سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
29. باب وضوء رسول الله صلى الله عليه وسلم
باب: نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وضو کا طریقہ
ترقیم العلمیہ : 265 ترقیم الرسالہ : -- 270
حَدَّثَنَا ابْنُ صَاعِدٍ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، بِالْمَدِينَةِ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ بْنِ أَبِي حَسَنٍ الْمَازِنِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ أَبِي حَسَنٍ الْمَازِنِيَّ، أَتَى إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ وَهُوَ ابْنُ عَاصِمٍ الْمَازِنِيُّ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: هَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تُرِيَنِي كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ؟ قَالَ:" نَعَمْ، فَدَعَا لَهُ بِتَوْرِ مَاءٍ، فَأَكْفَأَ التَّوْرَ عَلَى يَدِهِ الْيُمْنَى فَغَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى ثَلاثَ مَرَّاتٍ، يُكْفِئُ التَّوْرَ عَلَى يَدَيْهِ ثُمَّ يَغْسِلُ يَدَيْهِ ثَلاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَيْهِ فِي التَّوْرِ فَغَرَفَ غَرْفَةً مِنْ مَاءٍ وَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ، ثُمَّ اسْتَنْثَرَ ثَلاثَ غَرَفَاتٍ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ غَسَلَ كُلَّ يَدٍ مَرَّتَيْنِ إِلَى الْمِرْفَقِ، ثُمَّ أَخَذَ مِنَ الْمَاءِ فَمَسَحَ بِرَأْسِهِ أَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ" .
عمرو بن یحییٰ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: عمرو بن ابوحسن مازنی، سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، یہ سیدنا عبداللہ بن زید بن عاصم مازنی رضی اللہ عنہ ہیں، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں۔ عمرو بن ابوحسن نے گزارش کی: ”کیا آپ ہمیں یہ کر کے دکھا سکتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح وضو کیا کرتے تھے؟“ تو سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ”جی ہاں!“ پھر سیدنا عبداللہ نے پانی کا برتن منگوایا، انہوں نے اس برتن میں سے اپنے دائیں ہاتھ پر پانی انڈیلا اور دائیں ہاتھ کو تین مرتبہ دھویا، پھر انہوں نے برتن میں سے پانی اپنے دونوں ہاتھوں پر انڈیلا اور دونوں ہاتھوں کو تین مرتبہ دھویا، پھر انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ برتن میں داخل کیے اور ایک چلو پانی لے کر اس کے ذریعے کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا، پھر انہوں نے تین مرتبہ چلو میں پانی لے کر ناک صاف کیا، پھر انہوں نے اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا، ہر ایک بازو کو کہنیوں تک دھویا، پھر کچھ پانی لے کر اس کے ذریعے سر کا مسح کیا، وہ اپنے ہاتھ آگے سے پیچھے کی طرف لے گئے، پھر پیچھے سے آگے کی طرف لائے، پھر انہوں نے دونوں پاؤں ٹخنوں تک دھوئے۔ [سنن الدارقطني/كتاب الطهارة/حدیث: 270]
ترقیم العلمیہ: 265
تخریج الحدیث: «صحیح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 185، 186، 191، 192، 197، 199، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 235،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 45، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 155، 156، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1077، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 651، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 97، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 118، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 28، 32، 47، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 405، 434، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 421، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 266، 267، 268، 269، 270، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 16694»
الحكم على الحديث: صحیح
الرواة الحديث:
يحيى بن عمارة الأنصاري ← عبد الله بن زيد الأنصاري