علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
1. أول كتاب الطلاق وغيره
طلاق، خلع، ایلاء، وغیرہ کے بارے میں روایات
ترقیم العلمیہ : 3876 ترقیم الرسالہ : -- 3942
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ الْمَارَسْتَانِيُّ ، نَا الْقَاسِمُ بْنُ سَعِيدٍ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ قَيْسٍ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعِيدٍ الْقَيْسِيُّ ، نَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ ، نَا زَيْدُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ آبَائِهِ أَنَّ رَجُلا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ،" إِنَّ أُمِّي عَرَضَتْ عَلَيَّ قَرَابَةً لِي أَتَزَوَّجُهَا، فَقُلْتُ: هِيَ طَالِقٌ ثَلاثًا إِنْ تَزَوَّجْتُهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ كَانَ قَبْلَ ذَلِكَ مِنْ مِلْكٍ؟، قَالَ: لا، قَالَ: لا بَأْسَ فَتَزَوَّجْهَا" .
امام زید بن علی رضی اللہ عنہ اپنے آباء و اجداد کے حوالے سے نقل کرتے ہیں: ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! میری والدہ نے میرے سامنے اپنی ایک رشتہ دار لڑکی کا ذکر کیا کہ میں اس کے ساتھ شادی کر لوں، تو میں نے کہا: اگر میں نے اس عورت سے شادی کر لی، تو اسے تین طلاقیں ہیں، (اب کیا حکم ہو گا؟)“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا وہ اس سے پہلے آپ کی ملکیت میں تھی؟“ اس نے عرض کیا: ”جی نہیں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر کوئی حرج نہیں ہے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: پھر اس شخص نے اس عورت کے ساتھ شادی کر لی۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره/حدیث: 3942]
ترقیم العلمیہ: 3876
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3942، انفرد به المصنف من هذا الطريق»
«قال ابن حجر: إسناده ضعيف، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (3 / 428)»
«قال ابن حجر: إسناده ضعيف، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (3 / 428)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
الرواة الحديث:
Sunan al-Daraqutni Hadith 3942 in Urdu
زيد بن علي الهاشمي ← اسم مبهم