سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
1. باب
باب بلاعنوان
ترقیم العلمیہ : 2817 ترقیم الرسالہ : -- 2854
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ ، نَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، نَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ ، عَنْ أَبِي الأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ ، قَالَ قَتَادَةُ ، وَحَدَّثَنِي صَالِحٌ أَبُو الْخَلِيلِ ، عَنْ مُسْلِمٍ الْمَكِّيِّ ، عَنْ أَبِي الأَشْعَثِ ، أَنَّهُ شَهِدَ خُطْبَةَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُبَاعَ الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ إِلا وَزْنًا بِوَزْنٍ، وَالْوَرِقَ بِالْوَرِقِ إِلا وَزْنًا تِبْرَهُ وَعَيْنَهُ، وَذَكَرَ الشَّعِيرَ بِالشَّعِيرِ، وَالْبُرَّ بِالْبُرِّ، وَالتَّمْرَ بِالتَّمْرِ، وَالْمِلْحَ بِالْمِلْحِ، وَلا بَأْسَ بِالشَّعِيرِ بِالْبُرِّ يَدًا بِيَدٍ، وَالشَّعِيرُ أَكْثَرُهُمَا يَدًا بِيَدٍ، فَمَا زَادَ أَوِ ازْدَادَ فَقَدْ أَرْبَى" ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَحَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ أَبِي فَاسْتَحْسَنَهُ.
شیخ ابواشعث بیان کرتے ہیں: وہ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے خطبہ میں موجود تھے، وہ بیان کرتے ہیں: میں نے ان کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیان کرتے ہیں: ”سونے کے عوض میں سونے کو فروخت کیا جائے، البتہ برابر کے وزن کے ساتھ کیا جا سکتا ہے، اور چاندی کو چاندی کے عوض میں کیا جائے، البتہ برابر کے وزن کے ساتھ کیا جا سکتا ہے، خواہ وہ اپنی اصلی شکل میں ہوں یا سکے کی شکل میں، پھر انہوں نے جو کے عوض میں جو فروخت کرنے کا، گندم کے عوض گندم اور کھجور کے عوض میں کھجور، نمک کے عوض میں نمک فروخت کرنے کا حکم دیا اور پھر یہ بات بتائی کہ گندم کے عوض میں جو کا سودا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، جبکہ وہ دست بہ دست ہو اور اس میں جو زیادہ ہو، لیکن یہ لین دین دست بہ دست ہونا چاہیے، اس کے علاوہ صورتوں میں جو زیادہ وہ دے گا یا لے گا، وہ سود کا کام کرے گا۔“ عبداللہ نامی راوی بیان کرتے ہیں: میں نے اپنے والد کو یہ حدیث سنائی، تو انہوں نے اسے مستحسن قرار دیا۔ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2854]
ترقیم العلمیہ: 2817
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1587، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 5015، 5018، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4576، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3349، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1240، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2621، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 18، 2254، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2854، 2876، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 23123، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 394، والبزار فى ((مسنده)) برقم: 2732»
الحكم على الحديث: صحيح
الرواة الحديث:
شراحيل بن آده الصنعاني ← عبادة بن الصامت الأنصاري