🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. باب الخراج بالضمان
باب: نفع اسی کا ہے جو مال کا ضامن ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2978 ترقیم الرسالہ : -- 3011
ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ نَصْرٍ الدَّقَّاقُ ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالا: نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَبَّاسِ الْبَاهِلِيُّ ، نَا عَبْدُ الأَعْلَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، نَا نَافِعٌ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، حَدَّثَهُ،" أَنَّ رَجُلا مِنَ الأَنْصَارِ كَانَ بِلِسَانِهِ لُوثَةٌ وَكَانَ لا يَزَالُ يُغْبَنُ فِي الْبُيُوعِ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: إِذَا بِعْتَ فَقُلْ: لا خِلابَةَ" مَرَّتَيْنِ" .
نافع بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں یہ بات بتائی کہ ایک انصاری کی زبان میں کچھ لکنت تھی اور اس کے ساتھ سودے میں ہمیشہ گھاٹا ہو جایا کرتا تھا، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے اس بات کا تذکرہ کیا، تو آپ نے ارشاد فرمایا: جب تم کوئی چیز فروخت کرو، تو دو مرتبہ یہ کہہ دیا کرو کہ کوئی گھاٹا برداشت نہیں ہو گا۔ سیدنا منقذ بن عمرو کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ ان کے سر میں چوٹ لگ گئی تھی، جس کی وجہ سے ان کی زبان میں اثر پڑا تھا، اور اس کی ذہنی کیفیت بھی کچھ تبدیل ہو گئی تھی، وہ تجارت کیا کرتے تھے اور تجارت میں ہمیشہ انہیں خسارہ ہوتا تھا، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا، تو آپ نے فرمایا: جب تم کوئی چیز فروخت کرو، تو یہ کہہ دیا کرو کہ کوئی گھاٹا نہیں ہو گا، پھر تم جس سامان کو خریدتے ہو، اس کے بارے میں تم تین دن تک اختیار رکھو گے، اگر تین دن کے بعد تم راضی ہوئے، تو اسے اپنے پاس رکھنا اور اگر پسند نہ ہوا، تو اس کے مالک کو واپس کر دینا۔ ان صحابی کی عمر بڑی طویل ہوئی، وہ ایک سو تیرہ سال تک زندہ رہے تھے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانے میں جب لوگ ہر طرف پھیل گئے تھے اور لوگوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہو گیا تھا اور بازار میں خوب سودا ہوا کرتا تھا، اس وقت وہ بازار میں خرید و فروخت کیا کرتے تھے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 3011]
ترقیم العلمیہ: 2978
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2117، 2407، 2414، 6964، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1533، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1294، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 5051، 5052، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2214، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3500،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3008، 3011/2، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 677،وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 5131»
«قال محمد بن عبد الباقي الزرقاني: إسناده حسن، شرح الزرقاني على الموطأ: (3 / 509)»

الحكم على الحديث: إسناده حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله
Newنافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت مشهور
👤←👥ابن إسحاق القرشي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newابن إسحاق القرشي ← نافع مولى ابن عمر
صدوق مدلس
👤←👥عبد الأعلى بن عبد الأعلى القرشي، أبو محمد
Newعبد الأعلى بن عبد الأعلى القرشي ← ابن إسحاق القرشي
ثقة
👤←👥محمد بن عمرو الباهلي، أبو بكر
Newمحمد بن عمرو الباهلي ← عبد الأعلى بن عبد الأعلى القرشي
صدوق حسن الحديث
👤←👥الحسين بن إسماعيل المحاملي، أبو عبد الله
Newالحسين بن إسماعيل المحاملي ← محمد بن عمرو الباهلي
ثقة
👤←👥عبد الملك بن أحمد الدقاق، أبو الحسن، أبو الحسين
Newعبد الملك بن أحمد الدقاق ← الحسين بن إسماعيل المحاملي
ثقة
Sunan al-Daraqutni Hadith 3011 in Urdu