سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
6. باب
باب
ترقیم العلمیہ : 3656 ترقیم الرسالہ : -- 3712
نَا أَبُو عِيسَى يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ الدُّورِيُّ ، نَا حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو ، نَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ هِلالَ بْنَ أُمَيَّةَ قَذَفَ امْرَأَتَهُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَرِيكِ بْنِ السَّحْمَاءِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْبَيِّنَةُ أَوْ حَدٌّ فِي ظَهْرِكَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِذَا رَأَى أَحَدُنَا الرَّجُلَ عَلَى امْرَأَتِهِ يَنْطَلِقُ يَلْتَمِسُ الْبَيِّنَةَ، قَالَ: فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: الْبَيِّنَةُ وَإِلا فَحَدٌّ فِي ظَهْرِكَ، قَالَ: فَقَالَ هِلالُ بْنُ أُمَيَّةَ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ إِنِّي لَصَادِقٌ وَلَيُنْزِلَنَّ اللَّهُ فِي أَمْرِي مَا يُبَرِّئُ بِهِ ظَهْرِي مِنَ الْحَدِّ، قَالَ: فَنَزَلَ جِبْرِيلُ فَأُنْزِلَتْ عَلَيْهِ وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ سورة النور آية 6 حَتَّى بَلَغَ وَالْخَامِسَةَ أَنَّ غَضَبَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ سورة النور آية 9، قَالَ: فَانْصَرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِمَا، قَالَ: فَجَاءَ فَقَامَ هِلالُ بْنُ أُمَيَّةَ فَشَهِدَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ أَنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ فَهَلْ مِنْكُمَا مِنْ تَائِبٍ؟، فَقَامَتْ فَشَهِدَتْ فَلَمَّا كَانَ عِنْدَ الْخَامِسَةِ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَقِّفُوهَا فَإِنَّهَا مُوجِبَةٌ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَتَلَكَّأَتْ وَنَكَصَتْ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهَا سَتَرْجِعُ، ثُمَّ قَالَتْ: لا أَفْضَحُ قَوْمِي سَائِرَ الْيَوْمِ، قَالَ: فَمَضَتْ فَفُرِّقَ بَيْنَهُمَا، قَالَ: وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَبْصِرُوهَا فَإِنْ هِيَ جَاءَتْ بِهِ" ، قَالَ هِشَامٌ: أَحْسَبُهُ قَالَ مثل قَوْلِ مُحَمَّدٍ:" فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَكْحَلَ الْعَيْنَيْنِ سَابِغَ الأَلْيَتَيْنِ مُدَمَلْجَ السَّاقَيْنِ فَهُوَ لِشَرِيكِ بْنِ سَحْمَاءَ"، قَالَ: فَجَاءَتْ بِهِ كَذَلِكَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْلا مَا مَضَى مِنْ كِتَابِ اللَّهِ لَكَانَ لِي وَلَهَا شَأْنٌ".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ہلال بن امیہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی بیوی پر یہ الزام لگایا کہ اس کے شریک بن سحماء کے ساتھ ناجائز تعلقات ہیں۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم ثبوت پیش کرو، ورنہ تم پر زنا کا جھوٹا الزام لگانے کی حد جاری ہو گی۔“ ہلال نے عرض کی: یا رسول اللہ! اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی آدمی کو دیکھتا ہے، تو کیا وہ ثبوت گواہ تلاش کرنے چل پڑے گا؟ راوی بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہی فرماتے رہے: ”تم ثبوت پیش کرو، ورنہ تم پر زنا کا جھوٹا الزام لگانے کی حد جاری ہو گی۔“ راوی بیان کرتے ہیں: ہلال بن امیہ نے عرض کی: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے، میں سچ کہہ رہا ہوں اور اللہ میرے بارے میں کوئی ایسا حکم ضرور نازل کرے گا جس کی وجہ سے مجھ پر حد جاری نہیں ہو گی۔ راوی بیان کرتے ہیں: جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی: ”وہ لوگ جو اپنی بیویوں پر الزام لگا دیتے ہیں۔“ یہ آیت یہاں تک ہے: ”پانچویں مرتبہ وہ کہے گی: اس پر اللہ کا غضب نازل ہوا اگر وہ مرد سچا ہو۔“ راوی بیان کرتے ہیں: اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو بلوایا۔ راوی بیان کرتے ہیں: ہلال بن امیہ آئے، انہوں نے کھڑے ہو کر گواہی دی۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ یہ بات جانتا ہے کہ تم دونوں میں سے کوئی ایک جھوٹا ہے، تو کیا تم میں سے کوئی ایک توبہ کرے گا؟“ پھر وہ عورت کھڑی ہوئی اور اس نے بھی گواہی دے دی۔ جب وہ پانچواں جملہ استعمال کرنے لگی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے روکو، کیونکہ یہ (پانچویں گواہی اس کے لیے آخرت میں عذاب کو) لازم کر دے گی۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم بیان کرتے ہیں: وہ عورت ہچکچائی، اس نے اپنا سر جھکایا یہاں تک کہ ہم نے یہ گمان کیا کہ اب وہ رجوع کر لے گی، لیکن پھر اس نے کہا: میں اپنے قبیلے کو کبھی رسوا نہیں کروں گی۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر اس نے (گواہی کو) پورا کیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان علیحدگی کروا دی۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس عورت کا دھیان رکھنا، اگر یہ ایسے بچے کو جنم دے۔“ ہشام نامی راوی بیان کرتے ہیں: میرا خیال ہے میرے استاد نے یہاں محمد نامی راوی کی مانند لفظ نقل کیے ہیں: ”اور اگر اس عورت نے سرمئی آنکھوں، بھاری سرین اور مضبوط پنڈلی والے بچے کو جنم دیا، تو وہ شریک بن سحماء کی اولاد ہو گا۔“ تو اس عورت نے ایسے ہی بچے کو جنم دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر اس بارے میں اللہ کی کتاب کا حکم پہلے نہ آ چکا ہوتا، تو میرا اس عورت کے ساتھ سلوک مختلف ہوتا۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب النكاح/حدیث: 3712]
ترقیم العلمیہ: 3656
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2671، 4747، 5307، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2829، 8204، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 8169، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2254، 2256، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 3179، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2067، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3712، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 2163، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 17656، 29675، 37283»
الحكم على الحديث: صحيح
الرواة الحديث:
عكرمة مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي