Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

4. بَابُ الْخَرَاجِ بِالضَّمَانِ
باب: نفع اسی کا ہے جو مال کا ضامن ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2971 ترقیم الرسالہ : -- 3004
ثنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادِ بْنِ الرَّبِيعِ الزِّيَادِيُّ ، بِالْبَصْرَةِ، نَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، جَعَلَ الْخَرَاجَ بِالضَّمَانِ" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمان کے حساب سے خراج مقرر کیا ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 3004]
ترقیم العلمیہ: 2971
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 682، 683، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4927، 4928، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2187، 2188، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4495، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 6037، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3508، 3509، 3510، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1285، 1286، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2242، 2243، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3004، 3005، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 24861»
«قال ابن حزم: لا يصح، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (3 / 51)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2972 ترقیم الرسالہ : -- 3005
ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، نَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ مَخْلَدِ بْنِ خُفَافِ بْنِ إِيمَاءِ بْنِ رُخْصَةَ الْغِفَارِيِّ ، أَنَّ عَبْدًا كَانَ بَيْنَ شُرَكَائِهِ فَبَاعُوهُ وَرَجُلٌ مِنَ الشُّرَكَاءِ غَائِبٌ، فَلَمَّا قَدِمَ أَبَى أَنْ يُجِيزَ بَيْعَهُ، فَاخْتَصَمُوا فِي ذَلِكَ إِلَى هِشَامِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ ، فَقَضَى أَنْ يُرَدَّ الْبَيْعُ وَيَتَبَايَعُوهُ الْيَوْمَ، وَيُؤْخَذُ مِنْهُ الْخَرَاجُ، وَوُجِدَ الْخَرَاجُ فِيمَا مَضَى مِنَ السَّنَتَيْنِ أَلْفُ دِرْهَمٍ، قَالَ: فَبِيعَ فِيهِ غُلامَانِ لَهُ، قَالَ: فَجِئْتُ إِلَى عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ فَذَكَرْتُ لَهُ ذَلِكَ، فَقَالَ حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَضَى أَنَّ الْخَرَاجَ بِالضَّمَانِ"، فَدَخَلَ عُرْوَةُ عَلَى هِشَامٍ فَحَدَّثَهُ بِذَلِكَ فَرَدَّ بَيْعَ الْغُلامَيْنِ، وَتَرَكَ الْخَرَاجَ.
سیدنا مخلد بن خفاف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک غلام کچھ لوگوں کی مشترکہ ملکیت تھا، ان لوگوں نے اسے فروخت کر دیا، شراکت داروں میں سے ایک شخص غیر موجود تھا، جب وہ آیا، تو اس نے اس سودے کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا، وہ لوگ اپنا مقدمہ ہشام بن اسماعیل کے پاس لے آئے، تو انہوں نے یہ فیصلہ دیا کہ یہ سودا کالعدم قرار دیا جائے گا اور وہ لوگ اس دن کے ریٹ کے حساب سے سودا کریں گے اور اسے خراج وصول کر لیا جائے گا، پھر جو دو سال گزر چکے تھے، ان کا خراج ایک ہزار درہم بنا، تو اس غلام کے عوض دو غلام فروخت کیے گئے۔ میں عروہ بن زبیر کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا، تو انہوں نے فرمایا: سیدہ عائشہ نے مجھے یہ حدیث سنائی: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ دیا کہ خراج زمان کے حساب سے ہو گا، پھر عروہ ہشام کے پاس تشریف لے آئے اور انہیں اس بارے میں بتایا، اس نے ان دونوں غلاموں کا سودا کالعدم کر دیا اور خراج ترک کر دیا۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 3005]
ترقیم العلمیہ: 2972
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 682، 683، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4927، 4928، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2187، 2188، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4495، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 6037، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3508، 3509، 3510، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1285، 1286، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2242، 2243، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3004، 3005، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 24861»
«قال ابن حزم: لا يصح، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (3 / 51)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2973 ترقیم الرسالہ : -- 3006
ثنا ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، نَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، نَا الأَوْزَاعِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ:" مَا أَدْرَكَتْهُ الصَّفْقَةُ حَيًّا مَجْمُوعًا فَهُوَ مِنْ مَالِ الْمُبْتَاعِ" .
حمزہ بن عبداللہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: سودا ہو جانے کے وقت جو چیز زندہ ہو اور جمع ہو، وہ خریدار کے مال کا حصہ شمار ہو گی۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 3006]
ترقیم العلمیہ: 2973
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3006، والطحاوي فى ((شرح معاني الآثار)) برقم: 5537، 5538»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2974 ترقیم الرسالہ : -- 3007
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ زَنْجُوَيْهِ ، نَا أَسَدُ بْنُ مُوسَى ، نَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، نَا حَبَّانُ بْنُ وَاسِعٍ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ ، أَنَّهُ كَلَّمَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ " فِي الْبُيُوعِ، قَالَ: مَا أَجِدُ لَكُمْ شَيْئًا أَوْسَعَ مِمَّا جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَبَّانَ بْنِ مُنْقِذٍ، إِنَّهُ كَانَ ضَرِيرَ الْبَصَرِ، فَجَعَلَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُهْدَةَ ثَلاثَةِ أَيَّامٍ، إِنْ رَضِيَ أَخَذَ، وَإِنْ سَخَطَ تَرَكَ" .
طلحہ بن یزید کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ انہوں نے کچھ سودوں کے بارے میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے بات چیت کی (کہ ان کا حکم کیا ہے)، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے تمہارے لیے ایسی کوئی چیز نہیں ملی، جو اس سے زیادہ گنجائش والی ہو، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حبان بن منقذ کو دی تھی، ان کی نظر کمزور تھی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ اجازت دی کہ وہ سودے کو کالعدم کرنے کا تین دن کا اختیار رکھے گا اور اگر وہ راضی ہوں گے، تو لے لیں گے، اگر پسند نہیں کریں گے، تو اس کو ترک کر دیں گے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 3007]
ترقیم العلمیہ: 2974
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 10573، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3007، 3013»
«قال ابن حجر: مداره على ابن لهيعة وهو ضعيف، فتح الباري شرح صحيح البخاري: (4 / 395)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2975 ترقیم الرسالہ : -- 3008
ثنا يَحْيَى بْنُ صَاعِدٍ ، نَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، نَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي ابْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" كَانَ حَبَّانُ بْنُ مُنْقِذٍ، رَجُلا ضَعِيفًا، وَكَانَ قَدْ سُفِعَ فِي رَأْسِهِ مَأْمُومَةً فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُ الْخِيَارَ فِيمَا يَشْتَرِي ثَلاثًا، وَكَانَ قَدْ ثَقُلَ لِسَانُهُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بِعْ، وَقُلْ: لا خِلابَةَ، فَكُنْتُ أَسْمَعُهُ، يَقُولُ: لا خِذَابَةُ، لا خِذَابَةَ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا صفوان بن منقذ ایک عمر رسیدہ آدمی تھے، ان کے سر میں چوٹ لگی تھی، اس کی وجہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ اختیار دیا تھا کہ وہ جو سودا کریں گے، اس میں تین دن تک سودے کو ختم کرنے کا اختیار ہو گا، ان کی زبان میں کچھ لکنت پائی جاتی تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے یہ فرمایا تھا: تم فروخت کرتے ہوئے یہ کہہ دیا کرو کہ کوئی دھوکا نہیں چلے گا۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: میں نے انہیں یہ کہتے ہوئے سنا کہ وہ لفظ خلابہ کی بجائے خذابہ کہا کرتے تھے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 3008]
ترقیم العلمیہ: 2975
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2117، 2407، 2414، 6964، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1533، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1294، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 5051، 5052، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2214، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3500،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3008، 3011/2، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 677،وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 5131»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2976 ترقیم الرسالہ : -- 3009
ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، نَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، نَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَجُلا كَانَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْتَاعُ وَكَانَ فِي عُقْدَتِهِ يَعْنِي فِي عَقْلِهِ ضَعْفٌ، فَأَتَى أَهْلُهُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ،" احْجُرْ عَلَى فُلانٍ فَإِنَّهُ يَبْتَاعُ وَفِي عُقْدَتِهِ ضَعْفٌ، فَدَعَاهُ فَنَهَاهُ عَنِ الْبَيْعِ، فَقَالَ: إِنِّي لا أَصْبِرُ عَنِ الْبَيْعِ، فَقَالَ: إِنْ كُنْتَ غَيْرَ تَارِكٍ الْبَيْعَ، فَقُلْ: هَا وَهَا وَلا خِلابَةَ" .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ایک شخص تھا، جو خرید و فروخت کیا کرتا تھا، اس کی ذہنی حالت میں کچھ خرابی پائی جاتی تھی، ایک مرتبہ اس کے گھر والے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: اے اللہ کے نبی! آپ فلاں شخص کو تصرف کرنے سے روک دیں، کیونکہ وہ سودا کر لیتا ہے، لیکن اس کی ذہنی حالت میں کچھ کمزوری پائی جاتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور اسے سودا کرنے سے منع کر دیا، تو اس نے عرض کی: میں خرید و فروخت کیے بغیر گزارہ نہیں کر سکتا۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر تم نے ضرور خرید و فروخت کرنی ہے، تو یہ کہا کرو: یہ اس کے عوض میں ہے اور کوئی دھوکا نہیں چلے گا۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 3009]
ترقیم العلمیہ: 2976
تخریج الحدیث: «مرسل، وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 619، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 5049، 5050،والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 7153، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4490، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3501، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1250، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2354، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3009، 3010، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 13480»
«قال الدارقطني: والمرسل أشبه، العلل الواردة في الأحاديث النبوية: (12 / 157)»

الحكم على الحديث: مرسل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2977 ترقیم الرسالہ : -- 3010
ثنا ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَثْرَمُ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمُقْرِئُ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مَالِكٍ السُّوسِيُّ ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ، وَقَالَ فِيهِ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنْ كُنْتَ لا تَصْبِرُ عَنِ الْبَيْعِ، فَقُلْ: هَا وَهَا، وَلا خِلابَةَ" ، قَالَ عَبْدُ الْوَهَّابِ:" يَعْنِي لا يَغْبُنُونَهُ".
پہلی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر تم کو ضرور خرید و فروخت ہی کرنی ہے، تو یہ کہا کرو کہ یہ اس کے عوض میں ہے اور کوئی دھوکا نہیں چلے گا۔ عبدالوہاب نامی راوی کہتے ہیں: یعنی لوگ اسے کسی خسارے کا شکار نہیں کریں گے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 3010]
ترقیم العلمیہ: 2977
تخریج الحدیث: «مرسل، وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 619، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 5049، 5050،والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 7153، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4490، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3501، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1250، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2354، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3009، 3010، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 13480»
«قال الدارقطني: والمرسل أشبه، العلل الواردة في الأحاديث النبوية: (12 / 157)»

الحكم على الحديث: مرسل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2978 ترقیم الرسالہ : -- 3011
ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ نَصْرٍ الدَّقَّاقُ ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالا: نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَبَّاسِ الْبَاهِلِيُّ ، نَا عَبْدُ الأَعْلَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، نَا نَافِعٌ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، حَدَّثَهُ،" أَنَّ رَجُلا مِنَ الأَنْصَارِ كَانَ بِلِسَانِهِ لُوثَةٌ وَكَانَ لا يَزَالُ يُغْبَنُ فِي الْبُيُوعِ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: إِذَا بِعْتَ فَقُلْ: لا خِلابَةَ" مَرَّتَيْنِ" .
