سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
1. أول كتاب الطلاق وغيره
طلاق، خلع، ایلاء، وغیرہ کے بارے میں روایات
ترقیم العلمیہ : 3924 ترقیم الرسالہ : -- 3990
نَا نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى. ح وَنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي الثَّلْجِ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ حَمَّادٍ الطِّهْرَانِيُّ . ح وَنا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالُوا: نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنِي عَمِّي وَهْبُ بْنُ نَافِعٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ عِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ :" الطَّلاقُ عَلَى أَرْبَعَةِ وُجُوهٍ: وَجْهَانِ حَلالٌ، وَوَجْهَانِ حَرَامٌ، فَأَمَّا اللَّذَانِ هُمَا حَلالٌ: فَأَنْ يُطَلِّقَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ طَاهِرًا عَنْ غَيْرِ جِمَاعٍ، أَوْ يُطَلِّقَهَا حَامِلا مُسْتَبِينًا حَمْلُهَا، وَأَمَّا اللَّذَانِ هُمَا حَرَامٌ: فَأَنْ يُطَلِّقَهَا حَائِضًا، أَوْ يُطَلِّقَهَا عِنْدَ الْجِمَاعِ لا يَدْرِي أَشْتَمَلَ الرَّحِمُ عَلَى وَلَدٍ أَمْ لا؟" ، لَفْظُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”طلاق کے چار طریقے ہیں، ان میں سے دو طریقے حلال ہیں، اور دو طریقے حرام ہیں، جہاں تک دو حلال طریقوں کا تعلق ہے، تو وہ یہ کہ آدمی اپنی بیوی کو اس کے طہر کے عالم میں، اس کے ساتھ صحبت کیے بغیر طلاق دے یا وہ اپنی بیوی کو اس وقت طلاق دے، جب وہ عورت حاملہ ہو اور اس کا حمل واضح ہو، جہاں تک ان دو طریقوں کا تعلق ہے، جو حرام ہیں، تو وہ یہ کہ آدمی اپنی بیوی کو اس کے حیض کے دوران طلاق دے دے، یا اس کے ساتھ صحبت کرنے کے بعد اسے طلاق دے دے، جس میں یہ پتہ نہ چل سکے (اس صحبت کے نتیجے میں) حمل قرار پایا ہے یا نہیں۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره/حدیث: 3990]
ترقیم العلمیہ: 3924
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 15028، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3890، 3990، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 10930، 10950»
الرواة الحديث:
عبد الرزاق بن همام الحميري ← عبد الله بن العباس القرشي