سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
1. أَوَّلُ كِتَابِ الطَّلَاقِ وَغَيْرِهِ
طلاق، خلع، ایلاء، وغیرہ کے بارے میں روایات
ترقیم العلمیہ : 3916 ترقیم الرسالہ : -- 3982
نَا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، نَا حَبَّانُ ، أنا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، أنا الزُّبَيْرُ بْنُ سَعِيدٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ ، قَالَ: كَانَ جَدِّي رُكَانَةُ بْنُ عَبْدِ يَزِيدَ " طَلَّقَ امْرَأَتَهُ الْبَتَّةَ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" إِنِّي طَلَّقْتُ امْرَأَتِي الْبَتَّةَ، فَقَالَ: مَا أَرَدْتَ؟، فَقَالَ: أَرَدْتُ وَاحِدَةً، قَالَ: آللَّهِ؟، قَالَ: آللَّهِ، قَالَ: فَهِيَ وَاحِدَةٌ" ، خَالَفَهُ إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ.
عبداللہ بن علی بیان کرتے ہیں: میرے دادا سیدنا رکانہ بن عبد یزید رضی اللہ عنہ نے اپنی اہلیہ کو طلاق بتا دی، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: ”میں نے اپنی بیوی کو طلاق بتا دی ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”(ان الفاظ کے ذریعے) تم نے کیا مراد لیا تھا؟“ انہوں نے عرض کی: ”میں نے ایک طلاق مراد لی تھی۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا اللہ کی قسم؟“ انہوں نے عرض کی: ”اللہ کی قسم!“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر یہ ایک (طلاق شمار) ہو گی۔“ اسحاق بن اسرائیل نے اس کے برخلاف روایت نقل کی ہے (جو درج ذیل ہے)۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره/حدیث: 3982]
ترقیم العلمیہ: 3916
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه ابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4274، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2823، 2824، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2206، 2208، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1177، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2051، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3978، 3979، 3980، 3981، 3982، 3983، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 24471، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18437، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 4612»
«ضعيف مضطرب، تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: (2 / 209)»
«ضعيف مضطرب، تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: (2 / 209)»
الحكم على الحديث:
إسناده ضعيف
الرواة الحديث:
Sunan al-Daraqutni Hadith 3982 in Urdu
عبد الله بن علي القرشي ← ركانة بن عبد يزيد القرشي