نافع بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں یہ بات بتائی کہ ایک انصاری کی زبان میں کچھ لکنت تھی اور اس کے ساتھ سودے میں ہمیشہ گھاٹا ہو جایا کرتا تھا، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے اس بات کا تذکرہ کیا، تو آپ نے ارشاد فرمایا: جب تم کوئی چیز فروخت کرو، تو دو مرتبہ یہ کہہ دیا کرو کہ کوئی گھاٹا برداشت نہیں ہو گا۔ سیدنا منقذ بن عمرو کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ ان کے سر میں چوٹ لگ گئی تھی، جس کی وجہ سے ان کی زبان میں اثر پڑا تھا، اور اس کی ذہنی کیفیت بھی کچھ تبدیل ہو گئی تھی، وہ تجارت کیا کرتے تھے اور تجارت میں ہمیشہ انہیں خسارہ ہوتا تھا، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا، تو آپ نے فرمایا: جب تم کوئی چیز فروخت کرو، تو یہ کہہ دیا کرو کہ کوئی گھاٹا نہیں ہو گا، پھر تم جس سامان کو خریدتے ہو، اس کے بارے میں تم تین دن تک اختیار رکھو گے، اگر تین دن کے بعد تم راضی ہوئے، تو اسے اپنے پاس رکھنا اور اگر پسند نہ ہوا، تو اس کے مالک کو واپس کر دینا۔ ان صحابی کی عمر بڑی طویل ہوئی، وہ ایک سو تیرہ سال تک زندہ رہے تھے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانے میں جب لوگ ہر طرف پھیل گئے تھے اور لوگوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہو گیا تھا اور بازار میں خوب سودا ہوا کرتا تھا، اس وقت وہ بازار میں خرید و فروخت کیا کرتے تھے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 3011]
ترقیم العلمیہ: 2978
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2117، 2407، 2414، 6964، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1533، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1294، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 5051، 5052، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2214، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3500،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3008، 3011/2، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 677،وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 5131»
«قال محمد بن عبد الباقي الزرقاني: إسناده حسن، شرح الزرقاني على الموطأ: (3 / 509)»

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2979 ترقیم الرسالہ : -- 3012
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: اختیار تین دن تک ہوتا ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 3012]
ترقیم العلمیہ: 2979
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه أبو داود فى ((سننه)) برقم: 3446، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2240، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 10572، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3012، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 6771»
«قال الزیلعي: أحمد بن عبد الله بن ميسرة إن كان هو الحراني الغنوي فهو متروك، نصب الراية لأحاديث الهداية: (4 / 6)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2980 ترقیم الرسالہ : -- 3013
ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ بُهْلُولٍ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ ، أنا عُبَيْدُ بْنُ أَبِي قُرَّةَ ، عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ ، عَنْ حَبَّانَ بْنِ وَاسِعٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ :" لَمَّا اسْتُخْلِفَ أَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي نَظَرْتُ فَلَمْ أَجِدْ لَكُمْ فِي بُيُوعِكُمْ شَيْئًا أَمْثَلَ مِنَ الْعُهْدَةِ الَّتِي جَعَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَبَّانَ بْنَ مُنْقِذٍ، ثَلاثَةَ أَيَّامٍ، وَذَلِكَ فِي الرَّقِيقِ" .
حبان بن واسع اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: جب سیدنا عمر کو خلیفہ مقرر کیا گیا، تو انہوں نے فرمایا: اے لوگو! میں نے اس بات کا جائزہ لیا ہے اور میں نے یہ بات پائی ہے کہ تمہارے سودوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں سب سے مشابہ جو چیز ہے، وہ اختیار ہے، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حبان بن منقذ کو تین دن تک دیا تھا اور یہ واقعہ ایک غلام کے بارے میں پیش آیا تھا۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 3013]
ترقیم العلمیہ: 2980
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 10573، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3007، 3013»
«قال ابن حجر: مداره على ابن لهيعة وهو ضعيف، فتح الباري شرح صحيح البخاري: (4 / 395)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں