سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
9. باب حجامة الصائم
روزہ دار کے لیے سنگی لگانے کا باب
ترقیم العلمیہ : 2229 ترقیم الرسالہ : -- 2260
حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، ثنا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُثَنَّى ، عَنْ الْبُنَانِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: أَوَّلُ مَا كُرِهَتِ الْحِجَامَةُ لِلصَّائِمِ أَنَّ جَعْفَرَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ احْتَجَمَ وَهُوَ صَائِمٌ، فَمَرَّ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَفْطَرَ هَذَانِ"، ثُمَّ رَخَّصَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدُ فِي الْحِجَامَةِ لِلصَّائِمِ ، وَكَانَ أَنَسٌ يَحْتَجِمُ وَهُوَ صَائِمٌ. كُلُّهُمْ ثِقَاتٌ، وَلا أَعْلَمُ لَهُ عِلَّةً.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: پہلے میں روزہ دار شخص کے لیے پچھنے لگوانے کو مکروہ نہیں سمجھتا تھا، ایک مرتبہ سیدنا جعفر بن ابوطالب رضی اللہ عنہ پچھنے لگوا رہے تھے اور انہوں نے روزہ رکھا ہوا تھا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گزرے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ان دونوں کا روزہ ٹوٹ گیا ہے۔“ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ دار شخص کے لیے پچھنے لگوانے کی رخصت عطا کر دی تھی۔ راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا انس رضی اللہ عنہ روزے کی حالت میں پچھنے لگوا لیا کرتے تھے۔ اس روایت کے تمام راوی ثقہ ہیں اور مجھے اس میں کسی علت کا علم نہیں ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الصيام/حدیث: 2260]
ترقیم العلمیہ: 2229
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 1748، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 8391، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2260»
«قال الدارقطني: كلهم ثقات ولا أعلم له علة، نصب الراية لأحاديث الهداية: (2 / 478)»
«قال الدارقطني: كلهم ثقات ولا أعلم له علة، نصب الراية لأحاديث الهداية: (2 / 478)»
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
الرواة الحديث:
Sunan al-Daraqutni Hadith 2260 in Urdu
ثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري