یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
6. باب
باب
ترقیم العلمیہ : 3646 ترقیم الرسالہ : -- 3702
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ ، ثنا حَجَّاجٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، عَنِ الْمُلاعَنَةِ وَعَنِ السُّنَّةِ فِيهَا، عَنْ حَدِيثِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، أَنَّ رَجُلا مِنَ الأَنْصَارِ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ،" أَرَأَيْتَ رَجُلا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلا أَيَقْتُلُهَا فَتَقْتُلُونَهُ أَمْ كَيْفَ يَصْنَعُ بِهَا؟، فَأَنْزَلَ اللَّهُ فِي شَأْنِهِمَا مَا ذُكِرَ فِي الْقُرْآنِ مِنْ أَمْرِ الْمُتَلاعِنَيْنِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَدْ قَضَى اللَّهُ فِيكَ وَفِي امْرَأَتِكَ، فَتَلاعَنَا فِي الْمَسْجِدِ وَأَنَا شَاهِدٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَتِ السُّنَّةُ بَعْدُ فِيهِمَا أَنْ يُفَرَّقَ بَيْنَ الْمُتَلاعِنَيْنِ، وَكَانَتْ حَامِلا فَأَنْكَرَهُ، فَكَانَ ابْنُهَا يُدْعَى إِلَى أُمِّهِ، ثُمَّ جَرَتِ السُّنَّةُ فِي أَنَّهَا تَرِثُهُ وَيَرِثُ مَا فَرَضَ اللَّهُ لَهُ مِنْهَا" .
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک انصاری شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: ”یا رسول اللہ! ایسے شخص کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے، جو اپنی بیوی کے ساتھ کسی فرد کو پاتا ہے، اگر وہ اس عورت کو قتل کر دیتا ہے، تو آپ لوگ اسے قتل کر دیں گے، ایسے شخص کو اس عورت کے ساتھ کیا کرنا چاہیے؟“ تو اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں حکم نازل کیا، جو لعان کرنے والوں کے بارے میں قرآن میں مذکور ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے تمہارے اور تمہاری بیوی کے بارے میں فیصلہ دے دیا ہے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: ان دونوں میاں بیوی نے مسجد میں لعان کیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میں بھی وہاں موجود تھا (راوی کہتے ہیں) اس کے بعد اسی میاں بیوی کے بارے میں یہ طریقہ رائج ہوا کہ لعان کرنے والوں کے درمیان علیحدگی کر دی جاتی تھی۔ راوی کہتے ہیں: وہ عورت حاملہ تھی، مرد نے اس کے حمل کا انکار کیا، تو اس کے بعد اس عورت کے بیٹے کو اس کی ماں کی نسبت سے بلایا جاتا تھا، اس کے بعد یہ طریقہ رائج ہوا کہ ایسی عورت اپنے اس بچے کی وارث بنتی تھی، اور وہ بچہ اس عورت کا وارث بنتا تھا، جو اس نے بیٹے کی وراثت کے طور پر مقرر کیا تھا۔ [سنن الدارقطني/ كتاب النكاح/حدیث: 3702]
ترقیم العلمیہ: 3646
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 423، 4745، 4746، 5259، 5308، 5309، 6854، 7165، 7166، 7304، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1492، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1118، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4283، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3404، 3468، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5565،وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2245،2248، 2251، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2066، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3702، 3704، 3705، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 23266، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 17655، 37282»
الحكم على الحديث: صحيح
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥سهل بن سعد الساعدي، أبو العباس، أبو يحيى | صحابي | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← سهل بن سعد الساعدي | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥ابن جريج المكي، أبو خالد، أبو الوليد ابن جريج المكي ← محمد بن شهاب الزهري | ثقة | |
👤←👥الحجاج بن محمد المصيصي، أبو محمد الحجاج بن محمد المصيصي ← ابن جريج المكي | ثقة ثبت | |
👤←👥يوسف بن سعيد المصيصي، أبو يعقوب يوسف بن سعيد المصيصي ← الحجاج بن محمد المصيصي | ثقة حافظ | |
👤←👥عبد الله بن محمد الفقيه، أبو بكر عبد الله بن محمد الفقيه ← يوسف بن سعيد المصيصي | ثقة حافظ |
Sunan al-Daraqutni Hadith 3702 in Urdu
محمد بن شهاب الزهري ← سهل بن سعد الساعدي