمدید کہا اور ان کے آگے کھانا رکھا، تو سیدنا سلیمان رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: آپ بھی کھائیے، انہوں نے جواب دیا: میں نے روزہ رکھا ہوا ہے۔ سیدنا سلیمان رضی اللہ عنہ نے کہا: میں آپ کو قسم دیتا ہوں کہ آپ روزہ توڑ دیں، سیدنا سلیمان رضی اللہ عنہ نے یہ بھی کہا: میں اس وقت تک نہیں کھاؤں گا، جب تک آپ نہیں کھائیں گے، تو سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے ان کے ساتھ کھانا کھا لیا۔ سیدنا سلیمان رضی اللہ عنہ رات کے وقت ان کے ہاں گئے، جب رات کا وقت ہوا، تو سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے ارادہ کیا کہ وہ نوافل ادا کرنے شروع کریں، تو سیدنا سلیمان نے انہیں روک دیا اور ان سے کہا: آپ کے جسم کا بھی آپ پر حق ہے، آپ کے پروردگار کا بھی آپ پر حق ہے، آپ کی بیوی کا بھی آپ پر حق ہے، آپ نفلی روزہ رکھیں بھی اور کسی دن چھوڑ بھی دیں، (نفلی نماز) ادا بھی کریں اور سو بھی جایا کریں، اپنی اہلیہ کے پاس بھی جایا کریں، ہر حقدار کو اس کا حق دیا کریں۔ جب صبح کا وقت قریب آیا، تو سیدنا سلیمان رضی اللہ عنہ نے کہا: اب آپ اٹھیں، اگر آپ (نوافل ادا کرنا چاہتے ہیں)۔ یہ دونوں حضرات اٹھے، انہوں نے نوافل ادا کیے، پھر (فجر کی نماز) ادا کرنے کے لیے چلے گئے۔ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تاکہ آپ کو اس چیز کے بارے میں بتائیں، جو سیدنا سلیمان رضی اللہ عنہ نے ان سے کہی تھی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اے ابودرداء! تمہارے جسم کا بھی تم پر حق ہے۔“ آپ نے وہی بات ارشاد فرمائی، جو سیدنا سلیمان نے ارشاد فرمائی تھی۔ روایت کے یہ الفاظ ابوطالب نامی راوی کے ہیں۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الصيام/حدیث: 2235]
ترقیم العلمیہ: 2206
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 1968، 6139، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2144، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 320، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 2413، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 8434، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2235، وأبو يعلى فى ((مسنده)) برقم: 898، والبزار فى ((مسنده)) برقم: 4223، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 27233، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 285»

الحكم على الحديث:
صحيح


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥وهب بن وهب السوائي، أبو جحيفةصحابي
👤←👥عون بن أبي جحيفة السوائي
Newعون بن أبي جحيفة السوائي ← وهب بن وهب السوائي
ثقة
👤←👥عتبة بن عبد الله المسعودي، أبو العميس
Newعتبة بن عبد الله المسعودي ← عون بن أبي جحيفة السوائي
ثقة
👤←👥جعفر بن عون القرشي، أبو عون
Newجعفر بن عون القرشي ← عتبة بن عبد الله المسعودي
ثقة
👤←👥أحمد بن منصور الرمادي، أبو بكر
Newأحمد بن منصور الرمادي ← جعفر بن عون القرشي
ثقة حافظ
👤←👥عبد الله بن محمد المروزي، أو الهيثم، أبو القاسم
Newعبد الله بن محمد المروزي ← أحمد بن منصور الرمادي
ثقة
👤←👥علي بن مسلم الطوسي، أبو الحسن
Newعلي بن مسلم الطوسي ← عبد الله بن محمد المروزي
ثقة
👤←👥علي بن محمد الضرير، أبو طالب
Newعلي بن محمد الضرير ← علي بن مسلم الطوسي
ثقة
Sunan al-Daraqutni Hadith 2235 in Urdu