سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
1. أول كتاب الطلاق وغيره
طلاق، خلع، ایلاء، وغیرہ کے بارے میں روایات
ترقیم العلمیہ : 3877 ترقیم الرسالہ : -- 3943
نَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، نَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْبَاقِي الأَذَنِيُّ . ح وَنا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ ، نَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْبَاقِي الأَذَنِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْقَاسِمِ الصَّنْعَانِيُّ ، نَا عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ فَلاحٍ الصَّنْعَانِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْوَلِيدِ الْوَصَّافِيِّ ، وَصَدَقَةَ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: طَلَّقَ بَعْضُ آبَائِي امْرَأَتَهُ أَلْفًا، فَانْطَلَقَ بَنُوهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ،" إِنَّ أَبَانَا طَلَّقَ أُمَّنَا أَلْفًا، فَهَلْ لَهُ مِنْ مَخْرَجٍ؟ فَقَالَ: إِنَّ أَبَاكُمْ لَمْ يَتَّقِ اللَّهَ فَيَجْعَلْ لَهُ مِنْ أَمْرِهِ مَخْرَجًا، بَانَتْ مِنْهُ بِثَلاثٍ عَلَى غَيْرِ السُّنَّةِ، وَتِسْعُمِائَةٌ وَسَبْعَةٌ وَتِسْعُونَ إِثْمٌ فِي عُنُقِهِ" ، رُوَاتُهُ مَجْهُولُونَ وَضُعَفَاءُ، إِلا شَيْخُنَا، وَابْنُ عَبْدِ الْبَاقِي.
ابراہیم بن عبیداللہ اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ان کے بزرگوں میں سے کسی شخص نے اپنی بیوی کو ایک ہزار طلاقیں دے دیں، اس کے بچے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! ہمارے والد نے ہماری والدہ کو ایک ہزار طلاقیں دے دی ہیں، کیا ان کے لیے کوئی گنجائش ہے؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تمہارا باپ اللہ سے ڈرا نہیں ہے، ورنہ وہ اس کے لیے کوئی گنجائش پیدا کر دیتا، وہ عورت اس شخص سے تین طلاقوں کی وجہ سے جدا ہو جائے گی، جو طلاقیں سنت کے خلاف ہیں اور (بقیہ) نو سو ستانوے طلاقیں اس کی گردن میں گناہ کے طور پر ہوں گی۔“ (امام دارقطنی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں) ہمارے استاد ابن عبدالباقی (ان دو حضرات کے علاوہ) اس روایت کے تمام راوی مجہول اور ضعیف ہیں۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره/حدیث: 3943]
ترقیم العلمیہ: 3877
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3943، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 11339»
«قال الدارقطني: رواته مجهولون وضعفاء كلهم إلا شيخنا وابن عبد الباقي، سنن الدارقطني: (5 / 36) برقم: (3943)»
«قال الدارقطني: رواته مجهولون وضعفاء كلهم إلا شيخنا وابن عبد الباقي، سنن الدارقطني: (5 / 36) برقم: (3943)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
الرواة الحديث:
إبراهيم بن عبيد الله الأنصاري ← عبادة بن الصامت الأنصاري