سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
40. باب ما روي فى فضل الوضوء واستيعاب جميع القدم فى الوضوء بالماء
باب: وضو کی فضیلت اور وضو کے دوران پورے پاؤں تک اچھی طرح پانی پہنچانے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
ترقیم العلمیہ : 379 ترقیم الرسالہ : -- 386
حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَشِّرٍ ، نا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، نا عَبْدُ السَّلامِ بْنُ صَالِحٍ ، نا إِسْحَاقُ بْنُ سُوَيْدٍ ، عَنِ الْعَلاءِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ ِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرْضِيٍّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" خَرَجَ عَلَيْهِمْ ذَاتَ يَوْمٍ وَقَدِ اغْتَسَلَ وَقَدْ بَقِيَتْ لُمْعَةٌ مِنْ جَسَدِهِ لَمْ يُصِبْهَا الْمَاءُ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذِهِ لُمْعَةٌ لَمْ يُصِبْهَا الْمَاءُ، فَكَانَ لَهُ شَعْرٌ وَارِدٌ، فَقَالَ بِشَعْرِهِ هَكَذَا عَلَى الْمَكَانِ فَبَلَّهُ" . عَبْدُ السَّلامِ بْنُ صَالِحٍ هَذَا بَصْرِيُّ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ، وَغَيْرُهُ مِنَ الثِّقَاتِ، يَرْوِيهِ عَنْ إِسْحَاقَ، عَنِ الْعَلاءِ، مُرْسَلا.
علاء بن زیاد، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم میں سے ایک صاحب کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے پاس تشریف لائے۔ آپ نے غسل کیا ہوا تھا، لیکن آپ کے جسم کا کچھ حصہ خشک رہ گیا تھا جہاں تک پانی نہیں پہنچا تھا۔ ہم نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! یہ حصہ خشک رہ گیا ہے، یہاں تک پانی نہیں پہنچا؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بال مبارک گھنے تھے، آپ نے اپنے (گیلے) بالوں کی نمی کے ذریعے اس حصے کو تر کر لیا۔ اس روایت کا ایک راوی عبدالسلام بن صالح بصری ہے اور مستند نہیں ہے۔ دیگر ثقہ راویوں نے اسے اسحاق نامی راوی کے حوالے سے، علاء نامی راوی کے حوالے سے ”مرسل“ روایت کے طور پر نقل کیا ہے۔ [سنن الدارقطني/كتاب الطهارة/حدیث: 386]
ترقیم العلمیہ: 379
تخریج الحدیث: «مرسل ضعيف،وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 386، انفرد به المصنف من هذا الطريق، وقال الدارقطني: عبد السلام بن صالح هذا بصري ليس بالقوي وغيره من الثقات يرويه عن إسحاق عن العلاء مرسلا، سنن الدارقطني:، 386»
الحكم على الحديث: مرسل ضعيف
الرواة الحديث:
العلاء بن زياد العدوي ← اسم مبهم