سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
21. باب فرض الحج وكم مرة حج النبى صلى الله عليه وسلم
باب: حج کی فرضیت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنی بار حج کیا؟
ترقیم العلمیہ : 2668 ترقیم الرسالہ : -- 2705
ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا خَلادُ بْنُ أَسْلَمَ ، نا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، نا الرَّبِيعُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ زِيَادٍ ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، فَقَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى فَرَضَ عَلَيْكُمُ الْحَجَّ"، فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: أَفِي كُلِّ عَامٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ ثَلاثَ مَرَّاتٍ، فَجَعَلَ يُعْرِضُ عَنْهُ، ثُمَّ قَالَ:" لَوْ قُلْتُ: نَعَمْ لَوَجَبَتْ، وَلَوْ وَجَبَتْ مَا قُمْتُمْ بِهَا"، ثُمَّ قَالَ:" دَعُونِي مَا تَرَكْتُمْ، فَإِنَّمَا أَهْلَكَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ سُؤَالُهُمْ وَاخْتِلافُهُمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ، فَإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِأَمْرٍ فَأْتُوهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ، وَإِذَا نَهَيْتُكُمْ عَنْ شَيْءٍ فَاجْتَنِبُوهُ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے لوگو! اللہ تعالیٰ نے تم پر حج فرض قرار دیا ہے۔“ تو ایک شخص کھڑا ہوا، اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! کیا ہر سال حج کرنا فرض ہے؟“ اس نے تین مرتبہ یہ سوال کیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی جواب نہیں دیا، پھر ارشاد فرمایا: ”اگر میں ہاں کہہ دیتا، تو یہ لازم ہو جاتا اور اگر یہ لازم ہو جاتا، تو تم ادا نہ کر سکتے، پھر آپ نے ارشاد فرمایا، جو چیز میں تمہارے سامنے بیان نہ کروں، اسے ویسے ہی رہنے دو، تم سے پہلے لوگ سوال کرنے کی وجہ سے اور اپنے انبیاء سے اختلاف کی وجہ سے ہلاکت کا شکار ہو گئے، جب میں تمہیں کسی چیز کا حکم دوں، تو جہاں تک تم سے ہو سکے، اسے بجا لاؤ اور جب کسی چیز سے منع کر دوں، تو اس سے رک جاؤ۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب الحج/حدیث: 2705]
ترقیم العلمیہ: 2668
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 7288، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1337،وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2508، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 18، 19،والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 2621، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 3585، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 2679، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1، 2، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2705، 2706، 2707، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 7484»
الرواة الحديث:
Sunan al-Daraqutni Hadith 2705 in Urdu
محمد بن زياد القرشي ← أبو هريرة الدوسي