🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. بَابُ
باب بلاعنوان
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2772 ترقیم الرسالہ : -- 2809
ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ الْقَاضِي ، نَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، نَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ جَمِيلِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْوَضِيءِ ، قَالَ: كُنَّا فِي سَفَرٍ فِي عَسْكَرٍ فَأَتَى رَجُلٌ مَعَهُ فَرَسٌ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنَّا: أَتَبِيعُ هَذَا الْفَرَسَ بِهَذَا الْغُلامِ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَبَاعَهُ ثُمَّ بَاتَ مَعَنَا، فَلَمَّا أَصْبَحَ قَامَ إِلَى فَرَسِهِ، فَقَالَ لَهُ صَاحِبُنَا: مَا لَكَ وَلِلْفَرَسِ؟ أَلَيْسَ قَدْ بِعْتَنِيهَا؟، قَالَ: مَا لِي فِي هَذَا الْبَيْعِ مِنْ حَاجَةٍ، قَالَ: مَا لَكَ ذَلِكَ، لَقَدْ بِعْتَنِي، فَقَالَ لَهُمَا الْقَوْمُ: هَذَا أَبُو بَرْزَةَ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيَاهُ، قَالَ لَهُمَا:" أَتَرْضَيَانِ بِقَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالا: نَعَمْ، فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا، وَإِنِّي لأَرَاكُمَا افْتَرَقْتُمَا" ،.
شیخ ابووصی بیان کرتے ہیں: ہم ایک جنگی مہم میں شریک تھے، اسی دوران ایک شخص آیا اور اس کے ساتھ اس کا گھوڑا بھی تھا، ہم میں سے ایک شخص نے کہا: ”کیا تم یہ گھوڑا اس غلام کے عوض میں اسے فروخت کرو گے؟“ اس نے کہا: ”جی ہاں!“ پھر اس نے اس کو فروخت کر دیا، پھر وہ رات ہمارے ساتھ رہا، تو جب صبح ہوئی، تو وہ اپنے گھوڑے کی طرف بڑھا، تو ہمارے ساتھی نے اسے کہا: ”تمہارا اس گھوڑے کے ساتھ کیا تعلق ہے، کیا تم نے یہ مجھے فروخت نہیں کر دیا ہے؟“ تو وہ شخص بولا: ”مجھے اس سودے کی ضرورت نہیں ہے۔“ تو ہمارے ساتھی نے کہا: ”اب تمہارا اس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے، تم اسے مجھے فروخت کر چکے ہو۔“ وہاں موجود لوگوں نے ان دونوں سے کہا: ”یہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ابوبردہ موجود ہیں۔“ وہ دونوں لوگ ان کے پاس آئے، تو سیدنا ابوبرزہ نے ان دونوں سے کہا: ”کیا تم اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے سے راضی ہو؟“ ان دونوں نے جواب دیا: ”جی ہاں!“ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”سودا کرنے والوں کو سودا ختم کرنے اس وقت تک اختیار ہوتا ہے، جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہیں ہو جاتے۔“ اور تم دونوں کے بارے میں یہ سمجھتا ہوں کہ تم دونوں ایک دوسرے سے جدا ہو گئے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2809]
ترقیم العلمیہ: 2772
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 675، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3457، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2182، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 10550، 10551، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2809، 2810، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 20127»


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥نضلة بن عمرو الأسلمي، أبو برزةصحابي
👤←👥عباد بن نسيب القيسي، أبو الوضيء
Newعباد بن نسيب القيسي ← نضلة بن عمرو الأسلمي
ثقة
👤←👥جميل بن مرة الشيباني
Newجميل بن مرة الشيباني ← عباد بن نسيب القيسي
ثقة
👤←👥هشام بن حسان الأزدي، أبو عبد الله
Newهشام بن حسان الأزدي ← جميل بن مرة الشيباني
ثقة حافظ
👤←👥مكي بن إبراهيم الحنظلي، أبو السكن
Newمكي بن إبراهيم الحنظلي ← هشام بن حسان الأزدي
ثقة ثبت
👤←👥إسماعيل بن محمد الفسوي، أبو يعقوب
Newإسماعيل بن محمد الفسوي ← مكي بن إبراهيم الحنظلي
ثقة
👤←👥أحمد بن محمد المتوثي، أبو سهل
Newأحمد بن محمد المتوثي ← إسماعيل بن محمد الفسوي
ثقة
Sunan al-Daraqutni Hadith 2809 in Urdu