سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
1. كتاب الحدود والديات وغيره
حدود اور دیات وغیرہ کے بارے میں روایات
ترقیم العلمیہ : 3301 ترقیم الرسالہ : -- 3347
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ جَرِيرِ بْنِ جَبَلَةَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، نَا حَمَّادُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ ابْنُ أَخِي حَزْمٍ، نَا عُمَرُ بْنُ عَامِرٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ،" أَنْ يَهُودِيًّا مَرَّ بِجَارِيَةٍ عَلَيْهَا حُلِيٌّ لَهَا، فَأَخَذَ عَلَيْهَا وَأَلْقَاهَا فِي بِئْرٍ، فَأُخْرِجَتْ وَبِهَا رَمَقٌ، فَقِيلَ: مَنْ قَتَلَكِ؟، قَالَتْ: فُلانٌ الْيَهُودِيُّ، فَانْطُلِقَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاعْتَرَفَ، فَأَمَرَ بِهِ فَقُتِلَ .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک یہودی شخص ایک لڑکی کے پاس سے گزرا، اس لڑکی نے کوئی زیور پہنا ہوا تھا، اس نے (وہ زیور چھین کر لڑکی کو زخمی کر کے) ایک کنویں میں ڈال دیا، جب اس لڑکی کو باہر نکالا، تو اس میں زندگی کی رمق تھی، اس سے دریافت کیا گیا: ”تمہیں کس نے قتل کیا ہے؟“ اس نے بتایا: فلاں یہودی نے، اس یہودی کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا، تو اس نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت اسے بھی قتل کر دیا گیا۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3347]
ترقیم العلمیہ: 3301
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2413، 2746، 5295، 6876، 6877، 6879، 6884، 6885، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1672، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 5991، 5992، 5993، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4744، 4745، 4746، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 4527، 4528، 4529، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1394، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2400، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2665، 2666،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3347، 3348، 3349، 3350، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 12863»
الرواة الحديث:
قتادة بن دعامة السدوسي ← أنس بن مالك الأنصاري