سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
1. أول كتاب الطلاق وغيره
طلاق، خلع، ایلاء، وغیرہ کے بارے میں روایات
ترقیم العلمیہ : 3948 ترقیم الرسالہ : -- 4015
نَا أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ مَنِيعٍ، نَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ خُرَيْقٍ، عَنْ عَطَاءٍ،" فِي رَجُلٍ قَالَ لامْرَأَتِهِ: أَنْتِ عَلَيَّ حَرَامٌ، أَوْ أَنْتِ طَالِقٌ الْبَتَّةَ، أَوْ أَنْتِ طَالِقٌ طَلاقَ حَرَجٍ، قَالَ: أَمَّا قَوْلُهُ أَنْتِ عَلَيَّ حَرَامٌ فَيَمِينٌ يُكَفِّرُهَا، وَأَمَّا قَوْلُهُ الْبَتَّةَ، وَطَلاقُ حَرَجٍ فَيَدِينُ فِيهِ" .
عطاء فرماتے ہیں: ”جو شخص اپنی بیوی سے یہ کہے: تم مجھ پر حرام ہو، تمہیں طلاق بتا ہے، تمہیں حرج والی طلاق ہے، جہاں تک اس کے یہ کہنے کا تعلق ہے: تم مجھ پر حرام ہو، تو یہ قسم ہے، جس کا وہ شخص کفارہ ادا کرے گا، (یہ طلاق نہیں ہے)، جہاں تک لفظ، طلاق بتا، یا طلاق حرج، استعمال کرنے کا تعلق ہے، تو اس بارے میں اس کی نیت کا اعتبار ہو گا۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره/حدیث: 4015]
ترقیم العلمیہ: 3948
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 1688، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4015، 4058، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 11357، 11489، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18501»