سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
1. أول كتاب الطلاق وغيره
طلاق، خلع، ایلاء، وغیرہ کے بارے میں روایات
ترقیم العلمیہ : 3906 ترقیم الرسالہ : -- 3972
نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْقَطَّانُ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْهَيْثَمِ صَاحِبُ الطَّعَامِ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، نَا سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي قَيْسٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الأَعْلَى ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ ، قَالَ: كَانَتْ عَائِشَةُ الْخَثْعَمِيَّةُ عِنْدَ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَلَمَّا أُصِيبَ عَلِيٌّ وَبُويِعَ الْحَسَنُ بِالْخِلافَةِ، قَالَتْ: لِتَهْنِكَ الْخِلافَةَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، فَقَالَ: يُقْتَلُ عَلِيٌّ وَتُظْهِرِينَ الشَّمَاتَةَ، اذْهَبِي فَأَنْتِ طَالِقٌ ثَلاثًا، قَالَ: فَتَلَفَّعَتْ نِسَاجَهَا وَقَعَدَتْ حَتَّى انْقَضَتْ عِدَّتُهَا، وَبَعَثَ إِلَيْهَا بِعَشَرَةِ آلافٍ مُتْعَةً وَبَقِيَّةً بَقِيَ لَهَا مِنْ صَدَاقِهَا، فَقَالَتْ: مَتَاعٌ قَلِيلٌ مِنْ حَبِيبٍ مُفَارِقٍ، فَلَمَّا بَلَغَهُ قَوْلُهَا بَكَى وَقَالَ: لَوْلا أَنِّي سَمِعْتُ جَدِّي، أَوْ حَدَّثَنِي أَبِي ، أَنَّهُ سَمِعَ جَدِّي، يَقُولُ:" أَيُّمَا رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلاثًا مُبْهَمَةً أَوْ ثَلاثًا عِنْدَ الإِقْرَاءِ، لَمْ تَحِلَّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ لَرَاجَعْتُهَا" .
سوید بن غفلہ بیان کرتے ہیں: عائشہ خثعمیہ نامی ایک خاتون سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما کی اہلیہ تھی، جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا اور سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کر لی گئی، تو اس خاتون نے کہا: ”امیر المؤمنین! آپ کو خلافت مبارک ہو۔“ تو امام حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا ہے اور تم مبارک باد دے رہی ہو، جاؤ، تمہیں تین طلاقیں ہیں۔“ راوی بیان کرتے ہیں: اس عورت نے اپنی چادر لپیٹ لی، یہاں تک کہ جب اس کی عدت پوری ہو گئی، تو سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ نے اس خاتون کو اس کا بقیہ مہر اور اس کے ساتھ دس ہزار (درہم یا دینار) متاع کے طور پر بھجوائے، تو وہ عورت بولی: ”جدا ہو جانے والے محبوب کے مقابلہ میں یہ سامان بہت تھوڑا ہے۔“ جب سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کو اس بارے میں بتایا گیا، تو وہ رو پڑے اور فرمایا: ”اگر میں نے اپنے نانا کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا (راوی کو شک ہے، شاید یہ الفاظ ہیں)، میرے والد (سیدنا علی رضی اللہ عنہ) نے یہ مجھے حدیث سنائی ہے، انہوں نے میرے نانا (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: جو شخص اپنی بیوی کو تین مبہم طلاقیں دے (راوی کو شک ہے، شاید یہ الفاظ ہیں)، جو شخص اپنی بیوی کو تین قروء (یعنی تین طہر) کے وقت تین طلاقیں دے دیں، تو وہ عورت اس کے لیے اس وقت تک حلال نہیں ہو گی، جب تک وہ دوسری شادی کر کے مطلقہ یا بیوہ نہ ہو جائے۔“ (امام حسن فرماتے ہیں:) تو میں اس سے رجوع کر لیتا۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره/حدیث: 3972]
ترقیم العلمیہ: 3906
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 1763، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 14517، 14518، 14607، 15080، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3972، 3973، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 12256، 12257، 12260، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 19034»
الرواة الحديث:
الحسن بن علي الهاشمي ← علي بن أبي طالب الهاشمي