سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
1. أَوَّلُ كِتَابِ الطَّلَاقِ وَغَيْرِهِ
طلاق، خلع، ایلاء، وغیرہ کے بارے میں روایات
ترقیم العلمیہ : 3907 ترقیم الرسالہ : -- 3973
نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ ، نَا يَحْيَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْجُرَيْرِيُّ ، نَا حُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْجُرَيْرِيُّ ، نَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ، نَا عَمْرُو بْنُ شِمْرٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ مُسْلِمٍ ، وَإِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الأَعْلَى ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ ، قَالَ: لَمَّا مَاتَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، جَاءَتْ عَائِشَةُ بِنْتُ خَلِيفَةَ الْخَثْعَمِيَّةُ امْرَأَةُ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ ، فَقَالَتْ لَهُ: لِتَهْنِكَ الإِمَارَةَ، فَقَالَ لَهَا: تُهَنِّينِي بِمَوْتِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ، انْطَلِقِي فَأَنْتِ طَالِقٌ، فَتَقَنَّعْتُ بِثَوْبِهَا، وَقَالَتِ: اللَّهُمَّ إِنِّي لَمْ أُرِدْ إِلا خَيْرًا فَبَعَثَ إِلَيْهَا بِمُتْعَةٍ عَشَرَةِ آلافٍ وَبَقِيَّةَ صَدَاقِهَا فَلَمَّا وُضِعَ بَيْنَ يَدَيْهَا بَكَتْ، وَقَالَتْ: مَتَاعٌ قَلِيلٌ مِنْ حَبِيبٍ مُفَارِقٍ، فَأَخْبَرَهُ الرَّسُولُ، فَبَكَى، وَقَالَ:" لَوْلا أَنِّي أَبَنْتُ الطَّلاقَ لَهَا لَرَاجَعْتُهَا، وَلَكِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" أَيُّمَا رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلاثًا عِنْدَ كُلِّ طُهْرٍ تَطْلِيقَةً، أَوْ عِنْدَ رَأْسِ كُلِّ شَهْرٍ تَطْلِيقَةً، أَوْ طَلَّقَهَا ثَلاثًا جَمِيعًا، لَمْ تَحِلَّ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ" .
سوید بن غفلہ بیان کرتے ہیں: جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا، تو عائشہ بنت خلیفہ خثعمیہ، جو سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کی اہلیہ تھی، انہوں نے سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ سے کہا: ”آپ کو امیر المؤمنین بننا مبارک ہو۔“ تو سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: ”تم امیر المؤمنین (یعنی سیدنا علی رضی اللہ عنہ) کی شہادت پر مجھے مبارک باد دے رہی ہو، چلی جاؤ، تمہیں طلاق ہے۔“ اس عورت نے (روتے ہوئے) اپنا کپڑا منہ پر رکھا اور بولی: ”اے اللہ! میرا مقصد تو صرف بھلائی تھا (یعنی میرا یہ ارادہ نہیں تھا)۔“ بعد میں سیدنا امام حسن نے متاع کے طور پر اس خاتون کو دس ہزار درہم یا دینار اور مہر کا بقیہ حصہ بھجوایا، جب یہ چیزیں اس کے سامنے رکھی گئیں، تو وہ رو پڑی اور بولی: ”جدا ہو جانے والے محبوب کے مقابلے میں یہ سب کچھ بہت تھوڑا ہے۔“ جب قاصد نے سیدنا امام حسن کو اس بارے میں بتایا، تو انہوں نے فرمایا: ”اگر میں نے طلاق کو اس عورت کے لیے ثابت نہ کیا ہوتا، تو اس سے رجوع کر لیتا، لیکن میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: جو شخص اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے، یوں کہ ہر طہر میں ایک طلاق دے یا ہر مہینے میں ایک طلاق دے یا تین طلاقیں ایک ساتھ دے دے، تو وہ عورت اس شخص کے لیے اس وقت تک حلال نہ ہو گی، جب تک دوسرے شخص سے شادی کر کے (مطلقہ یا بیوہ) نہ ہو جائے۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره/حدیث: 3973]
ترقیم العلمیہ: 3907
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 1763، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 14517، 14518، 14607، 15080، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3972، 3973،وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 19034»
الرواة الحديث:
Sunan al-Daraqutni Hadith 3973 in Urdu
سويد بن غفلة الجعفي ← الحسن بن علي الهاشمي